مگر مچھ کے آنسو بہانا

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

آج کل نواز شریف خود کو ’’نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن‘‘ والی صورت سے دوچار پاتے ہوں گے۔ ٹھیک ایک ہفتہ پہلے ، اُن کی حکومت کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ 2008 سے لے کر ا ب تک ہونے والے 317 ڈرون حملوں میں صرف 2,227 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والے ان افراد میں صرف67 شہری جبکہ باقی سب دھشت گرد تھے۔ تیس اکتوبر کو نیویارک ٹائمز نے یہ کہانی شائع کی تھی …’’ اب سے پہلے پاکستان کا موقف تھا کہ ڈرون حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد چارسو کے قریب ہے لیکن موجودہ تبدیل شدہ بیان کے مطابق حکومتِ پاکستان شہری ہلاکتوں پر سی آئی اے کی بتائی ہوئی تعداد کی تصدیق کر رہی ہے۔‘‘

دو دن بعد، یکم نومبر کو تحریکِ طالبان پاکستان کا امیر حکیم اﷲ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دھائی دینا شروع کردی کہ مذاکرات (جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئے تھے) کو سبو تاژ کر دیا گیا ہے اور یہ کہ اب پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کرے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکیوں کے ہاتھوں ہونے والی اس ہلاکت کا معاملہ اٹھانے کے لیے حکومت ایک اور اے پی سی بلائے گی ۔ یہ بھی کہا گیا کہ حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کے معاملے کو امریکیوں کے سامنے اٹھایا جائے گا۔دینی و سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے طالبان کمانڈر، جس کے ہاتھ ہزاروں نہتے شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے، کی موت کا سوگ منایا۔ امریکی سفیر کو فارن آفس میں طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ تاہم ٹائمز لکھتا ہے…’’ پاکستان کے سول اور دفاعی افسران کے غصیلے بیانات ایک طرف، لیکن میڈیا میں افشاہونے والی کچھ خبریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ماضی یا حال کے رہنما ان ڈرون حملوں پر امریکہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘‘

جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اقتداران کے شوہر کو مل گیا تو اس سے ایک طرح امریکیوں کو اس خطے میں اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہری جھنڈی مل گئی تھی۔ سابقہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اُنھوں نے سابقہ امریکی سفیر این پیٹرسن سے کہا تھا کہ زرداری حکومت کو ڈرون حملوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اگست 2008 کو بھیجے گئے ایک کیبل پیغام میں گیلانی صاحب کے حوالے سے ہے…’’اگر وہ درست افراد ( انتہا پسندوں) کو نشانہ بناتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم قومی اسمبلی میں اس پر احتجاج کریں گے اور پھر بھول جائیں گے….‘‘

تو کیا ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اب بھی حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت پر مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں؟نواز حکومت پہلے ہی 2008 سے لے کر اب تک ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو چار سو سے کم کرکے سرسٹھ تک لے آئی ہے۔ نواز شریف کی امریکہ آمد سے پہلے ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ڈرون حملوں میں انتیس شہری ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اس پر امریکی میڈیا نے اس اعلان کو نمایاں جگہ دی اور کہا کہ شہری ہلاکتو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اب ایمنسٹی انٹر نیشنل نے پاکستان کو لکھا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے اعدادوشمار ’’خاصے مشکوک ‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کی وزارتِ دفاع نے مہیا کیے تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے…’’ اب یہ انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔‘‘

اپنی انتخابی مہم کے دوران نواز شریف نے عمران خان کے برعکس ڈرون حملوں پر بات کرتے ہوئے ایک محتاط انداز اختیارتھا۔ اُنھوں نے یہ دھمکی نہیں لگائی تھی کہ وہ پاکستانی کی حدود کی پامالی کرنے والے ڈرون کو گرانے کا حکم دیں گے۔ اُنھوں نے ہمسایہ ریاستوں، انڈیا اور افغانستان ، کے ساتھ مصالحت کی بات کی تھی ۔ چونکہ اُ س وقت ان کی نظر اہم ترین منصب پر لگی ہوئی تھی، اس لیے اُنھوں نے اپنے پتے نہایت احتیاط ، دانائی اور ہوشیاری سے کھیلے۔ اُس وقت جو صاحب ان کے خارجہ امور کے مشیر تھے، داد کے مستحق ہیں۔ اس لیے یہ بات پاکستان کے لیے خوش آئند تھی کہ باراک اوباما، من موہن سنگھ اور حامد کرزئی نے انتخابی مہم کے دوران نواز شریف کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ مسٹر اوباما نے تو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد نواز شریف سے ملنے کی توقع رکھتے ہیں۔ چناچہ وہ جب نواز شریف وائٹ ھاؤس گئے تو وہ خواہش تو پوری ہوگئی۔ اس دوران امریکی صدر نے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے اوراسے توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدددینے کا وعد ہ کیا۔ تاہم مسرت و انبساط کے ان لمحات میں پاکستانی لیڈر کو شاید ڈرون حملوں پر بات کرنا یاد ہی نہیں رہا تھا۔ چناچہ اب حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرے کیونکہ…’’اک طرف ’اُس ‘ کا گھر، اک طرف….‘‘والا معاملہ آن پڑا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ موجودہ قیادت اتنے ادق معاملات کے لیے خود کو تیار نہیں پاتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دکھائی گئی دانائی کو کس کی نظر لگ گئی؟

دوسری طرف عمران خان کو کسی نے نہایت احمقانہ مشوروں سے نواز رکھا ہے کہ ایک تو وہ ہمیشہ غصے میں رہا کریں اور دوسرے یہ کہ اپنے ہمسایوں اور امریکہ ، جو ان کے نزدیک ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازش کرتے ہیں، کے خلاف بیانات کے ڈرون داغتے رہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ کیونکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی صفوں میں آصف احمد علی، خورشید قصوری اور شاہ محمود قریشی جیسے سابقہ وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پارٹی کے انہی اہم رہنماؤں نے عمران خان کو مشورہ دے رکھا ہے کہ وہ ایسے بیانات تواتر سے دیتے رہا کریں جن سے پاکستان کے مفاد کو ٹھیس پہنچے؟ یا پھر عمران خان یہ سمجھتے ہیں پاکستان کو عالمی برادری ، خاص طور پر امریکہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے وسائل سے اپنا معاشی بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ یا پھر پاکستان صنعت اور ٹیکنالوجی میں باقی دنیا سے اتنا آگے ہے تمام دنیا ہم سے رہنمائی لیتی ہے؟ یا پھر ہم فوجی طور پر اتنے طاقتور ہیں کہ ہماری پیشانی شکن آلود ہوتے ہی دنیا سہم جاتی ہے؟ویسے خاں صاحب بتائیں تو سہی کہ وہ پاکستان کو کیا سمجھتے ہیں؟

یہ بات حقیقت ہے کہ دیدہ و نادیدہ قوتیں، چاہے وہ ملکی ہوںیا غیر ملکی، پاکستانی انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یقیناًسب کو این آر او یاد ہوگا کہ کس طرح اس نے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل دیا اور یہ معاہدہ غیر ملکی طاقتوں کی ایما پر طے پایا تھا… امریکہ کا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، برطانیہ کا فارن آفس اور ایک برادراسلامی ملک۔اورایسا پاکستانیوں کے وسیع تر مفاد میں نہیں کیا گیا تھا بلکہ اُنھوں نے دھشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنے لیے ایک اس خطے میں مزید سہولت پیدا کرنا تھی کیونکہ اُس وقت تک غیر ملکی طاقتوں کو پرویز مشرف کی ’’حدود ‘‘ کا علم ہو چکا تھا کہ اب وہ اس سے زیادہ کام نہیں دے سکتے۔ چناچہ ان کی جگہ محترمہ کو لانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن پھر ایک انہونی ہو گئی۔

اب نواز شریف کو ان تمام معروضات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ وزارتِ اعظمی ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ وہ نہ تو پاکستان کو عالمی طاقتوں کے پاس گروی رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی کاسہ لیسی کر سکتے ہیں۔ اُنہیں ان غلطیوں کا بھی احساس ہونا چاہیے جو ان سے پہلے ادوار میں سرزد ہوئی تھیں۔ سب کو یاد ہے کہ اُس وقت اقربا پروری کا دور دورہ تھا۔ میاں صاحب کو خوشامدی افراد نے گھیر رکھا تھا۔ اُنہیں دیکھنا ہو گا کہ اس مرتبہ پھر کہیں ایسا تو نہیں ہورہا۔ درحقیقت اس وقت پاکستان نہایت سنگین مسائل کا شکار ہے۔ اسے نہایت دانا اور صاحبِ بصیرت قیادت کی ضرورت ہے۔ اس وقت نواز شریف ان خوبیوں کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size