.

پاکستان میں جمہوریت کے تضادات

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلی دو دہائیوں سے پاکستان کی صحافت میں ایسے کئی سوالات زیر بحث آ رہے ہیں جن کو 1988ء سے پہلے اخبارات، جرائد یا کسی پلیٹ فارم پر لانا شجر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ ان میں مسلح افواج کا سیاسی کردار اور مداخلت اور ریاست پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا کردار سرفہرست ہیں۔ ان موضوعات کو صحافت میں زیر بحث لانے کا تمام تر سہرا ان سیاسی تحریکوں کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے قیام اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی جن میں شامل ہزاروں سیاسی کارکن دراصل ان تحریکوں کے Unsung Heroes ہیں۔ 1988ء میں تیسری فوجی آمریت کے خلاف لڑتے ہوئے ایم آر ڈی کے کارکنوں نے ان موضوعات اور ان سے متعلقہ موضوعات کے بت یا Taboos توڑ ڈالے اور جوں جوں صحافت کے دَر کھلے ان موضوعات کے دَر بھی کھلتے چلے گئے۔ پاکستان میں جہاں آمریتوں کی ایک سیاہ تاریخ ہے، وہیں پر ان آمریتوں کے خلاف ان سیاسی تحریکوں کی شان دار تاریخ ہے کہ جنہوں نے ریاست کے جابر اداروں کے غیر آئینی اورغیر جمہوری اقدامات اور مداخلت کے خلاف لازوال جدوجہد کی اور یہی وجہ ہے کہ جب 12اکتوبر 1999ء کو پاکستان میں جنرل پرویز مشرف نے ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو انہیں یہ جرأت نہ ہو سکی کہ وہ ملک میں حقیقی اور مکمل مارشل لاء مسلط کر سکیں۔ جب 12اکتوبر 1999ء کو ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو ہم نے اپنے حلقہ احباب میں اس بحث کو اپنے ایجنڈے پر رکھا کہ جنرل پرویز مشرف نے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ اور جنرل ضیاء الحق کی طرح ایک Ruthless Marshal Law کیوں نہیں لگایا۔ میرا جواب تھا کہ اگر ایسا ہوتا تو امکان تھا کہ ایک ایسی عوامی بغاوت ابھر کر سامنے آجاتی جو ملک میں ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بنتی۔ لہٰذا چوتھی آمریت نے اس سے کسی حد تک اجتناب برتا۔ پاکستان میں اس کو میں جمہوریت اور جمہوریت پسند تحریکوں کی کامیابی قرار دیتا ہوں۔

پاکستان میں جمہوریت کے حقیقی معنوں میں قائم نہ ہونے پر ایک بڑی رائے یہ رہی ہے کہ اگر فوجی آمریتیں جمہوری تسلسل میں دخل نہ دیتیں تو پاکستان میں جمہوریت اپنی جڑیں پکڑ لیتی۔ اور یہ فیصلہ کن رائے قائم کی جا چکی ہے کہ ایک حقیقی جمہوریت کے قائم نہ ہونے کی ذمہ داری سرا سر فوجی مداخلتوں کو جاتی ہے۔ میں اس سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ میں جمہوریت کو صرف انتخابی عمل تک محدود تصور نہیں کرتا۔ریاست اور سماج میں مکمل اقتصادی، معاشی، ثقافتی اور سماجی اصلاحات کے بغیر ایک حقیقی جمہوریت کا قیام ناممکن ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کا قیام اور پاکستان میں جمہوریت کے تضادات میرے دلچسپی کے موضوعات میں سرفہرست ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حوالے سے منظر عام پر آنے والی زیادہ تر تحریریں جو اندرون ملک لکھی جاتی ہیں وہ سطحی یا کسی تعصب کی بنیاد یا عدم تحقیق پر مبنی ہوتی ہیں، جب کہ پاکستان سے باہر سے شائع ہونے والی تحریروں کا تحقیقی معیار تو بلند ہوتا ہے لیکن مصنف سماج کے نچلی سطح تک کے تضادات سے وہ آگاہی نہیں رکھتا جو ایک مقامی محقق رکھ سکتا ہے۔ ایسی کتابیں جن کا موضوع پاکستانی جمہوریت، پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ اور اس سے متعلق مختلف موضوعات ہوں ہمارے ہاں کم ہی منظر عام پر آتی ہیں جو کہ تحقیق اور حوالہ جات کے ساتھ شائع ہوتی ہوں۔ لیکن ایک کتاب نے مجھے اس حوالے سے اس قدر متاثر کیا کہ میرے قلم نے فیصلہ کیا کہ اس کتاب سے اپنے قارئین کو متعارف کروایا جائے۔ یہ کتاب پاکستان کے ایک ایسے دانشور اور سماجی کارکن نے لکھی ہے جو مقامی بھی ہے اور جس کی تحریر غیر متعصب اور مبنی برتحقیق بھی ہے۔

سلمان عابد نے یہ بیڑا بڑی خوب صورتی سے اٹھایا اور بتایا ہے کہ ان کی کتاب ’’پاکستان میں جمہوریت کے تضادات‘‘ اپنے موضوع کے حوالے سے ایک منفرد اور شان دار کتاب ہے۔ سلمان عابد نے ایک ایسے شخص کے ہاں جنم لیا جن کو میں دائیں بازو کا ترقی پسند صحافی، دانشور اور ادیب تصور کرتا ہوں، یعنی عبدالکریم عابد۔ یقیناًسلمان عابد نے عدم تعصب کا سبق اپنے والد سے ہی سیکھا ہو گا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنا علمی، عملی اور تحقیقی تجربہ صحافت، سیاست اور سماجی کارکن کے طور پر حاصل کیا ہے اور ان کے موضوعات میں پاکستانی جمہوریت، بنیادی جمہوریت اور مقامی نظام سرفہرست ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے ایک دہائی پہلے اس موضوع سے متعلق ان کی کتابیں اور تحریریں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی تھیں۔

پاکستان میں جمہوریت کے تضادات، ایک مکمل کتاب ہے جس میں پاکستانی جمہوریت کے تمام پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جمہوریت کی ناکامی کے تمام پہلو اس کتاب کے موضوعات میں شامل ہیں۔ فوج، فوجی حکمران، ریاست پاکستان کا ڈھانچا، پاکستانی معاشرہ، وفاقی اکائیاں، صوبائی خود مختاری، لوگوں یا عوام کے اختیارات کا مسئلہ، سیاسی جماعتیں اور ان کا ڈھانچا، سیاسی جماعتوں کے ردِجمہوری ڈھانچے، پاکستان کے عوام کا مزاج یا ثقافت، انتخابی طریقِ کار، طلبہ سیاست، محروم طبقات اور ان کا سیاست میں کردار، دانشوروں کا فکری بحران اور ان کا کردار، نام نہاد سول سوسائٹی کا کردار اور ان کی حقیقت، مذہبی سیاست، انتہا پسندی اور دہشت گردی، پاکستان کے پہلے منتخب رہنما ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ریاستی اداروں کا رویہ اور ان کے خلاف مقدمہ، خواتین کا سماج اور سیاست میں کردار، سیاست کا اخلاقی بحران، سیاست میں جرائم پیشہ افراد کا دَر آنا یعنی Criminalization of Politics، سول بیوروکریسی کا کردار، معاشی ڈھانچا اور سماج کے تضادات، شاید ہی کوئی موضوع ہو جو اس کتاب میں زیر بحث نہ آیا ہو اور خوبی یہ ہے کہ کتاب باقاعدہ حوالہ جات کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔

کتاب کا دیباچہ پاکستان کے دنیا بھر میں معروف دانشور ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے لکھا ہے۔ ’’پاکستان میں جمہوریت کے تضادات‘‘ ایک ایسی تحریر ہے جس کا مطالعہ عام لوگوں ہی نہیں بلکہ اہل فکر کو نئے زاویوں سے متعارف کرواتا ہے۔ سلمان عابد کی کتاب پاکستان میں تبدیلی، عوامی حکمرانی، آئینی بالادستی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے معاملات کو زیربحث لاتی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت ’’جمہوری پبلیکیشنز‘‘ کے تحت ہوئی ہے۔ یہ کتاب مئی 2013ء کے عام انتخابات کے بعد زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے اور جو لوگ یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ صرف انتخابات ہی تمام مسائل کا حل ہیں، ان کے لیے یہ کتاب ان درپیش مشکلات کو زیر بحث لاتی ہے جو کسی بھی جمہوری یا سول حکومت کے لیے ہر لمحہ کھڑی ہوتی ہیں اور جن کا سامنا موجودہ حکومت اور اس حکومت کے سربراہ میاں نواز شریف کو کرنا پڑ رہا ہے۔ جمہوریت میں محض نعرے نہیں ہوتے، حقیقی جمہوریت کا قیام ایک عوامی فریضہ ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ زندگی کے تمام شعبہ جات کو مکمل آگاہی کے بعد اپنا کردار کرنا ہو گا اور یہ تمام موضوعات اس کتاب میں موضوعِ بحث بنے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.