.

عمران خان اور نثارخاں کی شعلہ بیانیاں؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم نواز شریف کے واشنگٹن کے سرکاری دورہ سے واپسی کے صرف ایک ہفتہ بعد ہی امریکی ڈرون کے حملے اور تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ محسود کی اس حملے میں موت کے واقعہ نے نہ صرف نواز شریف اور ان کی حکومت کیلئے ایک بالکل نئی صورتحال اور نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے بلکہ صدر اوباما سے ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبے اور امریکی حکومت کے عملی جواب کے ذریعے انکار نے پاک،امریکہ تعلقات کو مزید حساس اور پیچیدہ کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کی مذمتی شعلہ بیانی اور طالبان سے پاکستان کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا امریکہ پر الزام، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا پاکستان کے راستے نیٹو سپلائیز کو 20نومبر سے بند کرنے کا اعلان اور مفاہمت کیلئے مولانا فضل الرحمن سمیت سب کے پاس جاکر متفقہ موقف لے کر قومی وقار کیلئے کھڑے ہونے کا عزم، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جے یو آئی، پی پی پی،اے این پی سمیت مختلف الخیال نمائندوں اور جماعتوں کا سخت گرم، قدرے نرم اور زمینی حقائق کا ادراک لئے مختلف انداز میں موقف سنے۔ لیکن ابھی تک حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے کوئی واضح اور عملی حل پیش نہیں کیا۔ پاک،امریکہ تعلقات کی صورتحال کو گزشتہ بارہ سال میں سابق حکمرانوں نے اپنے غلط فیصلوں سے اس قدر پیچیدہ اور پاکستانی پوزیشن کو اتنا کمزور کردیا ہے کہ اب اس کو اپنے حق میں سدھارنے کیلئے پاکستان کے پاس آپشن ہی بے حد کم ہیں۔ ایک دردمند پاکستانی ہونے کے ناتے مجھے یہ تسلیم ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی آزادی اور سرزمین کی خلاف ورزی ہیں۔ امریکہ کو کمیونزم، سوویت یونین اور افغان طالبان کے خلاف تمام جنگوں میں بااعتماد اتحادی پاکستان کو سزا دینے کے بجائے تعاون اور ستائش کی راہ اختیار کرنا چاہئے لیکن جب خود آپ کے آمر حکمرانوں اور جمہوری نمائندوں نے پہلے ہی اپنی نااہلی، حرص اقتدار اور دولت کے باعث اپنے فیصلوں کے ذریعے آپ کی سرزمین اور قومی خود مختاری کو غیروں کے ہاتھ بیچ ڈالا ہو تو پھر بے رحم وقت کے ہاتھوں تبدیل شدہ زمینی حقائق کی روشنی میں بصیرت اور جرأت سے موزوں وقت اور صحیح سمت میں عمل کرنے کی ضرورت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

افغانستان اور خطے کی صورتحال کے بارے میں امریکہ اور بھارت مشترکہ مفادات و مقاصد رکھتے ہیں امریکہ کے جزوی انخلا کے بعد بھارت کا رول بڑھ جائے گا اور پاکستان کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک سرحدوں پر یکساں مخالفانہ دبائو ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں صدر کلنٹن کی حمایت اور ایما سے بھارت کو خطے کی بڑی طاقت بنانے کا جو فیصلہ اور عمل شروع ہوا آج وہ اپنے نتائج کے ساتھ ایک زمینی اور جغرافیائی حقیقت ہے۔ ہم امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود الزامات اور مطالبات کا سامنا کر رہے ہیں لہٰذا خطے کی صورتحال ہمارے حق میں نہیں رہی۔ امریکہ کے جزوی انخلاء کے بعد اسے بھارت کی برتری کی موجودگی میں ہماری ضرورت نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تو جنوبی ایشیا اور سینٹرل ایشیا کے ممالک کے لئے بھارت نژاد امریکیوں کو امریکی محکمہ خارجہ اور دیگر شعبوں میں تقرریاں کرنے اور ذمہ داریاں دینے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ نشاء بسواں نامی بھارتی نژاد خاتون نے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے سائوتھ اور سینٹرل ایشیا کا عہدہ چند روز قبل سنبھال لیا ہے اور وہ دوہا قطر میں امریکی فوج کی سینٹرل کمان (جو پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے) کی کانفرنس کیلئے دوہا میں موجود ہیں۔ شتر مرغ کی طرح گردن کو ریت میں رکھنے کے بجائے آنکھ کھول کر اپنی کوتاہیوں اور اردگرد کے حقائق کا ادراک کر کے حل کی راہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اب آیئے ان آپشنز کی طرف جو گزشتہ چند روز سے مختلف پاکستانی قائدین نے تجویز کئے ہیں۔

(1)وزیرداخلہ چوہدری نثار کا شعلہ بیانی پر مبنی امریکہ کی مذمت میں بیان۔ میری عرض ہے، کیا اس مذمتی بیان کے دبائو میں آکر امریکہ ڈرون حملے روک دے گا؟ نہیں امریکی وہائٹ ہائوس اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمانوں کے تازہ بیانات آپ کے سامنے ہیں۔

(2)ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے ڈرون کی مخالفت پر مبنی بیانات عالمی حمایت بناکر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں امریکہ کے خلاف شکایت کی جائے اور قرارداد منظور کرائی جائے؟ کیا یہ مسئلے کا حل ہے؟ عالمی تعلقات اور 15رکنی سلامتی کونسل کی تاریخ پر نظر ڈالئے۔ ویتنام، عراق، سوئز کی اسرائیل عرب جنگ، افغانستان کی جنگ، امن کے امور میں مختلف تنازعات پر نظر دوڑایئے تو واضح ہوجائے گا کہ اول تو سلامتی کونسل نے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی منظوری کے بغیر کوئی قرارداد منظور نہیں کی دوسرے ان عالمی طاقتوں کے خلاف کبھی کوئی پابندی یا قرارداد منظور نہیں کی۔ دو ٹوک الفاظ میں سلامتی کونسل کے 15اراکین کا کوئی فیصلہ اسی وقت ’’عالمی برادری‘‘ کا فیصلہ کہا جاتا ہے جب سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین کو اعتراض نہ ہو بلکہ منظور ہو لہٰذا امریکی ڈرونز حملوں کو سلامتی کونسل میں لانے سے آپ کیا مقصد حاصل کرپائیں گے۔

(3) نیٹو کی سپلائی بند کردیں۔ حالیہ ماضی میں اس کا اثر کیا ہوا؟ سلالہ پوسٹ کے واقعہ پر امریکہ سے معافی مانگنے اور معاوضہ طلب کرنے والوں کو صرف ایک مبہم سا افسوس ملا اور اس کے ساتھ امریکہ سے تعلقات میں تلخی بھی بڑھی اور پھرخاموشی سے امریکہ کو منانے کے لئے پاکستانی حکمرانوں نے بہت سے امریکی مطالبات کی تعمیل بھی کی اور اب وزیراعظم نواز شریف کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر 2011-2012ء سے رکی ہوئی امداد پاکستان کو ریلیز ہوئی ہے۔

(4)امریکی اتحاد سے فوری نکل جائیں کیونکہ امریکہ کو ابھی پاکستان کی ضرورت ہے لہٰذا اس طرح امریکہ سے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے؟ عرض ہے بہت تاخیر ہوچکی بات منوانا تھی تو امریکی اتحاد میں شامل ہونے اور سرنڈر کرنے کے فیصلوں سے قبل مذاکرات کی میز پر یہ باتیں معاہدوں کی صورت میں منوانا تھی۔

(5)پاکستان سیاستداں تو اب بھی ڈرونز حملوں کا مسئلہ اپنے اپنے سیاسی معاملات، بیرونی سرپرستوں اور داخلی سیاست کے تناظر میں ہینڈل کررہے ہیں۔ عمران خان قومی وقار کے مسئلے پر مرکوز ہیں تو ان کے سیاسی مخالف ان کو تنہا اور غیر مقبول بنانے کیلئے اسے جذباتی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ ضرورت تو یہ ہے کہ زمینی تلخ حقائق و تناظر اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ذاتی انا اور سیاسی مفاد کو ایک طرف رکھ کر امریکہ سے تصادم سے بچ کر کوئی راہ اختیار کر لیں۔ جتنی مختلف بولیاں ہمارے سیاستدان بول رہے ہیں یہ بھی مسائل زدہ پاکستان کی خدمت نہیں ہے۔ اگر ایک امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی سفارتکاری اور طالبان سے امن مذاکرات کی ابتدا کو سبوتاژ کرسکتا ہے تو پھر جب کبھی کوئی پیشرفت ہو گی۔ ڈرون کا حملہ اس کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہو گا اور پاکستان کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں کیونکہ اگر ڈرون کو مار گرانے کا کوئی پاکستانی طریقہ تلاش بھی کر لیں تو کیا پاکستان امریکہ سے جنگ کر سکتا ہے؟

جوش میں اندراگاندھی کو اور روس کے وزیراعظم کوسیجن کو پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کی دھمکی پر مبنی اعلانات و اشتہارات سانحہ مشرقی پاکستان کے دور میں پاکستانی پرنٹ میڈیا کے ریکارڈ میں آج بھی موجود ملیں گے۔ بنگلہ دیش کی صورت میں عملی نتیجہ سامنے ہے۔ امریکہ آپ کے خطے کے حوالے سے مستقبل کے لئے متعدد فیصلے کرچکا ہے بہت سوں پر عمل بھی جاری ہے۔ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست کا بنیادی معاون اور امریکہ کا اتحادی پاکستان فوراً ہی امریکہ کی پابندیوں کا شکار بنا دیا گیا مگر پاکستانی حکمرانوں نے سبق نہ سیکھا۔ دوبارہ پھر ضرورت کے وقت بھی ماضی کی پروا کئے بغیر دوبارہ پاکستان کو امریکہ کی سپردگی میں دے دیا گیا۔ ان حماقتوں کا حساب کون دے گا؟ نوازشریف درست کہتے ہیں کہ اپنا ہائوس آرڈر میں لانا ہوگا۔ ماضی کے حکمرانوں کے فیصلوں اور غلطیوں کی قیمت تو قوموں کو چکانا پڑتی ہے اصلاح اور صبر کے ساتھ درست سمت اختیار کرنے، خراب حالات میں طوفانوں سے پناہ لے کر خود کو بچا کر طوفان گزرنے کا انتظار کرنا ہوگا۔ مایوسی کفر ہے۔ مایوسی مقصود نہیں۔ تلخ حقائق کا ادراک ضروری ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.