.

معاشی یا کاغذی شیر

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی اہم کتاب وضاحت کرتی ہے کہ کیونکر مشرقی ایشیاء میں کچھ ملک معاشی شیر بن گئے جبکہ دیگر اس امر میں قدرے ناکام رہے یا محض کاغذی شیروں کی حد تک محدود رہے۔ جو اسٹڈ ویل کی کتاب ’ہاؤ ایشیاء ورکس‘ ایک بردبار اور بصیرت انگیز تحریر ہے اور جو لوگ اس براعظم میں معاشی کامیابی کی جزیات کو سمجھنا چاہتے ہیں انہیں لازمی طور پر اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ کتاب ترقی کے حوالے سے روایتی دانشمندی کی بحث کو چیلنج کرتی ہے۔ بلکہ زیادہ اہمیت کے ساتھ یہ کتاب نام نہاد’واشنگٹن اتفاق رائے‘ کے کلیدی اصولوں پر سوال اٹھاتی ہے جس میں ملکوںکی ترقی کی سطحوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آزاد تجارت کو تمام معیشتوں کیلئے نسخہ کیمیا گردانا گیا ہے۔ اسٹڈویل کا موقف ہے کہ قومی ترقی کی منزل کے نتیجہ خیز ہونے کا تعین حکومتی اقدامات اور پالیسی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی منڈٰیوں کا قیام اور ان میں ردوبدل سیاسی طاقت کے بل بوتے پر ہوتا ہے۔ اسٹڈویل نے ٹھوس علمی شواہد کے ساتھ اپنا موقف غیر مبہم انداز سے پیش کیا ہے۔ کوئی بھی معیشت محض آزاد تجارتی پالیسی یا حکومت کنٹرول سے آزاد ہوکر کامیابی کے ساتھ ترقی سے ہمکنار نہیں ہوئی۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ سمیت معاشی تبدیلیوں کے تمام اطوار میں حکومت کی پیشگی مداخلت لازمی رہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے تیکنیکی معلومات اور سرمائے کا جلد حصول ہوسکا۔ یہ کتاب دو اہم نکات پر دلالت کرتی ہے، پہلی، مشرقی ایشیاء اور چینی تاریخ کے جھروکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں تک ایشیائی معجزے کی بات ہے تو خطے کے ممالک نے مختلف خطوط مستدیر اور پالیسیاں اپنائی ہیں جنھوں نے قدرے مختلف نتائج مرتب کیے، شمال مشرقی ایشیائی ریاستوں نے غیر معمولی ترقی اور خوشحالی حاصل کی جبکہ جنوب مشرقی ایشیائی ریاستیں پیچھے رہ گئیں کیونکہ انہوں نے کثیرالقومی مالی اداروں سے غلط مشورے لیے اور یہ تاریخ سے سبق سیکھنے میں ناکام رہیں۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان سب ہی کامیاب معیشتوں کی مثالیں ہیں جبکہ فلپائن، تھائی لینڈ، اور انڈونیشیا، ابتداء میں معاشی ترقی کرنے کے باوجود تنرلی کی راہ پر گامزن ہوکر شمال مشرقی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں غریب رہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ کتاب میں ’ترقی کی معاشیات‘ اور ’اہلیت کی معاشیات‘ میں تفریق وضع کی گئی ہے۔ پہلی قسم تعلیمی عمل کی طرح ہے جس میں غریب قومیں تیکنیکی گنجائش اور معقول انسانی سرمائے سے عاری ہوتی ہیں اور عالمی سطح پر مسابقت کیلئے ضروری صلاحیتیں حاصل کرتی ہیں۔ اس کیلئے سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جو ریاست کی مداخلت سے ہی میسر آتی ہے جو کہ اسے نگہداشت، تحفظ اور ساتھ ہی مسابقت فراہم کرتی ہے۔ تاہم بعدازاں ریاستیں منافع کے حصول کیلئے ترقی کی معاشیات میں تبدیل ہوگئیں اور اسکے لئے ریاست کی معیشت میں کم مداخلت اور تجارتی منڈیوں کو کسی حد تک آزاد کرنا ہوتا ہے۔ اس سے مصنف کی مرکزی دلیل ابھرکر سامنے آتی ہے کہ معاشی ترقی مرحلہ وار کھیل ہے جس میں ترقی کے مختلف مراحل پر مختلف پالیسیاں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ یہ دلیل ’نیو کلاسیکل معاشیات‘ کے نکتہ نظر کو چیلنج کرتی ہے جس کے تحت ہر خطے میں معاشی ترقی کیلئے ایک ہی طرز کی حکمت عملی کافی ہوتی ہے۔

مسٹر اسٹدویل نے اس دلیل کو جلا بخشنے کیلئے چین اور مشرقی ایشیاء کے مختلف تجربات پر تحقیق کی، اس دلیل نے اس اشتعال انگیز نتیجے کو جنم دیا کہ ’غریب ریاستیں صرف جھوٹ بول کر ہی امیر ہوسکتی ہیں‘ جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے عوامی سطح پر آزاد تجارت کی حمایت کا علم بلند کیا جاتا رہا لیکن انہوں نے اپنے یہاں معیشت میں ریاستی مداخلت کی پالیسیوں کو روا رکھا جو کہ معاشی ترقی کے حصول کے پہلے مرحلے میں امیر ہونے کیلئے لازمی ہیں۔ (1978) کے بعد سے اسٹڈویل نے آغاز میں ہی مشرقی ایشیائی ممالک اور چین کی جانب سے تین اہم اور کامیاب مداخلتوں کی نشاندہی کی ہے جنھیں معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے استعمال میں لایا گیا۔ پہلی مداخلت کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے اور اب یہ ترقی پذیر ممالک کے سیاسی ایجنڈے پر بھی نہیں ہے جو کہ زمینی اصلاحات ہیں۔ جس کی وجہ سے زراعت گھریلو کاشتکاری میں تبدیل ہوگئی جس میں بہت زیادہ افرادی قوت کا استعمال ہوا۔ ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ضروری ادارہ جاتی مدد سے اس سے ضرورت سے زائد پیداوار حاصل کرنے میں مدد ملی، نئی منڈیاں بنیں اور سماجی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا۔ یہ ممالک محض زراعت کے شعبے کی بنیاد پر شرح ترقی برقرار نہیں رکھ سکتے تھے اور انہیں اگلے مرحلے کی جانب بڑھنا تھا، اسی بابت ریاست کی دوسری مرتبہ مداخلت سامنے آئی جس کے تحت صنعتی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری اور کاروباری مالکان کو ہدایات دی گئیں۔

مینوفیکچرنگ سے تجارت اور تیکنیکی علوم کی راہ ہموار ہوئی اور مصنف کہتے ہیں کہ تنازعات تیزی سے معاشی ترقی کرنے کیلئے لازمی ہیں۔ پھر اسٹڈویل نے آزاد تجارت کا علم بلند کرنیوالوں کو چیلنج کرتے ہوئے وضاحت کرکے دکھائی کہ کس طرح نگہداشت اور مقامی معیشت کو تحفظ دینے کیلئے برآمدات کا شعبہ قائم کرکے ریاست کی مداخلتی پالیسی عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت کو جلابخشتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ پالیسی کامیابی کا کلیدی جزو ہے، نوزائیدہ صنعتی حکمت عملی معیشت کا نیا ڈھانچہ مرتب کرکے مزید اہم سرگرمیوں کی جانب پیش قدمی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ترقی مخصوص طور سے سیاسی ضمانت کی متقاضی ہوتی ہے، مصنف ریاست اور کاروباری مالکان کے مابین تعلق کو ایک اہم تغیر پذیرعنصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ خامہ فرسائی کرتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ حکومت کو ہر چیز خود نہیں چلانی چاہئے لیکن حکومتوں کو کاروباری مالکان سے وہ کروانے کیلئے جو صنعتی ترقی کو درکار ہے،اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔

تیزرفتار ترقی کیلئے ضروری تیسری مداخلت اقتصادی شعبے میں ہے جس کا مقصد چھوٹے پیمانے پر زراعت کے فروغ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کیلئے سرمائے کی فراہمی ہے نہ کہ خدمات کے شعبے کیلئے۔ اقتصادی پالیسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں بینکوں پر سے ریاستی پابندیوں کے خاتمے کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ دوسری جانب چین اور دیگر شمال مشرقی ایشیائی ممالک نے اسکی مزاحمت کی اور اسکے برخلاف ترقی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اور معاشی آگہی کے عمل کوفروغ دینے کیلئے مالی انتظام کاری کو اپنایا۔

سن 1997 کے ایشیائی معاشی بحران نے چین شمال مشرقی ایشیاء اور جو ممالک جنوب مشرق میں ہیں ان کی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ چین، جنوبی کوریا اور تائیوان پر اس بحران کا یا تو اثر نہیں ہوا اور اگر ہوا بھی تو انہوں نے اس پر بہت جلد قابو پاکر خود کو مستحکم پیداوار ٹیکنالوجیکل ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔لیکن انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملائشیا کی معیشتیں سمت کھوبیٹھیں اور انڈونیشیا اور تھائی لینڈ میں غربت خاصی بڑھ گئی تھی۔ اسٹڈ سمجھتے ہیں کہ ایشیائی بحران نے ثابت کیا کہ معیشت میں ان تینوں ریاستی مداخلتوں نے ممالک کے معاشی کامیابی اور ناکامی کے درمیان واضح فرق پیدا کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ چین، جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی زراعت کے شعبوں کی دوبارہ ڈھانچہ سازی کی اور اپنی جدیدیت کیلئے کی جانے والی کوششوں کو مرکز نگاہ مینوفیکچرنگ بنایا اور اپنے مالی نظام کو ان دو مقاصد کیلئے وقف کردیا۔

لیکن جنوب مشرقی ایشیاء کی ریاستوں میں ایسا نہ ہوا، یہاں واقعی کوئی زمینی اصلاحات کی گئیں اور نہ عالمی مقابلے کی مینوفیکچرنگ کمپنی بنائی گئی۔ جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی سے عاری کہلانے والے ممالک کو فنڈ ختم ہوجانے کے بعد سے پیچھے جاناپڑا۔اس پس منظر میں مصنف افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ زمینی اصلاحات تبدیلی کا انجن ہوتی ہیں، لیکن آج امیر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے دی جانے والی ترقی کے مشوروں میں اس کا ذکر تک نہیں کیا جاتا اور پاکستان کا بھی اس کتاب میں ذکر ہوا۔ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جہاں زمینی عدم مساوات اور زرعی غیرفعالی اس ملک کے معاشی اور سیکورٹی کا مرکز ہے۔کتاب میں بھارت کا ذکر نہیں ہوا، لیکن اس کاذکر اس صورت میں ہے جب مصنف نے اس کہانی کو چیلنج کیا کہ غریب ممالک صنعت کے شعبے کو فروغ دے کر ترقی کرسکتے ہیں۔

اسٹڈ ویل کو یقین ہے کہ یہ سوچنا غلط ہوگا کہ بھارت کا دکھاوے کا حامل آئی ٹی کا شعبہ جس میں اسکی افرادی قوت کا ایک بہت چھوٹا حصہ ملازمت حاصل کیے ہوئے ہے، وہ مینوفیکچرنگ کی بنیاد پر ہونیوالی ترقی کا نعم البدل ہے۔ ایسی کوئی صورت نہیں بنگلور کی آئی ٹی کمپنیاں اور ممبئی کے مالی شعبےپر گرفت رکھنے والا اونچا طبقہ بھارت کو اس قسم کی ترقی سے ہمکنار کرے گا جو کہ چین، جاپان اور کوریا میں دیکھنے میں آئی۔ کتاب میں معاشی شعبے میں زیادہ تر تین حکومتی مداخلتوں کاذکر ہے لیکن مصنف نے زور دیا ہےکہ یہ ملکوں کیلئے ترقی کی ایک مخصوص حد تک معاون ہوتی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پالیسیاں مسائل کھڑے کرتی ہیں اور انہیں تبدیل کرنا پڑتا ہے کیونکہ ممالک معاشی تبدیلی کے اگلےمرحلے میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں جہاں ’اہلیت کی معیشت‘ کا آغاز ہونا ہوتا ہے۔

اسٹڈویل لکھتے ہیں کہ ’ اب تک یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پہلے، دوسرے، تیسرے نکتہ ہائے نظر صرف معیشت کو آگے لے جاتے ہیں، معاشروں کو نہیں اور اگر پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں تو پھر ریاست معروضی جاپان کی مفلوج معیشت کی عکاسی کرتی ہے یا اٹلی جیسی معیشت کا اشارہ کرتی ہے۔ کتاب میں غریب ریاستوں کو ترقی کیلئے صحیح انتخابات کرنے اور دوسری ریاستوں کے ترقی کے تجربات سے سیکھنے کیلئے انتباہ کیا گیا ہے کہ جس طرح حسب معمول بین الاقوامی اداروں اور امیر ممالک کی جانب سے آزاد تجارت کا واویلا کیا گیا وہ اس سے دور رہیں۔ جیسا کہ چین نے اپنی مثال سے واضح کیا کہ ملکوں کو اپنی ترقی کا راستہ خود منتخب کرنا چاہئے اور پھر اس پر قائم رہنا چاہئے اور عوام کے یا امداد دینے والوں کے دباؤ میں آکر ایسی متضاد پالیسیوں کی جانب گامزن نہیں ہوجانا چاہئے جن کی طرف پاکستان بھی مائل نظر آتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.