.

حکیم اللہ محسود کے بعد

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاف کیجئے لیکن حکیم اللہ محسود کے معاملے پر حکومتی احتجاج سیاست بازی کے سوا کچھ نہیں۔سیاست ہے اور پہلی بار چوہدری نثار علی خان نے ایسی زبردست سیاست کھیل دی کہ عمران خان کی طالبان سے مذاکرات کی سیاست کو دفن کر دیا (ایک روز قبل تک تحریک انصاف کہہ رہی تھی کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،وقت ضائع کررہی ہے اور جلد پختونخوا حکومت طالبان سے خود مذاکرات کا آغاز کرے گی لیکن چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان صاحب نے فرمایا کہ چوہدری نثار علی خان نے اخلاص کے ساتھ کام کیا تھا۔ اگلے روز مذاکرات شروع ہونے تھے لیکن ڈرون نے کام خراب کردیا)۔ کہتے ہیں کہ امریکہ نے سازش کی حالانکہ سازش خفیہ طریقے سے کی جاتی ہے،تو کیا امریکہ نے میاں نوازشریف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مزید ڈرون حملے نہیں کرے گا؟نہیں۔

میاں نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد بھی اسی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ ہوا تھا، اس میں بھی لوگ مرے تھے تب حکومت پاکستان نے یہ شدید ردعمل ظاہر کیوں نہیں کیا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر اور حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ نے پانچ کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ کیا حکومت نے یہ فیصلہ واپس لےلیا تھا؟نہیں، بلکہ جس وقت وہ مارے گئے اس وقت بھی ان کے سر کی یہ قیمت مقرر تھی۔ کیا طالبان کے ساتھ جنگ بندی ہوئی تھی؟نہیں، بلکہ جب میجر جنرل ثناء اللہ کو نشانہ بنا کر طالبان نے ذمہ داری قبول کی تو ان سے سوال کیا جاتا رہا کہ اس سے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔ طالبان جواب دیتے کہ ہمارے ساتھ نہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ جنگ بندی ہوئی ہے۔

کیا واقعی مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا تھا؟ نہیں،کیونکہ دوسرے فریق (طالبان) کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے حکیم اللہ محسود کے خلاف کارروائی کے دن کی صبح بھی یہ بیان جاری کیا تھا کہ ان کے ساتھ حکومت کی طرف سے کسی نے رابطہ نہیں کیا گیا۔ اگر حکومتی دعویٰ درست ہے تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ شمالی وزیرستان بھجوائے جانے والے مذاکرات کار کون تھے اور طالبان کے کس لیڈر سے ان کی کوآرڈینیشن ہوئی تھی۔ نہ جانے ہمارے پالیسی سازوں اور حکمرانوں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ آج پاکستان کے دہشتستان بننے کی اصل وجہ منافقت ‘ جھوٹ اور تضادات پر مبنی پالیسیاں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ قوم کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے،ان معاملات کو خفیہ رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک بھیانک کنفیوژن کی فضا بن گئی ہے۔ یہ قوم کی زندگی اور موت کے معاملات ہیں لیکن ان کو ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔ سچ بولنے کے بجائے اس سے سیاست اور صحافت چمکائی جاتی رہی۔ ہمارے پالیسی سازوں نے اپنے گماشتوں کو لگارکھا تھا جو قوم کو یہ باور کرارہے تھے کہ بیت اللہ محسود امریکی ایجنٹ ہیں ۔ تب طعنے دیئے جارہے تھے کہ امریکی انہیں ڈرون کا نشانہ کیوں نہیں بناتے۔ جب انہیں نشانہ بنایا گیا تو پھر حکیم اللہ محسود کے بارے میں یہ مشہور کردیا کہ وہ امریکی ایجنٹ ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو افغان طالبان کی جنگ کو تو حق بجانب قرار دے رہے ہیں لیکن حکیم اللہ محسود جو ملامحمد عمر کو اپنا امیرالمومنین مانتے تھے‘ کو امریکہ اور ہندوستان کا ایجنٹ قرار دیتے تھے۔

شاید صحافت میں اس عاجز کی تنہا آواز تھی جو متوجہ کرتی رہی کہ یقینا افغان طالبان پاکستان میں خود کارروائیاں نہیں کرتے لیکن پاکستانی طالبان اپنے آپ کو ان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تکنیکی طور پر اور کارروائیوں کے لحاظ سے بعدالمشرقین ہو سکتا ہے لیکن نظریاتی اور سماجی طور پر افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہیں۔ میں سوال اٹھاتا تھا کہ اگر پالیسی سازوں کے ترجمانوں اور قوم کو کنفیوژ کرنے والے سیاستدانوں کا موقف درست ہے تو پھر افغان طالبان کا ایک بیان دکھایا جائے کہ جس میں انہوں نے پاکستانی طالبان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہو لیکن مجھے جواب دیا جاتا کہ میں ان کو افغانی طالبان کا پاکستانی طالبان کے حق میں بیان دکھا دوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ حکیم اللہ محسود کے خلاف کارروائی کے بعد افغان طالبان نے اپنی پوزیشن خود واضح کر دی۔ اس واقعے پر افغان طالبان کے ترجمان نے سرکاری سطح پر جو اعلامیہ جاری کیا ہے‘ اسے یہاں من وعن نقل کررہا ہوں لیکن اس سے قبل یہ واضح کرتا چلوں کہ گزشتہ گیارہ سال کے دوران پاکستانی طالبان سے متعلق یہ پہلا بیان ہے۔ ملامحمد عمر اخوند کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 2 نومبر کو جاری کردہ یہ بیان اردو‘ پشتو‘ انگریزی اور عربی زبانوں میں ای میل کے ذریعے بھی میڈیا کو ارسال کیا ہے اور اسے افغان طالبان کے ویب سائٹ پر بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

ملاحکیم اللہ محسود کی شہادت کے بارے میں امارت اسلامیہ کا اعلامیہ
نہایت المناک خبر ملی ہے کہ جمعہ کے روز (یکم نومبر 2013ء) کو شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے غیور قائد اور دلیر مجاہد ملاحکیم اللہ محسود امریکی بزدلانہ حملے میں شہید ہوئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔

امریکہ کے اس وحشت ناک عمل کی امارت اسلامیہ افغانستان شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ملاحکیم اللہ محسود کی شہادت کو عظیم زیاں تصور کرتی ہے اور اسی وجہ سے موصوف شہید کے خاندان‘ رشتہ داروں اور تمام ہمسفر ساتھیوں کو دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتی ہے۔ شہادت مسلمانوں کا سب سے عظیم مقصد اور بڑی آرزو ہے۔ مجاہدین کو شہید کرنے سے امریکی اپنے مذموم مقاصد کے حصول تک پہنچ نہیں سکتے۔ ایک عشرے سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے کہ امریکی وحشی افواج نے ہمارے ملک اور قبائلی سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر خواتین‘ بچوں‘ بوڑھوں اور عام شہریوں کا قتل عام شروع کیا ہے اور اغیار کے متعدد ایجنٹ تماشا کر رہے ہیں اور اس کے بارے میں کسی قسم کا عملی اور حقیقی ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔ امارات اسلامیہ حکومت پاکستان اور عوام کو بتاتی ہے کہ امریکی استعمار کی اس نوعیت کی جارحیت اور وحشی حملوں کے سدباب کے لئے ہر وقت سے زیادہ کوشش کریں تاکہ افغانستان اور پاکستان کے مظلوم عوام جنہیں اس طرح کی وحشتوں کا سامنا ہے ‘ امریکی شر سے بچ کر خود ہی اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔

امارت اسلامیہ افغانستان
28 ذوالحجہ 1434ء
2 نومبر 2013ء‘‘

مجھے یقین ہے کہ گزشتہ گیارہ سال کے دوران مجھ جیسے عاجزوں پر ملک دشمنی کے فتوے لگانے والے اور افغان طالبان کو پاکستانی طالبان سے یکسر متضاد اکائی ثابت کرنے والے سابق فوجی دانشور اور سیاست و صحافت میں موجود پالیسی سازوں کے ترجمان اب بھی نہ شرمندہ ہوں گے اور نہ قوم کو کنفیوز کرنے پر معافی مانگیں گے۔ اب وہ نئے مفروضوں‘ نئی افواہوں اور نئی سازشی تھیوریز کے ساتھ میدان میں کودیں گے لیکن جہاں تک اپنا تجزیہ ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حکیم اللہ محسود کے منظر سے ہٹ جانے کی وجہ سے طالبان کو غیرمعمولی فائدہ ہوگا۔ ایک تو انہیں نوجوانوں کے جذبات کو مہمیز لگانے کیلئے ایک نیا شہید مل گیا۔

غازی عبدالرشید ‘ مولانا نیک محمد اور بیت اللہ محسود کے ساتھ اب نئی نسل کو حکیم اللہ محسود کی صورت طالبان کو نیا ہیرو شہید مل گیا۔ حکیم اللہ محسود کی بعض سرگرمیوں اور افغان حکومت کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے روابط کی وجہ سے پاکستانی اور افغان طالبان کے درمیان فاصلے پیدا ہو رہے تھے لیکن افغان طالبان کے ردعمل نے ثابت کردیا کہ نہ صرف وہ فاصلے کم ہوں گے بلکہ اب مزید قربت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح حکیم اللہ محسود کے بعض رجحانات کی وجہ سے پاکستانی طالبان کے صفوں میں بھی اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ان کے دست راست لطیف اللہ محسود کی امریکیوں کے ہاتھوں ایسے وقت میں گرفتاری کہ وہ افغان انٹیلی جنس کے ساتھ تھے ‘نے افغان حکومت کے ساتھ ان کے روابط کو آشکار کردیا تھا اور تحریک طالبان پاکستان کے اکثر رہنما اس پر شدید برہم تھے ۔مولانا عصمت اللہ معاویہ اور اسی نوع کے بعض لوگ راستے الگ کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن اب وہ سب اختلافات ختم ہوتے نظر آرہے ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ ایسے امیر کا تقرر کیا جائے گا کہ جس پر سب دھڑے متفق ہوں۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.