.

طالبان کے لئے انتقام کا بہترین طریقہ

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ جنوبی ایشیاء میں ایک نئی بساط بچھا رہا ہے، بھارت کو اس نے اپنی جھولی میں ڈال لیا ہے تو ایران پر ڈورے ڈال رہا ہے تاکہ وہ اور پاکستان آپس میں گہرے مراسم قائم نہ کرلیں اور پاکستان کو ایران سے دور رکھنے کے لئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن نہ بچھانے پر دبائو بڑھا رہا ہے۔ چین کا آگے بڑھنے سے راستہ روکنے کے لئے نہ صرف بھارت بلکہ پورا ایشیاء کا مشرق بعید جن میں سنگاپور سے لے کر آسٹریلیا تک کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور وہاں فوجی اڈے قائم کر لئے ہیں جہاں فوجی اڈوں میں کوئی کمی تھی اُس کو تقویت پہنچانے کیلئے سامانِ حرب، الیکٹرونک آلات، آبدوزیں، جیٹ طیارے ڈرون جمع کردیئے ہیں۔

دوسری طرف افغانستان میں وہ طالبان سے مذاکرات کرکے طالبان کو راضی کررہا ہے کہ وہ روس کو ایک دفعہ پھر اپنا دشمن بنا لیں اور اس کے لئے مشکلات پیدا کریں۔ تیسری طرف چین میں برسوں سے جاری یوغور مسلمانوں کی تنظیم کو سنکیانگ میں امداد دے رہا ہے تاکہ وہ چین کو مشکل میں ڈالے رکھیں، پاکستان کے لئے طالبان اور خود اُن کے کارندے جو بلیک واٹر اور ژی نامی تنظیم کی صورت میں حملے کرتے رہتے ہیں۔ آگسٹا آبدوز کو مکمل آپریشنل بنانے کیلئے فرانسیسی انجینئر و ماہرین پاکستان آئے تو اُن پر حملہ کرکے مار دیا اور یہ کہا گیا کہ کئی مشرکین کو جہنم واصل کردیا ہے تاہم اِس حملہ میں مارے گئے فرانسیسی کو موت کا شکار کرنے میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ اس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوا۔

آبدوز آگسٹا کو مکمل کرنے میں پھر کئی مہینے لگ گئے اسی طرح کراچی میں مہران بیس پر حملہ جس میں اہم طیارے تباہ کئے گئے،ایسے لوگ ملوث تھے جن کے جسموں پر ٹیٹو (نقش و نگار موجود تھے) اور کامرہ ایئربیس پر حملہ جس میں پاکستان کی فضائی و زمینی آنکھ کو صاب نامی طیارے کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی پر موقوف نہیں ہے بلکہ پاکستان کے مایہ ناز سپوت بحریہ کے کیپٹن ڈاکٹر ندیم احمد جو کہ گن بیرل کی مار کو بڑھانے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری برطانیہ سے لے کر آئے تھے اُن کو دن دھاڑے اُن کے کراچی میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے شہید کردیا گیا۔ یہ وہ روز تھا جب پاکستان کے وزیراعظم کراچی کے دورے پر تھے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن اہم لوگوں پر کتنی گہری نظر رکھتا ہے۔ اس وقت میاں نواز شریف کو انہوں نے باہر کے دوروں میں الجھائے رکھا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی خبر نہ لے سکیں۔ میں نے یہ منظر نامہ ٹی ٹی پی کے علم میں لانے کیلئے لکھا ہے اس کے بعد یہ کہنا چاہتا ہوں کہ لطیف محسود کے امریکہ کے قبضہ میں جانے کے بعد حکیم اللہ محسود کو ڈرون سے مارنا ٹھہر گیا تھا اور اس خدشہ کا ذکر میں نے اپنے 25اکتوبر 2013ء کو شائع ہونے والے کالم ’ امریکہ اور افغانستان دفاعی معاہدہ اور پاکستان‘ میں کردیا تھا۔ بہرحال اُن پر اس وقت ڈرون حملہ سے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا۔

امریکہ اور برطانیہ کے دورے میں میاں محمد نواز شریف سے یہ پوچھا گیا کہ وہ پاکستانی طالبان سے مذاکرات میں کیا حکمت عملی وضع کریں گے اور کون کون سے لوگ ان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں استعمال کئے جائیں گے اور کون کون سے لوگ اِن مذاکرات کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے۔ اگر اُن کو یہ اطلاعات وزیراعظم نے دے دی ہوں گی تو پھر وہ اِن مذاکرات کو ناکام بنانے کا منصوبہ بنا چکے ہوں گے۔

حکیم اللہ محسود کوئی ہیرو نہیں تھا مگر مذاکرات پر وہ راضی ہو گیا تھا تو یہ ایک اچھی خبر تھی۔ اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ طالبان اگر امریکہ کے آلہ کار نہیں ہیں تو اُن کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہو گی کہ امریکہ پاکستان کو برباد کرنے کے لئے ہر طرح کا حربہ استعمال کر رہا ہے اور طالبان امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں یا کہتے ہیں تو پھر ان کو ہر صورت میں مذاکرات کرکے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اسی میں اُن کی جیت ہے اور اسی طرح سے وہ امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں ورنہ تاریخ اُن کو امریکی آلہ کار کے طور پر جانے گی اور وہ کسی طور پر ہیرو کا درجہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ معصوم اور غریبوں کو مارنا کسی طور پر درست نہیں۔ یہ یہودیوں اور امریکیوں جیسے کائو بوائے قسم کے لوگوں کا کام ہے۔

اگر طالبان کے رشتہ دار مارے جاتے ہیں تو پاکستان میں دوسری جگہوں پر مارے جانے والے کسی کے رشتہ دار ہوتے ہیں اس لئے اُن کو بدلہ کے معاملہ کو چھوڑ کر پاکستان سے مل کر امریکہ سے حساب کتاب کرنا چاہئے۔ ہمارے ہی لوگوں کو امریکہ ڈرون سے مار رہا ہے اور ہمارے ہی لوگوں کو طالبان مار رہے ہیں تو طالبان کون سا طرم خانی کام کررہے ہیں کہ بے گناہ، نہتے اور معصوم لوگوں کو مارنا کہاں کی جوانمردی ہے وہ بھی امریکی ظلم کا بوجھ سر پر اٹھا کر چل رہے ہیں اور اُن کے گناہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ امریکہ جو بساط بچھا رہا ہے اس میں وہ پاکستان کو غیر مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے طالبان کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ میاں نوازشریف نے اپنا دورۂ امریکہ (24اکتوبر تا 27اکتوبر 2013) میں ڈرون حملہ کے خلاف نہ صرف اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں اس کی سختی سے مذمت کی ، اس کے علاوہ امریکہ کے تمام حکام سے ملاقات میں ڈرون حملوں کے مسئلہ کو اٹھایا، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کو پاکستان کی سلامتی اور عالمی قوانین کے بھی خلاف قرار دیا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس کو غیر قانونی قرار دیا،پھر ساری دنیا نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی اور یوں امریکہ تنہا ہو رہا ہے چنانچہ بجائے اس کے کہ تحریک طالبان پاکستان غیض و غضب کا شکار ہو کر پھر پاکستان کے غریب عوام کو مارنے پر تل جائیں اُن کو اس سے بہتر حکمت عملی وضع کرنا چاہئے اور امریکہ سے بہترین انتقام یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل جائیں اور مل کر پاکستان کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ درست نہیں ہے جیسا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر سازش کرکے حکیم اللہ محسود کو مارنے میں حصہ لیا ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے کہ حکیم اللہ محسود نے مذاکرات کی وجہ سے اپنی سیکورٹی کو محدود کردیا تھا۔ لطیف محسود کے پکڑے جانے کے بعد وہ ایسا کیسے کر سکتے تھے جبکہ لطیف محسود اُن کے سارے معاملات کو جانتے تھے۔ اُن کی گاڑی نمبر کون دے سکتا ہے، اُن کی حرکات و سکنات کون بتا سکتا ہے، سو صورتحال بالکل الٹ ہے اور بہترین انتقام پاکستان سے مل کر پاکستان کو مضبوط کرنے میں مضمر ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.