.

صرف چھ ماہ باقی ہیں

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

2014 کے وسط تک زیادہ تر پاکستانی جس خدشے کے پیش نظر رو رو کر ہلکان ہو چکے ہیں، وہ سچ ثابت ہو چکا ہو گا، زیادہ تر امریکی افغانستان سے انخلا کر چکے ہوں گے اور ہم اپنے دہشت گردی کے جان لیوا روگ سے نمٹنے کیلئے تنہا ہوں گے۔ اگر اس کے بعد افغانستان میں کچھ برائے نام امریکی دستے موجود رہے تو شاید کچھ ڈرون بھی پرواز کرتے دکھائی دیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ان کی شدت میں کمی واقع ہوچکی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ شمالی وزیرستان میں موجود طالبان رہنما نہایت طمانیت قلب کے ساتھ ہماری بے سکونی میں اضافہ کرنے کے لیے آزاد ہوںگے۔

افغانستان پر قبضے کے دوران روسی صرف ایک چیز سے خوفزدہ تھے، اور وہ اسٹنگر میزائل تھے کیونکہ یہ میزائل روسی افواج کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ اسی طرح آج طالبان جس چیز سے بے حد خائف ہیں وہ ڈرون طیارے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیںہے۔ وہ ایک ایک کرکے دن گن رہے ہیں کہ کب وہ یہاں سے جائیں، یا کم از کم ان کی تعداد میں کمی واقع ہو۔ جس طرح اسّی کی دہائی میں پاکستان اس بات کا فہم نہیں رکھتا تھا کہ روس کے جانے کے بعد افغانستان کا کیا بنے گا، بالکل اُسی طرح یہ امریکیوں کی روانگی کے بعد افغانستان میں پیش آنے والے واقعات کی سنگینی کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ جس طریقے سے ہمارا سیاسی طبقہ حماقتوں کا اظہار کررہا ہے، اُسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کیونکہ پر امن مذاکرات کے حوالے سے ہونے والے تمام تر شور شرابے کے باوجود ایسا کچھ بھی نہیںہونے جارہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک کوئی بھی تحریک ِ طالبان پاکستان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات کی بنیادی شقوں کی وضاحت کرنے کے قابل نہ تھی۔ یہ مذاکرات دراصل وہ بصری اور سمعی واہمے تھے جن کا شکار ہم اکثر ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم عملی اقدامات سے پہلو تہی کرنا سیکھ چکے ہیں۔

جب امریکی افغانستان سے رخت ِ سفر باندھ لیںگے تو کیا طالبان جنگجو پہاڑوںسے اتر کر پاکستانی حکام کے قدموں میں ہتھیار ڈال کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے بڑے اطمینان سے اپنے اپنے روز مرہ کے کام کاج میں مصروف ہو جائیں گے؟ ایسا ہر گز نہیں ہوگا بلکہ ان کے نظریات مزید شدت سے پھیلیں گے اور ان کی پر تشدد کارروائیوں میں مزید اضافہ ہو گا، پاکستانیوں کا مزید خون بہے گا اور اُس وقت کوئی ڈرون بھی ہماری مدد کو نہیں پہنچے گا۔ ذرا تصور کریں جب طالبان خم ٹھونک کرکہیں گے کہ کل اُن کے عقیدے نے ایک سپرپاور (سوویت یونین) کو شکست سے دوچار کیا تھااور اب دوسری سپرپاور(امریکہ) بھی شکست کھاکر جارہی ہے تو پھر کمزور سی ریاست ِ پاکستان تو ویسے ہی ان کے لیے تر نوالہ ہے۔

ہو سکتا ہے کہ افغانستان کے معروضی حالات تبدیل ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں دوبارہ خانہ جنگی کا آغاز ہوجائے یا (اگر افغانستان خوش قسمت ہوا) طالبان اور دیگر قوتوں کے درمیان شراکت اقتدار کا کوئی فارمولا طے پاجائے لیکن ہمارے ہاں تحریک ِ طالبان پاکستان کی پیش قدمی جاری رہے گی۔ وہ طاقت کا مزا چکھ چکے ہیں اور کوئی بھی رضاکارانہ طور پر حاصل کردہ طاقت سے دستبردار ہونا پسند نہیںکرتا ہے۔ اس دوران ہمیں اپنے معاشرے میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلی کو بھی دیکھنا ہو گا .... گائوں دیہات کے ملا اور مولوی(جو صرف امامت کرانے، نکاح و نماز ِ جنازہ پڑھانے تک محدود تھے)معاشرے میں طاقت اور اختیار کے سرچشمے بن چکے ہیں۔

ماضی میں قبائلی معاشرے میں کم درجے کے طبقوں کے پاس جدید ہتھیار آچکے ہیں اور وہ مہنگی ترین گاڑیاں چلارہے ہیں۔ ان کے پاس مسلح جتھے ہیں ۔ ان انتہا پسندوں نے روایتی قبائلی سرداروں کی پرانی نسل ختم کر دی ہے۔ جب یہ لوگ ، جن کے پاس کچھ نہ تھا، اتنا کچھ حاصل کر سکتے ہیں تو کیا یہ صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر سابقہ زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے محلے کا مولوی راتوں رات امیر ہوجائے ،وہ معاشرے کا لیڈر بن جائے اور تمام امور اس کی مرضی سے طے پائیں ، اُس کی زبان سے نکلا ہوا لفظ قانون کا درجہ پائے تو کیا وہ اپنی اتھارٹی سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہوجائے گا؟ طالبان سے اپنے بات منوانے سے پہلے محلے کے مولوی کو تو اپنی بات منوا کردکھائیں۔

زیادہ تر طالبان ، چاہے اُن کا تعلق پاکستان سے ہو، افغانستان سے، وہ ناخواندہ یا کسی مدرسے سے نیم خواندہ(مزید خطرناک) ہیں۔ اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ پاکستان میں مدرسوں سے فارغ التحصیل بہت سے طالب علم ہیں اور ان کی تعداد میں برق رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے ، لیکن ان کی کم علمی اتنے بڑے مسائل پیدا نہیں کرتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی وہ طالبان کی صفوں میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے پاس جدید ہتھیار آ جاتے ہیں۔ دقیانوسی سوچ اور تنگ نظری میں جب ایک کلاشنکوف اور ایک راکٹ لانچر کا اضافہ کردیں تو اس سے ہلاکت خیزی کی جو مجسم صورت وجود میں آئے گی، وہ طالبان ہیں، اور ہم مانیں یا نہ مانیں، ہمارا مستقبل ان سے وابستہ ہو چکا ہے۔

اس صورت حال کو ایک اور زاوئیے سے دیکھیں۔ طالبان کی پناہ گاہیں پہاڑوں میں ان جگہوں پر ہیں جہاں فوجی دستے آسانی سے نہیں پہنچ سکتے ہیں، لیکن طالبان بڑی آسانی سے پشاور اور پنجاب اور پھر تمام ملک میں پھیل سکتے ہیں۔ اس دہشت گردی کے ساتھ ساتھ جرائم ، جیسا کہ اغوابرائے تاوان، بھتہ خوری اور کارچوری ، میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے طالبان کو فائدہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ طالبان وہیں پہاڑوں پر رہتے اور پاکستان اپنی جگہ پر رہتاتو پھر ان کی دقیانوسی سوچ سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن جب طالبان کو طاقت کا نشہ ہو چکا ہے تو اب یہ محض مذاکرات سے نہیں اترے گا۔ اگر میرے ایم کیو ایم کے دوستوں کو برا نہ لگے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ایم کیو ایم بھی کراچی میں سماجی ارتفاع حاصل کرچکی ہے۔۔۔ ماضی میں وہ کمزور لوگ تھے لیکن پھر وہ سماجی اور سیاسی طور پر طاقتور ہو گئے۔ اگر ایم کیو ایم کراچی میں اپنا اختیار کھونے کے لیے تیار نہیں ۔۔۔اگر کوئی معمولی سا واقعہ بھی پیش آجائے تو مسلح افراد پورے شہر کو بند کرا دیتے ہیں ۔۔۔ تو پھر طالبان اپنے اختیار سے دستبردار ہونے کے لیے کس طرح تیار ہو جائیںگے؟فرق یہ ہے کہ ایم کیوایم کا اختیار صرف سندھ کے شہری علاقوں تک محدود ہے لیکن دیوبندی مدرسوں اور اس مسلک کے پیروکاروںکی صورت میں طالبان پورے ملک میں اپنی موجودگی رکھتے ہیں۔ ان کے دست وبازو کی طاقت اور پہنچ کے نشانات جی ایچ کیو، مہران اور کامرہ جیسی حساس جگہوں پر بھی ثبت ہیں۔

اس وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اچھا لگے یا برا، جنگ ہمارے سروں پر مسلط ہو چکی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو تھوڑی دیر تک اپنی آنکھیں بند کر سکتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے ہم نے کافی دیر سے یہ شغل اپنایا ہوا تھا، لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں اپنی جگہ پر موجود رہے گا۔ اب یہ رٹے رٹائے جملے ادا کرنا بے کار ہے کہ یہ انتہا پسندی دراصل افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ اصل مصیبت یہ ہے کہ ہمارا سیاسی طبقہ کم و بیش بیک زبان ہو کر فریاد کر رہا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ اورموجودہ جغرافیائی نقشے پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ موجودہ ممالک دراصل جنگوں کا ہی نتیجہ ہیں۔ سلطنتیں بنتی، بگڑتی رہتی ہیں، اقوام عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی رہتی ہیں لیکن ایک غیر متبدل حقیقت اپنی جگہ پر موجود رہتی ہے... خون اور لوہا (ہتھیار اور ہلاکتیں) ہی اقوام کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اب ان الفاظ کو مہذب پیرائے میں بیان کر لیں لیکن اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔ ڈیگال نے کہا تھا...’’تلوار دنیا میں توازن پیداکرتی ہے اور اس کی طاقت لامتناہی ہے)۔ تاہم اس طاقت سے مراد اندھی طاقت نہیںہے۔ یونانی مصنف ہوریس کا کہنا ہے...’’ اگر طاقتور کے پاس عقل نہ ہو تو وہ خود کو ہی نقصان پہنچا لیتا ہے۔ طاقت اور دانائی مل کر دیوتائوں کی عظمت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔‘‘ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہ تو طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نہ ہی دانائی کا۔ ہم صرف احمقوںکی طرح گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر چلا رہے ہیں جبکہ گھر کی بنیادوں کو دشمن تیزی سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ہمارے سیاسی طبقے فہم و فراست سے عاری ہیں۔ وہ کہنے کو تو جمہوریت پسند ہیں لیکن دراصل اس کی آڑ میں فعالیت سے جان چھڑانا مقصود ہوتا ہے۔ کیا کوئی بھی پارلیمان کی کارروائی کو سنجیدگی سے لیتا ہے؟جہاں تک دفاعی اداروں کا تعلق ہے تو وہ ماضی میں افغانستان میں اپنی اسٹرٹیجک گہرائی تلاش کرنے میں مگن تھے۔ کیا ابھی وہ اُنہیں خطوط پر سوچ رہے ہیں؟

اب ہمارے پاس لے دے کے چھ ماہ رہ گئے ہیں۔ ہم ان ایک سو اسی دنوں کا بہتر استعمال کرتے ہوئے طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر سکتے ہیں... آسمانوں سے ڈرون حملے اور پاک فوج کی زمینی کارروائی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر امریکی چلے جائیں گے اور تب تک طالبان مزید تقویت حاصل کرچکے ہوں گے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ یہ سمجھنے کے لیے بہت دانا ہونے کی ضرورت نہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.