.

حقیقت اور التباس

عرفان حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کی ریاست Kentucky Irfan Hussainمیں ایک محاورہ مشہور ہے…’’گھوڑے سے دوسری ٹانگ کھانے کے بعد آپ کوئی دانائی نہیں سیکھ سکتے ہیں۔‘‘اگر عمران خان اور نواز شریف جیسے سیاست دانوں کے افعال و اقوال کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ گھوڑے سے ایک ہزار ٹانگیں (یعنی دھشت گردوں کے ہزاروں حملوں ) کھانے کے بعد بھی کوئی سبق نہیں سیکھیں گے… ہو سکتا ہے کہ تب تک گھوڑا کوئی سبق سیکھ چکا ہو۔ ڈرون حملوں پر ہونے والی تمام تر احمقانہ بحث اب اعدادو شمار تک محدود ہو چکی ہے۔ جب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام سینٹ کو بتائے تو اپوزیشن نے ایک طوفان کھڑا کردیا اور الزام لگایا کہ وزیرِ موصوف نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو تبدیل کر دیا ہے۔ وزارتِ دفاع اور خیبر پختونخواہ کی حکومت کے اندازے کے مطابق ڈرون حملوں میں اب تک2,160 جبکہ 67 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں ۔ چوہدری نثار کے پیش کردہ اعداد وشمار ان سے کم تھے۔ عام آدمی سوچتا ہے کہ جب شہری ہلاکتوں کی تعداد کم ہو اور دھشت گرد زیادہ تعداد میں مارے جارہے ہوں تو پھر اچھی بات ہے لیکن عمران خان جیسے سیاست دانوں کے لیے یہ تعداد راس نہیں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا کر بتایا جائے تاکہ پاکستان اور امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ یہ حملے بند کیے جائیں۔

اسکے بعد فارن آفس بھی اس تنازعے میں شامل ہو گیا اور بیان دیا کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ ہمارے سفارت کار اتنے مستعدہیں کہ وہ دور افتادہ مقامات پر ہلاک ہونے والے کی نعشوں کو اسلام آباد یا دیگر ممالک میں بیٹھ کر ہی گن لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن علاقوں میں صحافی حضرات بھی داخلہ ممنوع ہے(جان کی حفاظت کی غرض سے) جبکہ ہمیں وہاں پیش آنے والے واقعات کی اطلاع صرف مقامی افراد یا فوج کے توسط سے ہی مل پاتی ہے۔ چناچہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق صرف یہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، جب کہیں ڈرون حملہ ہوتا ہے تو طالبان اس مقام کا گھیراؤ کر لیتے ہیں اور ہلاک یا زخمی ہونے والوں کو کہیں لے جاتے ہیں۔ اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے ، اور نہ ہی اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونیوالے دھشت گرد کتنے تھے اور عام شہری کتنے تھے۔

شاید سب سے قابلِ اعتماد اعداد وشمار ’’بی آئی جے‘‘(Bureau of Investigative Journalism) سے موصول ہوتے ہیں۔ بی آئی جے کے پاس معلومات کے بہت سے ذرائع ہیں۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق …’’ اب تک ہونے والے378 ڈرون حملوں میں 2,525 سے لے کر 3,613 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان میں 407 سے لے کر 926 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ‘‘ویسے تو ایک شہری کی بلاوجہ جان جانا بھی بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنگوں میں شہریوں کا جانی نقصان فوجیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں سوویت یونین کے بیس ملین افراد موت کے گھاٹ اتر گئے تھے۔کارپٹ بمباری اور ایٹمی حملوں سے ہیروشیما سے لے کر ہمبرگ تک کروڑوں بے گناہ شہری مارے گئے تھے۔جنگوں میں ایسا ہی ہوتا ہے ، اور یہ بات سمجھنے میں غلطی نہ کریں کہ ہمم بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔ عمران خان جو مرضی کہتے رہیں، اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ چاہے یہ جنگ پرویز مشرف کے کسی فیصلے کے نتیجے میں شروع ہوئی، چاہے اس کی وجہ کچھ بھی تھی، اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اب یہ ہماری جنگ ہے … بلکہ اب یہ ہمارے بچاؤ کی جنگ ہے۔

ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کو انسان دوستی اور عدم تشدد کا درس دیتے ہوئے فرمایا ہو کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ رسید کر ے تو دوسرا گال بھی آگے کردیں۔ معاف کیجیے ، ہمارے پاس یہ آپشن بھی نہیں ہے کیونکہ یہ تھپڑ ہمارے دوسرے گال پر ہی لگ رہے ہیں۔ طالبان ہماری جان کو آئے ہوئے ہیں اور ریاست پر قبضہ کرنے کا خواب ان کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے، لیکن حکومت ہو یا اپوزیشن، سب اُن کو خوش کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ سب اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں کہ وہ پانچ ہزار قانون نافذ کرنیو الے افراد کے علاوہ چالیس ہزار عام شہریوں کو ہلاک کرچکے ہیں (اب فضل اﷲ بھی واپس آرہا ہے) اور وہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لیے لفظ سٹیک ہولڈرز استعمال کیا جارہاہے۔ کوئی سیاسی قوت اُنہیں قاتل کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ڈرون حملوں کے مخالفین ایک دلیل دیتے ہیں کہ ان کی وجہ سے دھشت گردوں کے حامیوں میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ جو عام شہری ان حملوں میں ہلاک ہوجاتے ہیں تو ان کے رشتہ دار انتقام لینے کے لیے دھشت گردوں کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ توجیہہ جان لی جائے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ پھر ان جہادیوں کے خلاف لڑنے والے عام شہریوں کا بھی بہت بڑا لشکر تیارہوچکا ہو گا کیونکہ ان دھشت گردوں کے ہاتھوں اس سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جو ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔ درحقیقت اس بے بنیاد دلیل کا مقصد ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرکے دھشت گردوں کی مدد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔

کالم نگار اعجاز حیدر نے اپنے حالیہ مضمون میں حقیقت اور جھوٹ کو بہت عمدگی سے بے نقاب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ 2007 میں مشرف پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ان مسلح جتھوں، جنھوں نے مسجد میں مورچے بنائے ہوئے ہیں،کے خلاف جلد از جلد کاروائی کی جائے، اب وہ مشرف کو مجرم اور اُن انتہا پسندوں کو شہدا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر عالیہ علوی نے ایک اخبار میں خط لکھ کر بتایا ہے کہ وہ لال مسجد کے واقعات کی چشم دید گواہ ہے۔ اُن کے مطابق ان مسلح جتھوں نے مسجد اور اس کے قرب وجوار کی زندگی کو مفلوج کیا ہوا تھا۔ یہ واقعہ صرف چھے سال پہلے پیش آیا تھا اور سب سنے ٹی وی پر دیکھا تھا کہ کس طرح مسلح افراد مورچے بند تھے اور اُنھوں نے کس طرح اپنی دھشت سے شہریوں کو ہراساں کیا تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عوامی حافظے سے سب کچھ اتر چکا ہے اور وہ مسلح افراد شہدا کادرجہ پا چکے ہیں۔کیا ہم ریاست کو ان انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟

اب حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت پر آنسو بہائے جارہے ہیں اور بعد مولویوں نے تو اُسے شہید کا درجہ دے دیا ہے۔ وہ جنونی ، جس کے ہاتھ پر ہزاروں شہریوں کا خون ہے، جس نے بے شمار سیکورٹی کے جوانوں کوہلاک کیا، جس نے ملالہ پر گولی چلانے کا حکم دیا،اور جو بہت دیر سے ڈرون کے Hellfire میزائل سے بچ رہا تھا، آخر اس کا شکار ہو کر جہنم رسید ہوا۔ شکر ہے کہ اس دنیا میں انصاف بھی ہوتا دکھائی دیا ہے۔ حکیم اﷲ واصلِ جہنم ہوا اور… ’’کچھ لوگ پہچانے گئے۔‘‘

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.