.

لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس طرح سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمن کو حکیم اللہ محسود کے بارے میں رائے رکھنے کا حق حاصل ہے اسی طرح مخالفین کو بھی ان پر تنقید کرنے کی آزادی ہے۔ امیر شریعت سید عطااللہ شاہ بخاری نے ایک موقع پر جوش جذبات میں یہ کہہ ڈالا ’’میں اس کتے کا منہ چوموں گا جو انگریز کو بھونکتا ہے ‘‘ یہ انگریز سے شاہ صاحب کی نفرت کا اظہار تھا۔

پاکستانی قوم ان دنوں امریکہ سے اتنی ہی نفرت کرتی ہے مگر مولانا فضل الرحمن نے جس پیرائےمیں امریکہ سے نفرت ظاہر کی وہ نرم سے نرم الفاظ میں بدذوقی ہے۔ سید منور حسن کو ان سے زیادہ محتاط ہونا چاہئے کہ ہمارا کیا ہے اے بھائی نہ مسٹر ہیں نہ مولانا، تاہم سید منور حسن کے بیان پر پیپلزپارٹی کے برخوردار چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ردعمل ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کا مظہر ہے فرماتے ہیں ’’ جماعت اسلامی سے پاکستان میں وہی سلوک ہونا چاہئے جو بنگلہ دیش میں ہوا ‘‘ سقوط ڈھاکہ برخوردار کی پیدائش سے اٹھارہ انیس سال قبل ہوا۔1971ءمیں بلاول کے والد گرامی بھی بمشکل بیس اکیس سال کے ہوں گے البتہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اس کھیل کے اہم کھلاڑی تھے جس نے مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست کو دولخت کر دیا جس فوجی آپریشن کی حمایت پر جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیمیں آج تک گردن زدنی ہیں اس کے بارے میں بھٹو مرحوم کا تبصرہ تھا ’’خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا‘‘

اطالوی صحافی اوریانہ فلاسی سے انٹرویو 1972ءمیں بھٹو نے اس فوجی آپریشن کا دفاع ان الفاظ میں کیا ’’ہر حکومت اور ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب ضروری سمجھے طاقت استعمال کرے، مثلاً اتحاد کے نام پر جب تک آپ تباہ نہیں کرتے تعمیر نہیں کر سکتے ۔۔۔۔مشرقی پاکستان میں ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے تھے کہ بغاوت کچلنے کے لئے ایک خونریز کارروائی کا جواز بن چکا تھا۔ مارچ 1971ء میں پاکستان کے اتحاد کا انحصار علیحدگی پسندوں کو کچلنے پر تھا۔‘‘

مزید فرمایا ’’سب جانتے ہیں کہ مجیب مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ اور علیحدہ کرنا چاہتا تھا، اس مقصد کے لئے اس نے 1966ء سے بھارتیوں سے رابطے رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔مجیب کے ذہن میں یہ واحد آئیڈیا سما گیا تھا کہ بس علیحدگی چاہئے ‘‘ اس فوجی آپریشن کی حمایت پاکستان کو ہر قیمت پر متحد رکھنے کی خواہش اور عوامی لیگ کے غنڈوں، مکتی بانہی اور بھارتی فوج کے علاوہ اس کے آلہ کارو تخریب کار علیحدگی پسندوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنمائوں مولانا غلام اعظم، مولانا دلاور حسین سعدی ، احسن علی مجاہد اور قمر الزمان کو ایک نام نہاد ٹربیونل نے سزائے موت دی ہے اور ہزاروں کارکنوں کو دیگر سزائیں سنائی گئیں ہیں جن پر آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے فرزند ارجمند اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو خوش ہیں اور جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ اسی پلان کا مطالبہ کر رہے ہیں سوال یہ ہے کہ پاکستان دولخت ہوا تو بھٹو خاندان کو اقتدار ملا مگر بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سزا و دشنام کی مستحق ٹھہری تو پھر قصور وار کون ؟

اوریانہ فلاسی سے انٹریو میں ذوالفقار علی بھٹو نے اندرا گاندھی کے ایک بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ’’مسز اندرا گاندھی کو صرف اور صرف ایک خواب دکھائی دیتا ہے کہ وہ پورے برصغیر پر قبضہ کر لیں اور ہمیں ماتحت وغلام بنالیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ کہتی ہیں ہم بھائی بھائی ہیں ’’ہم ہرگز بھائی بھائی نہیں، ہمارے مذاہب ہماری روحوں میں گہرائی تک اترے ہوئے ہیں ہمارے کلچر مختلف ہیں ہمارے رویے مختلف ہیں اپنی پیدائش سے مرنے تک ایک ہندو اور مسلمان جن قوانین، رسم و رواج کا پابند رہتا ہے ان میں کچھ مشترک نہیں۔ یہاں تک کہ کھانے پینے کے طریقے مختلف ہیں‘‘

سید منور حسن کے ایک بیان سے برافروختہ ہو کر بلاول بھٹو جماعت اسلامی پاکستان پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں تو شوق سے مطالبہ کریں مگر دلیل وہ بنگلہ دیش سے نہ لائیں جہاں لوگ پاکستان سے وفاداری اور محبت کی سزا سزائے موت ، عمر قید اور ریاستی ظلم و تشدد کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔1971ء میں مکتی بانہی کے ہاتھوں شہید ہونے والے اقتدار کے کھیل میں شریک تھے نہ مستقبل کی حکومت میں حصہ مانگنے والے کہ پاکستان میں ان پر زبان طعن دراز کی جائے ۔ یہ ملک دشمنوں اور علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی ہے۔

میرے خیال میں قصور بلاول کا نہیں یہ ذہین، پرجوش اور تعلیم یافتہ نوجوان بڑوں کی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑ ھ رہا ہے کم سن ملالہ یوسفزئی کی طرح جسے شہرت، دولت اور حکمرانی کے خواہشمند باپ نے تنازعات کی نذر کر دیا ہے ورنہ کرسٹینا لیمب کی کتاب پر ملالہ کا نام لکھوانے کی ضرورت نہ تھی جس میں پاکستان اور اس کی فوج کو بھی نہیں بخشا گیا آئی ایم ملالہ کا ایک مختصر اقتباس ’’تقسیم ہند کا معاملہ ایسا ہی تھا کہ گویا دو بھائیوں میں جھگڑا ہو گیا اور وہ علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہنا چاہتے ہوں لہٰذا برٹش انڈیا اگست 1947ء میں دولخت ہو گیا ‘‘ (آزادی کی تحریک، قیام پاکستان کی جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں گویا محض افسانہ ہے ‘‘
’’میری سہیلی عطیہ مجھے چڑانے کے لئے کہتی تھی ’’طالبان اچھے ہیں، فوج اچھی نہیں‘‘ میں جواب دیتی اگر ایک سانپ اور شیر تمہاری طرف حملہ کرنے کیلئے بڑھیں تو تم کسے اچھا کہو گی، سانپ کو یا شیر کو ‘‘ ہمارے ایک پڑوسی نے بتایا کہ فوجیوں نے سامان عبرت بنانے کے لئے طالبان کی لاشیں گلیوں میں پھینکیں ، اب ان کے ہیلی کاپٹر ہمارے سروں پر منڈلاتے ہیں‘‘

پاکستان کے بے بس اور سادہ لوح عوام نے بھی کیا قسمت پائی ہے وہ جسے سر آنکھوں پر بٹھائیں وہی دل آزای اور ستم آرائی پر اتر آتا ہے لفظوں کے استعمال میں مگر چھوٹوں بڑوں کو احتیاط برتنی چاہئے کہ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے زبان کا زخم کبھی نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.