.

پیوٹن ۔۔۔۔دنیا کا طاقتور ترین شخص

ماہر علی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ولادی میر پیوٹن کو بظاہر خوش ہونا چاہیے کہ پچھلے ہفتے فوربس میگزین نے ان کو دنیا کا طاقتور ترین شخص قرار دے دیا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پیوٹن نرگسیت پر یقین رکھتے ہیں ۔ فوربز نے ان کو اس بناء پر اوبامہ، پوپ فرانسس اور ژائی جن پنگ پر برتری نہیں دی اور نہ ہی اس لیے کہ وہ نیم برہنہ حالت میں اپنی جسمانی مضبوطی دکھاتے ہوئے تصویر کھینچواتے ہیں ۔انہوں نے یہ فیصلہ بین الاقوامی سیاست میں ان کے جدوجہدکوسامنے رکھ کر کیا ہے۔ جس طرح وہ شام میں اپنی موقف پر مضبوطی سے قائم رہے اور امریکہ کو مطلوب سنوڈن کو پناہ دیکر امریکی دباؤ کو برداشت کیا، وہ اس خطاب کے مستحق ہیں۔دونوں واقعات کے محرکات پر تو سوال اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ان قدامات کے خاطر خواہ نتائج بر آمد ہوئے۔

شام میں جاری خون ریزی وہاں کے بھوک افلاس اور بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ ہولناک ہے۔لیکن اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ امریکی بمباری سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا۔یہاں تک کہ امریکی صدر بھی اس معاملے میں اتنے چوکس تھے کہ جب برطانوی پارلیمنٹ نے کیمرون کے جنگ سے متعلق قرار دار کو مسترد کیا تو اوبامہ نے بھی یہ معاملہ کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا۔

پارلیمان میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد جب کیری نے بیان دیا کہ اگر شام کیمیائی ہتھیاروں سے دستبرداری کا اعلان کردے تو ہم فوجی حملہ نہیں کریں گے تو روس نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو مثبت جواب دیا۔ بعد ازان بین الاقوامی نگرانی میں ہتھیاروں کے پیداواری پلانٹ تباہ کیے گئے۔اگرچہ روس کی طرف سے حکومت مخالفین کو ہتھیاروں کی سپلائی کی مذمت جاری ہے اور پیوٹن شامی حکومت کو ہتھیاروں کی فراہمی سے صاف انکار کر چکے ہیں لیکن شام میں جنگ و جدل حسب سابق جاری ہے۔

ماسکو اس بات سے بھی خوش دکھائی دے رہا ہے کہ سنوڈن کے معاملے کی وجہ امریکہ اور اس کے کچھ یورپی اتحادیوں خاص کر کے جرمنی کے درمیان سرد مہری پیدا ہو گئی ہے اور آج کل سنوڈن کو جرمن شہریت دینے کے لیے با قاعدہ عوامی مہم شروع کی گئی ہے۔
وہ غالباََ ادھر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہونگے ۔ اگرچہ پیوٹن نے سنوڈن کو ہر ممکن سہولیات دینے کی یقین دہانی کرادی ہے اور روس کے مقامی سیاست کے تناظر میں اس بات میں وزن بھی ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی روسی اہلکار سے سنوڈن جیسی حرکت سرزد ہوتی اور وہ بیرون ملک پناہ لیتے تو روس کا رد عمل کیا ہوتا ؟

پیوٹن نے سینٹ پیٹسبرگ کے ڈپٹی میئر کے عہدے سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور جلد ہی Boris Yeltsin کے دور میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئے ۔ Boris Yeltsin کے بعد ان کے جانشین مقر ہوئے ۔ سویت یونین کے خاتمے کے بعد کرپٹ سیاسدانوں کے خلاف اقدامات نے ان کو عوام میں مقبول بنا دیا۔لیکن بعد میں معاشی پالیسیوں کی وجہ سے وہ اپنی وہ مقبولیت برقراقر نہ رکھ سکے جو انہیں شروع کے دنوں میں حاصل تھی۔ سرمایہ درانہ نظام تب تک اچھا ہے جب تک اس کو کنٹرول میں رکھا جائے لیکن پیوٹن معاشی معاملات کو کنٹرول کرنے میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے اس کا اندازہ سوشی میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے۔ بیجنگ اولمپکس میں 43ارب ڈالر کا خرچہ آیا تھا جبکہ لندن اولمپکس میں 13.9ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کے مقابلے میں سوشی المپکس کے شروع ہونے اب بھی تین مہینے باقی ہیں لیکن53ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

ان کے مخالفیں کی طرف سے الزام لگایا جاتا ہے کہ مختلف سرکاری کمپنیوں میں پیوٹن 40سے70ارب ڈالر کے حصہ دار ہیں۔اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو وہ اگلے سال با اثر شخصیت کے بجائے فوربز کی لسٹ میں دنیا میں سب سے زیادہ مالدار شخص کی حیثیت سے سر فہرست رہیں گے ۔تاہم ماسکو کی طرف سے ان اطلاعات کو پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔

پیوٹن کے ساتھ اختلاف رائے رکھنا چاہے کسی بھی صورت میں ہو ، نقصان دہ ہے۔پچھلے سال ماسکو کے ایک چرچ کے سامنے ان کے خلاف مظاہر ہ کرنے والی تین لڑکیوں میں سے دو اب بھی جیل میں ہیں۔حال ہی میں قطب شمالی میں تیل نکالنے کے خلاف مظاہر ہ کرنے والے گرین پیس کے بحری جہاز کو کھلے سمندر سے قبضے میں لیا گیا اور عملے کے 30 غیر ملکی ارکان کو غنڈہ گردی کے جرم میں گرفتار کیا گیا اوراب ان کو عدالتی کیس کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ پچھلے سال پیوٹن کی صدارت میں واپسی کیخلاف مظاہرہ کرتے ہوئے جو لوگ گرفتار ہوئے انکو ابھی تک عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

اگر 2008ء میں پیوٹن دوبارہ منتخب ہوتے تو امکان یہی تھا کہ وہ تا حیات صدارت کے عہدے پر فائز رہتے ۔ اب بھی اگر وہ 2024ء تک صدر رہے تو سٹالن کے بعدانہیں سب سے طویل مدت تک صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہوگا۔لیکن وہ خود کو سٹالن کے ساتھ موازنہ نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ پہلے ٹی وی میں ایک سوال جواب کے سیشن کے دوران جب انہوں سے پوچھا گیا کہ اپنے مخالفین کے ساتھ آپ جو سلوک کرتے ہیں وہ سٹالن کی یاد تازہ کرتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سٹالن اپنے ظلم وجبر کی وجہ سے انسانی حقوق اور قانون کی خلاف ورزی کرتے تھے لیکن موجودہ روس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

جس کسی نے بھی فوربز میگزین کی یہ لسٹ بنائی ہے، سابق KGB ایجنٹ اور FSB چیف کو اپنے ان اقدامات کی وجہ سے بااثرترین شخصیت قرار نہیں دیے تاہم اگر وہ اپنی آمریت کوماسکو اور سینٹ پٹسبرگ سے باہر کی دنیا میں پھیلا دیں تو اگلی دفعہ بھی وہ فوربز کی طرف سے دیے گئے اس منصب پر برقرار رہ سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.