.

طالبان ،امریکہ اور ہمارا مخمصہ

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ بعض اخبارات نے حکیم اللہ محسود کو جاں بحق لکھا ہے مگر شہید کسی نے قرار نہیں دیا حالانکہ ڈرون حملوں میں مرنے والے پاکستانیوں کو شہید ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ حسب سابق لبرلز اور قدامت پسندوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ کرب کی گھڑی ہے یا جشن طرب کا سماں۔ایک طرف صف ماتم بچھی ہے تو دوسری جانب خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ میرے خیال میں کوئی فتویٰ صادر کرنے کے بجائے یہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہئے۔ اس بحث سے قطع نظر مجھے تو یہ ملال ہے کہ طالبان کمانڈر کے ساتھ ہی وہ نومولود بچہ بھی شہید ہو گیا جس کا نام ہم نے مذاکرات رکھا تھا۔ یہ ڈرون حملہ کسی طالبان کمانڈر پر کیا گیا ہوتا تو شاید اس قدر اشتعال سامنے نہ آتا مگر اس بار تو ڈرون کا نشانہ مذاکرات نامی وہ طفل کوکب تھا جس نے حکمت و تدبر کی کوکھ سے جنم لیا۔

میرے ہم عصر کالم نگار جو سازشی تھیوریوں سے الرجک ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ بیت اللہ محسود ہو، ولی الرحمٰن یا حکیم اللہ محسود، یہ سب ہمارے دشمن تھے، انہوں نے ہمارے ملک کو تاراج کیا،ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کو قتل کیا، اگر ہم خود اپنے خون کا بدلہ نہیں لے سکے تو کم از کم اپنے قاتلوں کے مارے جانے پر افسوس کا اظہار تو نہ کریں۔ڈرون حملے سے ہماری خود مختاری ضرور متاثر ہوئی مگر ہمیں تو امریکہ کا احسان مند ہونا چاہئے کہ اس نے ہمارے دشمن کو مار دیا۔مگر مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ اگر یہ سب ہمارے دشمن تھے تو انہیں امریکہ کیوں مار رہا ہے؟ امریکہ نے دہشت گردی کرنے والے تامل ٹائیگرز پر ڈرون حملے کیوں نہ کئے؟ امریکہ نے شام میں تباہی پھیلانے والے جنگجوئوں پر میزائل کیوں نہیں برسائے؟ میرے یہ دوست ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ارے او عقل کے اندھو! (کیوں کہ جو ان کے انداز فکر سے اتفاق نہ کرے وہ عقل سے بے بہرہ ہی متصور ہوتا ہے اور یہی ان کا طرز تخاطب ہے) امریکہ کو وہاں مداخلت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہاں تو امریکہ اس لئے ہماری مدد کو آ رہا ہے کہ ہمارا اور اس کا دشمن مشترکہ ہے۔

اگر یہ توجیہ درست تسلیم کر لی جائے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ان لبرلز نے پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے جو سازشی تھیوری گھڑی تھی کہ ہم امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کر رہے ہیں وہ سرا سر بے بنیاد ہے یعنی اچھے اور برے طالبان کی کوئی تخصیص نہیں،سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے مقاصد اور اہداف ایک ہی ہیں اور منافقت کا طعنہ دینے والوں کو اپنے الفاظ واپس لینا چاہئیں؟اور اگر اچھے برے طالبان کی یہ تھیوری درست تھی تو پھر مان لینا چاہئے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔طالبان کو تو شاید اس واقعے سے کوئی خاص فرق نہ پڑے کہ مولوی فضل اللہ ،عمر خراسانی اور خان سجنا میں سے کسی ایک کے امیر بن جانے کے بعد ان کی گوریلا جنگ پہلے سے زیادہ تباہ کن ہو جائے گی مگر پاکستان ایک بار پھر اس آگ میں جھلستا نظر آئے گا جس میں ہم اپنا سب کچھ تیاگ چکے ہیں۔ ایک طرف عمران خان کو اپنی سیاست بچانے کے لئے نیٹو سپلائی روکنا پڑے گی اور پاک امریکہ تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو جائیں گے تو دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

حکومتی ترجمان پرویز رشید فرماتے ہیں مذاکرات کو ڈرون حملے میں ہلاک نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے اس بیان کو سادگی کہیں، بھولپن یا کچھ اور مگر حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات زندہ درگور ہو چکے، اب انہیں زندہ کرنے کا دعویٰ سن کر مجھے وہ امریکی وکیل یاد آ رہا ہے جس نے عدالت میں سرجن سے سوالات کرتے ہوئے کہا کہ تم نے پوسٹ مارٹم کرنے سے پہلے اس شخص کی نبض چیک کی تھی ،بلڈ پریشر چیک کیا تھا؟ سرجن نے کہا،نہیں۔وکیل نے پوچھا پھر آپ نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ وہ مردہ ہے؟ سرجن نے کہا، اس لئے کہ اس کا دماغ میرے سامنے ایک جار میں مردہ پڑا تھا۔ وکیل نے حسب عادت بات بڑھاتے ہوئے کہا،یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کے باوجود وہ شخص زندہ ہو؟ سرجن نے کہا، ہاں ہو سکتا ہے وہ شخص زندہ ہو اور عدالت میں کسی کے ساتھ بحث کر رہا ہو...عقل یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ حکومت پاکستان کے تعاون اور رضامندی کے بغیر ڈرون حملہ ہو اور ہدف حاصل کر لیا جائے۔ہدف کی نشاندہی زمین سے ہی کی جاتی ہے، کسی شکیل آفریدی کے بغیر حکیم اللہ محسود کو قتل کرنا ممکن نہ تھا۔

اگر حسب سابق اس حملے کے لئے انٹیلی جنس ہمارے اداروں نے فراہم کی ہے تو خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری گئی ہے اور اگر سمندر پار بیٹھے ایک ملک نے ہمارے شکار کو جھپٹ لیا ہے اور ہم اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں تو پھر یہ بھی ہمارے لئے شرمندگی کی بات ہے لیکن کس کس بات پر ڈوب مریں؟ میاں نواز شریف نے عافیہ صدیقی کو 100دنوں میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ امریکہ جا کر بھی یہ نہ کہ سکے البتہ اوباما سے ملاقات کے بعد باہر آ کر انہوں نے یہ دعویٰ ضرور کیا کہ ون ٹو ون ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے،بعد میں وائٹ ہائوس کے ترجمان نے اس دعوے کی بھی تردید کر دی مگر پھر بھی چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی نوبت نہیں آئی۔ڈرون حملوں کے بارے میں بہتر یہی ہو گا کہ اب منافقت اور دوعملی کا لبادہ اتار دیا جائے یا تو حکومت برسرعام یہ کہہ دے کہ طالبان ہمارے دشمن ہیں لہٰذا ہم اپنے اتحادی امریکہ سے ملکر ڈرون حملے کر رہے ہیں یا پھر ڈرون گرانے کا حکم دیا جائے۔ ہاں اگر ہم ڈرون گرانے کی استعداد نہیں رکھتے اور اپنے ملک کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں تو یہ سچائی بھی کھول کر بیان کر دی جائے تاکہ ہم اپنی ڈکشنری سے قومی سلامتی اور خود مختاری جیسے الفاظ کُھرچ ڈالیں۔اگر ہمارے پاس ڈرون مار گرانے والی ٹیکنالوجی بھی ہے اور یہ حملے ہماری منشا و مرضی کے خلاف ہو رہے ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے؟یہی کہ امریکہ ہمیں برباد کر دے گا۔تکلف برطرف اس سے بڑھ کر بربادی کیا ہو گی؟آج کونسا دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں کہ امریکی ڈرون گرا دیئے جانے پر بند ہو جائیں گی۔میں نے تو آج تک کسی سے نہیں سنا کہ کبھی کسی بدمعاش نے منت سماجت کرنے پر کسی شریف آدمی کے گھر دیوار کود کر آنا چھوڑ دیا ہو۔

اب وقت آ گیا ہے کہ سب سازشی تھیوریاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دی جائیں یا پھر انہیں سچ تسلیم کر لیا جائے یا تو امریکہ کے ساتھ ملکر طالبان کے خلاف جنگ لڑ لیں اور غیرت کو تین طلاقیں دے ڈالیں یا پھر امریکہ سے خلع لیکر ڈرون مار گرائیں اور طالبان سے ہاتھ ملائیں۔یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی پالیسی مزید نہیں چل سکتی۔مولانا سمیع الحق نے طالبان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ وہ شلوار ہے جسے اتار کر پھینک دیں تو سب کچھ برہنہ ہوتا ہے اور پہنے رہیں تو سب جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔میرا خیال ہے ہم طالبان اور امریکہ دونوں کے معاملے میں ابھی تک اسی مخمصے کا شکار رہے ہیں کہ اس شلوار کو اتار پھینکیں یا پہنے رہیں۔ بات بہت سیدھی اور سادی ہے کہ اس شلوار کو پہنے رکھیں تب بھی ایک وقت ایسا آئے گا جب سب جل جائے گا اور برہنہ ہونا پڑے گا تو کیوں نہ ہم ابھی سے برہنگی گورا کر لیں اور اپنا تن مزید جلانے سے بچ جائیں؟شلواریں دو ہیں ،ایک طالبان اور دوسری امریکہ، ان میں سے ایک شلوار تو اب بہرصورت اتار کر پھینکنی ہو گا وگرنہ دونوں شلواریں جلتے ہوئے سارا جسم خاکستر کر دیں گی۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.