.

ایک ورلڈ ریکارڈ،جو پاکستان یقیناً بنا چکا!!

ریاض احمد سید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک دن ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اشتیاق ہوا کہ کمپیوٹر کو زحمت دی جائے کہ یہ تو بتائے کہ دنیا کا بزرگ ترین اخباری کالم نویس کون ہے؟ گوگل میںworld oldest newspaper columnist لکھ کر تلاش کیا تو انکشاف ہوا کہ اس اعزاز کے دعویدار ایک سے زیادہ بزرگ ہیں اور سب کے سب امریکی ہیں۔

سب سے نمایاں نام مارگیٹ کالڈویل کا ہے۔ جو پرانی لکھاری ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ’’شکاگوٹریبون‘‘ کیلئے لکھا اور چند برس پہلے تک ’’ڈیزرٹ ویلی ٹائمز‘‘ کیلئے ہفتہ وار کالم لکھتی رہی ہیں۔عمر عزیز106برس کے لگ بھگ ہے۔ اب بڑھتی ہوئی عمر کے سبب کالم نگاری کا سلسلہ ختم ہو چکا اور لاس ویگاس میں اکلوتی صاحبزادی کے ساتھ ریٹائرڈ لائف گزار رہی ہیں۔ دوسرا نام امریکی ریاست ورماڈنٹ کے قصبہ بیننگٹن کی رہائشی ہیریٹ لیڈچ کا ہے جو روزنامہ بیننگٹن بینر کیلئے کالم لکھتی رہی ہیں ۔ مقامی نوعیت کے اس اخبار کی کل اشاعت محض7800ہے اور قارئین کا حلقہ بیننگن اور گرد ونواح تک محدود ہے ۔عمر عزیز گو9اپریل2013کو101برس ہوچکی، مگر تحریر میں باقاعدگی نہیں رہی اور ہفتوں اور مہینوں کے ناغے ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ محترمہ لکھنے لکھانے کا شغل ترک کر چکیں۔

اس حوالے سے گوئنز بک آف ریکارڈ میں جھانکا تو وہاںoldest regular newspaper columnist کے تحت ایک امریکی جیک ٹکر کی انٹری ملی۔ جن کی تاریخ پیدائش25اپریل1914ہے اور کیلے فورینا کی ویسٹ کائونٹی کے ہفتہ وار اخبار میں فلم، تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹس پر کالم لکھتے رہے۔ گو موصوف چند برس بیشتر وفات پا چکے مگر گوئنز بک آف ریکارڈز میں ابھی تک انہی کا نام درج ہے۔ایک اور نام مس ہیمن وے کا ہے وہ بھی امریکی ہیں۔29جنوری2013کوسنچری مکمل کی ہے۔ان کے پرستار بھی انہیں دنیا کی بزرگ ترین کالم نویس کا اعزاز دینے پر مصر ہیں۔ مگر فی الحقیقت ایسا نہیں وہ دوڑ میں کافی پیچھے ہیں۔ایسے میں میرا دھیان پاکستان کی ایک مایہ ناز علمی اورادبی شخصیت محترم محمود احمد سبز واری کی جانب چلا جاتا ہے جن کا اصل شعبہ معاشیات ہے اور حکومت پاکستان کے مشیر معاشیات رہے ہیں ، مگر صحافت میں بھی ایک مقام رکھتے ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ چھپنے والے اردو اخبار جنگ میں گزشتہ 18برس سے معیشت کی جھلکیاں کالم باقاعدگی سے لکھتے آئے ہیں۔ گو ہر موضوع پر قلم برداشتہ لکھنے پر قادر ہیں ، مگر کمال یہ کہ معیشت جیسے خشک موضوع پر لکھتے ہوئے بھی تحریر کی روانی اور شگفتگی متاثر نہیں ہوتی اور ایک زمانہ ان کے کالم کا منتظر رہتا ہے موصوف کے اجداد کا تعلق ایران کے قدیم شہر سبزوار سے تھا اور مغل شہنشاہ ہمایوں کے ہمراہ ہندوستان آئے۔ والد محترم نو اب آف بھوپال کے ہاں ملازم تھے اور آپ وہیں16جنوری 1913کو متولد ہوئے۔اردو،انگریزی،عربی،فارسی اور دینی تعلیم گھر پر پائی اور چوتھی جماعت میں اسکول میں داخل ہوئے۔ادبی ذوق گھٹی میں تھا،اسکول میگزین’’ گہوارہ ادب‘‘ کے اولین مدیر مقرر ہوئے۔بعد میں یہ اعزاز مرحوم احمد علی خاں،ایڈیٹر ڈان کوبھی حاصل ہوا۔ بارہویں کے بعد علی گڑھ جانا چاہتے تھے ، مگر ایک مہربان کے مشورہ پر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد میں داخلہ لے لیا۔گریجویشن اور ماسڑزوہیں سے اعزاز کے ساتھ کیا معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتے تھے۔ داخلہ بھی ہوگیا اور بہت سا تحقیقی موادبھی جمع کرلیا تھا کہ روزگار کاچکر کچھ ایسا چلا کہ ڈاکٹریٹ بیچ میں ہی رہ گئی؟ جس کا عمر بھر افسوس رہا۔

ملازمت کا آغاز ریاست بھوپال سے ہوا۔ پاکستان بنا تو یہاں سرکاری ملازمت میں آگئے تخصیص شماریات اور معاشیات کے شعبوں میں رہی ۔کراچی، پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں پوسٹنگ کاٹی اور پیشہ وارانہ تربیت کے سلسلے میں دومرتبہ امریکہ بھی گئے ادبی سفر جو1931میں شروع ہواتھا الحمدللہ آج تک جاری ہے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں یکساں سہولت کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ادب تاریخ، بینکاری اور معاشی مسائل پر ڈیڑھ صد سے سے زائد مضامین چھپ چکے ہیں۔ کتابوں کی تعداد دودرجن کے قریب ہے تراجم بھی کیے ، مقدمے ، دیباچے، لیف لیٹ اور تعارف بھی لکھے ۔ جس کسی پر قلم اٹھایا، اسے معتبر بنادیا ’’ یادوں کی مہک‘‘ خودنوشت ہے کئی اسکالرز ان کے فکروفن اور شخصیت پر مقالہ جات لکھ کر ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں ۔ امریکہ کے علاوہ 22دیگر ممالک کی سیاحت کرچکے ہیں۔ حج کی سعادت بھی حاصل ہوچکی اور رب العزت کا بے پناہ کرم کہ اولاد کی طرف سے بھی سکھی ہیں۔ قدرت نے چار بیٹوں سے نوازا ہے۔ آج کل سب سے چھوٹے کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ انہیں نظر بد سے بچائے اور صحت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے ۔آمین،ثم آمین!!

راقم ایک مدت سے سبزواری صاحب کا کالم پڑھتا آیا ہے ۔ موصوف کی تحریر آج بھی اتنی ہی پر مغز اور توانا ہے جتنی نصف صدی پہلے تھی۔ بلکہ اگر یہ کہوں کہ اس دوران زورقلم زیادہ ہوا ہے اور بتدریج ارتقائی منازل طے کررہا ہے ،تو کچھ غلط نہ ہوگا ماہ و سال کا اثر ان کے وجود اور چہرے بشرے پرہوا ہوتو کچھ کہا نہیں جاسکتا قلم کی رعنائیاں اور توانائیاں اس سے یکسر محفوظ ومصئون رہی ہیں اگر کسی کوشک گزرے تو موصوف کا تازہ ترین کالم(31۔اکتوبر)’’ قرضوں اور امداد سے معیشت چل نہیں سکتی‘‘ بغور پڑھ لے۔ ٹیکسوں، خصوصاً انکم ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی مجرمانہ غفلت کاتذکرہ جس انداز میں کیا ہے، انہی کا خاصا ہے روز افزوں مہنگائی روپیہ کی زبوں حالی، ڈالر کی گرانی کے مضمرات،سرکاری کارپوریشنوں/اداروں کے مسلسل گھاٹے، نجکاری کی چیخ وپکار اور اسکے پس پردہ عوامل جیسے مسائل کو اس قدر سادگی اور مہارت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ گویا کوزے میں دریا سمو دیا ہو ۔

اب تک قارئین کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ دنیا بھر کے عمر رسیدہ ترین اخباری کالم نگاروں کی صف میں کسی کا ریکارڈ بھی اپنے سبز واری صاحب جیسا توانا نہیں۔ کوئی لکھنا چھوڑ چکا، کوئی عمر میں چھوٹا ہے، کوئی چھوٹے موٹے مقامی اخبار میں چھپ رہا ہے،کوئی طویل ناغے کررہا ہے اور تعجب کی بات یہ کہ گوئنز بک آف ریکارڈ میں تو ایک ایسے شخص کانام درج ہے جوعمر میں سبزواری صاحب سے چھوٹا ہی نہیں راہی عدم بھی ہوچکا۔ حتی کہ جب اسے یہ اعزاز ملا،تب بھی اصل استحقاق سبزواری صاحب ہی تھا۔ موصوف کی تاریخ پیدائش16جنوری1913ہے اور ٹھیک دوماہ بعد انشاء اللہ 101برس کے ہوجائیں گے، جواہل پنجاب کے ہاں بہت ہی متبرک عدد ہے اور ’’ کوتر سو‘‘ کہلاتا ہے۔ بھلے وقتوں میں جب دولہا، دلہن کو پانچ،دس روپے کی سلامی دی جاتی تھی تو سوروپے کانوٹ پیش کرنے والوں کوبہ نگاہ تحسین دیکھا جاتا تھا۔ بعض شوئی قسم کے لوگ سو کے نوٹ کے ساتھ ایک روپے کانوٹ بھی شامل کردیتے ، تو بلے بلے ہوجاتی کہ فلاں نے کوتر سو کی سلامی دی ہے راقم کمپیوٹر کے معاملہ میں بہت ماٹھا ہے گوگل کے سوا کچھ نہیں جانتا ۔کیا کوئی ماہر شعبہ گوئنز والوں کے ساتھ بذریعہ ای۔ میل خط وکتابت کرکے محترم محمود احمد سبزواری صاحب کوان کا حق نہیں دلواسکتا ؟ آگے بڑھئے، سلسلہ جنبانی کیجئے ، یہ ورلڈ ریکارڈ پاکستان یقیناً بنا چکا ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.