.

وزیر اعظم ایردوان کی کامیاب حکمتِ عملی

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ دو مئی 1999ء کا دن تھا ترکی کی قومی اسمبلی میں زیادہ تر اراکینِ پارلیمینٹ حروف تہجی کی ترتیب سے حلف اٹھا چکے تھے اور صرف چند ایک اراکین اپنی مجبوری اور حالات کی وجہ سے حلف نہیں اٹھاسکے تھے۔ حلف نہ اٹھانے والوں میں مرحوم نجم الدین ایربکان کی فضیلت پارٹی کی استنبول سے رکنِ پارلیمینٹ ’’مروہ صفاء کاواک چی‘‘بھی شامل تھیں۔

وہ کسی مناسب وقت کی تاک میں خاموشی سے حلف اٹھانے کی خواشمند تھیں لیکن مخلوط حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اور وزیراعظم بلنت ایجوت عدلیہ اور فوج کے شدید دبائو کے باعث مروہ کاواک چی کو ہیڈ اسکارف پہنے حلف لینے سے روکنے کا تہیہ کر چکے تھے۔ دو مئی 1999ء کو بعد از دوپہر مروہ کاواک چی حلف اٹھانے کی غرض سے جب اسمبلی ہال میں داخل ہوئیں تو ہال میں یکدم ہلچل اور افراتفری پیدا ہو گئی۔

ہال میں فضیلت پارٹی کے ارکان کےسوا تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان مروہ کاواک چی کے آگے دیوار بن چکے تھے اور کھڑے ہو کر مروہ کاواک چی کے خلاف پروٹسٹ کررہے تھے۔ صرف ایک ہی صدا ہر طرف سے سنائی دے رہی تھی’’ مروہ ہال سے باہر، مروہ کو باہر نکالو‘‘۔ اس وقت کے وزیراعظم بلنت ایجوت جو ترکی کی سیاست میں ایک جنٹلمین سیاستدان کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے اور انہوں نے روسٹرم پر کھڑا ہوتے ہوئے بڑے کرخت انداز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’اپنے آپے سے باہر مت نکلو، اپنی حدود کو مت پھلانگو، یہ سیکولر ازم پر حملہ ہے‘‘۔وزیراعظم بلنت ایجوت نے یہ الفاظ ادا کئے ہی تھے کہ مروہ کاواک چی کو حلف اٹھانے سے قبل ہی اسمبلی ہال سے نکال باہر کیا گیا اور پھر مروہ کاواک چی کو کبھی بھی اسمبلی میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔ اگلے روز کابینہ کے اجلاس میں مروہ کاواک چی کے پاس امریکہ کی شہریت رکھنے کے الزام میں ان کی ترک شہریت کو منسوخ کردیا گیا اور خصوصی عدالت کے اٹارنی جنرل نوح میتے یوکسیل نے عدلیہ اور وزارتِ انصاف سے مروہ کاواک چی کو رکنِ پارلیمینٹ کی حیثیت سے حاصل استثنیٰ کو بھی ختم کرادیا۔ اٹارنی جنرل نوح میتے یوکسیل نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے رات دو بجے جبکہ پورا ترکی نیند کی آغوش میں تھا مروہ کاواک چی کے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے اس کا گھر تہس نہس کردیا اور پھر فضیلت پارٹی پر پابندی عائد کرانے کے لئے چار جون 1999ء کو آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ آئینی عدالت نے فوج کے دبائو میں آکر فضیلت پارٹی پر سیکولرازم کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں پابندی عائد کر دی۔

فضیلت پارٹی نے مروہ کاواک چی کو ایک ایسے دور میں قومی اسمبلی میں داخل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی جبکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں تک میں طالبات کو داخل ہونے کی اجازت حاصل نہ تھی۔ فضیلت پارٹی کا یہ فیصلہ غلط فیصلہ تھا اور حالات اور میڈیا نے بھی اس فیصلے کے غلط ہونے پر مہر ثبت کر دی تھی کیونکہ فضیلت پارٹی نے ہیڈ اسکارف کے مسئلے کو کسی باقاعدہ پروگرام، منصوبے اور پلان کے بغیر صرف مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر اچھالا تھا لیکن یہ مسئلہ نہ صرف فضیلت پارٹی کے خاتمے کا باعث بنا بلکہ ہیڈ اسکارف کا مسئلہ وزیراعظم بلنت ایجوت کو بھی لے ڈوبا اور 2002ء کے انتخابات میں انہیں صرف ایک اعشاریہ دو فیصد ووٹ ملے جو ان کو پارلیمینٹ سے باہر رکھنے کی وجہ بنا اور عوام کی بھاری اکثریت نے نئی قائم ہونے والی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کو ووٹ دے کر ملک میں نئے نظام کےقیام کی راہ ہموار کر دی۔

آق پارٹی کے 2002ء میں برسراقتدار آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ پارٹی جلد ہی ملک میں ہیڈ اسکارف کے مسئلے کو حل کر لےگی لیکن اس جماعت کو بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں گیارہ سال کا عرصہ لگا۔ اس کی بڑی وجہ اس جماعت کا فضیلت پارٹی سے ہٹ کر طریقہ کار استعمال کرنا ہے۔ ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ وزیراعظم رجب طیّب ایردوان بڑے زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ وزیراعظم ایردوان نے جب اقتدار سنبھالا تو ان کے سامنے ہیڈ اسکارف کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ تھا لیکن وہ اس بات سے پوری طرح واقف تھے کہ اس مسئلے کو اس وقت تک حل نہیں کیا جاسکتا جب تک ملک میں فوج اور عدلیہ کا دبائو جاری ہے۔ انہوں نے ملک میں عدلیہ اور فوج کے دبائو کو کم کرنے کے لئے سب سے پہلے ملک کو اقتصادی ترقی پر گامزن کیا اور اسے یورپی ممالک کے معیار کے مطابق نہ صرف لاکھڑا کیا بلکہ کئی ایک معاملات میں یورپی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ملکی عدلیہ جس نے ایردوان کے ابتدائی دور میں حکومت کو ناکوں چنے چبوا رکھے تھے، کے بارے میں وزیراعظم ایردوان پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے عدلیہ کو جدید حالات کے تقاضوں اور یورپی ممالک کے معیار کے مطابق ڈھالنے کے لئے ملک میں جمہوری اصلاحاتی پیکیج متعارف کرائے اور عوام کے معیار کو بھی بہتر بناتے ہوئے ان کو بھی اپنے حقوق کادفاع کرنے کا شعور عطا کیا۔

ترک فوج جو ہمیشہ ہی مذہبی حلقوں کی دشمن اور سیکولرازم کی حامی رہی ہے پر بھی اپنی حکومت کی گرفت کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ فوج کے سیاست میں مداخلت کرنے کے دروازے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیئے۔ فوج اور عدلیہ کو راہِ راست پر لانے کے بعد وزیراعظم ایردوان نے پارلیمینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے سب سے پہلے طالبات پر ہیڈ اسکارف پہن کر یونیورسٹیوں میں داخل ہونے کی پابندی کو ختم کیا۔ طالبات پر ہیڈ اسکارف کی پابندی کو ختم کرنے کے بعد ملک کے سرکاری اداروں میں ہیڈ اسکارف پہن کر ملازمت کرنے کی بھی پابندی کو ختم کرنے کے لئے ملک کے آئین میں ترامیم کرنے کی ضرورت تھی اور ایردوان حکومت نے پارلیمینٹ میں اس بارے میں قوانین میں ترامیم کرائیں اور ہیڈ اسکارف پہننے والی خواتین پر ملک کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اداروں کی ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔

اور اب آخری مرحلے میں قومی اسمبلی میں ہیڈ اسکارف پہن کر داخل ہونے اور اجلاس میں شرکت کرنے کا معاملہ بڑی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ قومی اسمبلی ایک لحاظ سے سیکولرازم کے قلعے کی حیثیت رکھتی تھی اور وزیراعظم ایردوان اس قلعے کو اندر سے فتح کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے بڑی ذہانت اور خوش اسلوبی سے اس مسئلے کو حل کیا۔ اس مسئلے کو ایک ایسے وقت میں حل کیا گیا ہے جب مارچ 2014ء میں ملک میں بلدیاتی انتخابات ہونا ہیں اور آق پارٹی نے اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے ابھی سے ہی اپنی کامیابیوں کے دروازے پوری طرح کھول لئے ہیں۔ آق پارٹی سے چار خواتین گزشتہ دنوں حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد واپس آئیں تو انہوں نے جس طرح فریضہ حج کی ادائیگی کے دوارن سر کو ڈھانپ رکھا تھا بالکل اسی طرح وطن واپسی پر قومی اسمبلی میں اپنے روزمرہ کے فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی ڈھانپنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اس فیصلے سے وزیراعظم ایردوان کو آگاہ کیا۔ ان چاروں خواتین کو ہیڈ اسکارف پہننے کے بارے میں وزیراعظم کی بھی اشیر باد حاصل ہوچکی تھی۔

آق پارٹی کی ان چار خواتین کے ہیڈ اسکارف پہننے کے عمل کی پارلیمینٹ میں موجود دیگر تین سیاسی جماعتوں میں سے نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور پیس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنی حمایت کا اعلان کر دیا جس پر پارلیمینٹ میں موجود حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے مرحوم بلنت ایجوت جیسی صورتحال سے بچنے کیلئے اس بار پارٹی کے طور پر کھل کر مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پارٹی اراکین کو اس بارے میں اپنی رائے دینے کی مکمل آزادی دے دی۔ وزیراعظم ایردوان نے ایک ایسے وقت میں ہیڈ اسکارف خواتین کو پارلیمینٹ کی نشستوں پر براجمان ہونے کی راہ ہموار کردی ہے جب ملک میں آئندہ سال ماہ مارچ میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔اس طرح ری پبلکن پیپلز پارٹی کے پاس اس کڑوی گولی کو نگلنے کے سوا کوئی اور چارہ کار باقی نہ بچا تھا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.