پارلیمانی معصومیت

کشور ناہید
کشور ناہید
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کسی بچے کی کاپی میں سے پھٹا ہوا کاغذ لے کر، ہمارے وزیراعظم اپنا بیان پریس کو لکھوا رہے تھے۔ اگر آپ انگریزی صحیح نہیں بول سکتے تو اپنی قومی زبان میں بیان دے دیتے مگر یہ اپنے ملک کی غربت دکھانے کا کیا طریقہ تھا۔ ابھی اوباما کہہ چکے تھے کہ وہ ایک سال گوجرانوالہ اپنی ماں کے ساتھ رہے ہیں۔ اوباما حیرانی سے دیکھ رہے تھے کہ کتنا معصوم ہے پاکستان کا وزیراعظم۔ یوں تو سوٹ غیرملکی ہے، کاش زبان اپنی ہوتی۔ اوباما کچھ نہ کچھ اردو سمجھتے تو ہوں گے۔ ظاہر نہیں کرتے ہوں گے کہ ایک سال رہ کر کچھ نہ کچھ دال اور قیمہ کے علاوہ بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم اتنے معصوم ہیں کہ بجائے اس کے کیری ملنے آتا، وہ خود اس سے ملنے چلے گئے۔ امریکی پریس بھی اتنا نالائق ہے کہ بجائے اس کے ہمارے وزیراعظم کی تعریف کرتے، الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا۔

یہ معاملہ چھوڑئیے میرے محترم وزیر اعظم صاحب! دنیا کے اعداد و شمار میں صنفی تفاوت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 135ویں نمبر پر ہے۔ یہ مسئلہ تو ڈینگی سے زیادہ سنگین ہے کہ 2015ء میں بیجنگ پلس کا تجزیہ کرتے وقت یہ مسئلہ تو زیر بحث ضرور آئے گا۔ پاکستان میں تو مذاق یہ ہوا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد، سارے محکمے الٹے پلٹے ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کا محکمہ، قانون کے محکمے میں ضم کر دیا گیا ہے۔ قومی کونسل برائے سماجی بہبود کو فکر میں لگادیا گیا ہے۔ خواتین سے متعلق اعداد و شمار حاصل کرنے ہوں تو کہا جائے کہ ویمن کمیشن ابھی نیا نیا ہے۔ ویمن منسٹری ختم کردی گئی۔ اسی طرح تمام صوبوں کو اپنا اپنا نصاب بنانے کا اختیار دے دیا گیا ہے، اب کہا جارہا ہے کہ مرکز کی سطح پر بھی نصاب کے لئے ایک مرکزی ادارہ بنایا جائے گا۔ صوبوں کی سطح پر بھی وزیر تو مقرر کردی گئیں مگر خواتین کی باقاعدہ وزارت ابھی تک مفقود ہے۔ محکمہ صحت کو وہ مراعات نہیں دی گئیں جو قومی سطح پر محکمے کو حاصل تھیں جب میں نے فنڈنگ ایجنسیز سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو فیڈرل گورنمنٹ سے ہی معاملات طے کرتے ہیں۔ پوچھا صوبائی سطح والے تو خودمختار ہیں۔ عجب گومگو کا عالم ہے۔ خود فنڈنگ ایجنسیز پریشان ہیں۔

پریشان تو بے نظیر انکم سپورٹ کے سارے کنسلٹنٹ ہیں۔ چار مہینے ہو گئے ہیں ان کو تنخواہ تک نہیں ملی ہے۔ بھلا ان سب غریبوں اور بیوائوں کا کیا حال ہوگا جن کو ہر ماہ ہزار روپے ملا کرتے تھے۔ ان کے گھروں میں بھی ملازمین کی طرح بے خوابی اور بھوک کا راج ہو گا۔

بے نظیر کے پہلے دور میں LHV's رکھی گئی تھیں۔ اس تجربے نے بڑا اچھا اثر ڈالا۔دیہاتوں میں پولیو سے لے کر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے سکھاتی رہی ہیں۔ آج سے 19برس پہلے وہ ملازم ہوئی تھیں۔ آج تک ان کو ایڈہاک ملازم رکھا ہوا ہے۔ وہ ہڑتالیں کرتی ہیں، مظاہرے تو کیا بھوک ہڑتال تک کرتی ہیں۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔اسی طرح پارک ٹاورز F-10 میں 1996ء میں مکمل ہوئی تھی۔ گزشتہ دنوں کمشنر پشاور گیس لیک ہونے کے دھماکے میں مارے گئے۔ اس بلڈنگ کا مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ بلڈنگ کے مالکان جان بوجھ کر نہیں لے رہے ہیں۔ اس میں ملی بھگت سی ڈی اے اسٹاف اور بلڈنگ کے بنانے والوں کی ہے۔

سارے فلیٹ فروخت ہوئے بھی17سال ہوگئے ہیں۔ مالکان، باقاعدہ مالکانہ حقوق مانگ رہے ہیں۔ کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا رہتا ہے۔ پارکنگ ایریا میں نوکروں کے اور اپنے رہنے کے لئے کوارٹر بنائے جارہے ہیں۔ سب لاقانونیت جاری ہے۔ یہی حال ہوا تھا مرگلہ ٹاورز کہ جہاں سیکٹروں لوگ ٹاور گرنے سے شہید ہوئے تھے۔ یہی حال مصطفیٰ ٹاورز کے علاوہ سارے اسلام آباد میں خاص کر بلیو ایریا میں تکمیلیت کے سرٹیفکیٹ نہیں ملے ہیں۔ مالکان، یوں تو مالک ہیں مگر کاغذوں خاص کر سی ڈی اے کے کاغذوں میں یہ تمام بلڈنگیں ابھی تک نامکمل ہیں، بھگت رہے ہیں اصل رہنے والے مالکان۔ویمن کمیشن کی چیئرپرسن کے احکامات ہوئے دس ماہ ہوچکے ہیں مگر ابھی تک اس خاتون کے باقاعدہ وزیر اعظم سے منظور شدہ کاغذات، تیار نہیں ہوئے۔ یہ صرف ان اکیلی خاتون کے ساتھ نہیں ہوا جتنے محکمے اٹھارویں ترمیم کے بعد re-orgnize ہوئے ہیں۔ سب کا پتلا حال ہے۔

بدانتظامی کا یہ حال ہے کہ اب تک تین مرتبہ اخبار میں اشتہار دینے کے باوجود ٹی وی کا ایم ڈی مقرر نہیں ہوسکا ہے۔ سارا کام ایڈہاک طریقے پر چلایا جارہا ہے۔آخر میں سلام ان ساری عورتوں، مردوں اور بچوں کو جو کوئٹہ سے پیدل چل نکلے ہیں، کراچی تک کے لئے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور اس تکلیف کا اندازہ کریں جو ان خاندانوں پر بیت رہی ہے۔ اندازہ کریں کہ بلوچستان کے چیف منسٹر ڈاکٹر مالک تک یہ کہہ چکے ہیں کہ میں تو لاپتہ افراد کو تلاش کرنے میں ناکام ہوگیا ہوں۔ اذیت کی بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت، کوئی بھی تو ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ ان کے بقول ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ مجھے لیاری کے باشندے بھی کہہ رہے ہیں کہ سلام تو ان رینجرز کو بھی کہیں کہ جنہوں نے انتہائی مشقت اور جدوجہد کے بعد، لیاری کے لوگوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں