.

بیت اللہ سے لپٹا ہوا ایک کسان اور بعض حکمران

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے وزیر اعظم نہ جانے کیوں یکایک سرگرم بلکہ یوں کہیں کہ وزیر اعظم ہو گئے ہیں اور ہمارے ناگفتہ بہ حالات کا ایک درد مند پاکستانی کی طرح جائزہ لینے لگے ہیں اور موثر کارروائیوں کا وعدہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ کام وہ نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا لیکن میں چونکہ اس اچانک تبدیلی کے ساتھ اپنے آپ کو مانوس اور موافق نہیں کر پا رہا اس لیے آپ سے ایک آدھ دن کی تاخیر کی اجازت لے کر ان حاجیوں کا خیرمقدم کر رہا ہوں جو اس سعادت سے حال ہی میں سرفراز ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ مجھ سے ملنے تشریف لائے ان دعاؤں کو دہراتے ہوئے جو انھوں نے مجھ خاکسار کے لیے اللہ کے گھر میں اور حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں بیٹھ کر مانگی تھیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دعاؤں کو قبول کرے۔ میرے اعمال کو نہیں ان حجاج کرام کو دیکھے جو ان درباروں میں حاضر ہو کر مجھے یاد کرتے رہے۔ ویسے میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ ان مقامات پر پہنچ کر سب سے پہلے کوئی بھی انسان اپنی ذات کے لیے فریاد کرتا ہے پھر دوسری تیسری بار کی حاضری میں دوسروں کو بھی یاد کرتا ہے اور یہ سب قدرتی بات ہے نہ اس پر تعجب کیجیے نہ گلہ شکوہ۔

خدا کرے وہ وقت آپ پر بھی آئے جب آپ بیت اللہ کے سامنے بیٹھے ہیں تو اس لمحے آپ کو مکمل طور پر سب کچھ بھول جاتا ہے، انسان کی اپنی ذات بھی کسی آسمانی جلوے میں گم ہو جاتی ہے چونکہ خود فراموشی کے ان لمحوں کی کوئی یاد آپ کے پاس نہیں ہوتی اس لیے آپ اس تاثر کو بیان بھی نہیں کر سکتے لیکن اس دیہاتی کی اس حالت کو شاید کوئی بیان کر سکے کیونکہ اس کیفیت میں اس نے جو کچھ کہا وہ بہت کچھ بتاتا ہے۔ میرے ایک مہربان نے ایک بار بتایا کہ انھوں نے حج کے طواف کے دوران دیکھا کہ ایک دیہاتی بے پناہ بھیڑ میں کسی نہ کسی طرح کعبہ کی دیوار تک پہنچ کر اس سے چپک گیا اور کہنے لگا کہ ’’یا باری تعالیٰ جب سے میں کچھ کمانے لگا ہوں حج کے لیے رقم پس انداز کرتا رہا ہوں۔ اب کہیں جا کر حج کے اخراجات جمع ہوئے ہیں اور میں حاضر ہو گیا ہوں۔ میں تو یہی کچھ کر سکتا تھا آگے آپ کی مرضی جو میرے ساتھ کریں آپ کریں۔‘‘ اس دیہاتی حاجی کی اس بات کو آپ دعا کہیں یا کوئی اور نام دیں اس سے بڑی دعا شاید ہی کسی نے مانگی ہو۔ مجھے اس دیہاتی کا اتا پتا کچھ معلوم نہیں تھا ورنہ میں اس نیک دل معصوم مسلمان کی زیارت ضرور کرتا لیکن مجھے اتنا معلوم ہوا کہ وہ ایک کاشتکار تھا۔ کوئی آڑھتی یا تاجر یا سیاستدان نہیں تھا کیونکہ یہ لوگ ایسی بات کہہ ہی نہیں سکتے یہ کسی کسی کے نصیب کی بات ہے۔

اب میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ عرض کرتا ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس تحریر کو نہیں پڑھیں گے اور نہ کوئی ان کا متعلقہ ساتھی ان کو پڑھ کر سنائے گا۔ ایک لطیفہ ملاحظہ کیجیے کہ میاں صاحب کی تین میں سے ایک وزارت عظمیٰ کے زمانے میں اسلام آباد میں ان کی خدمت میں حاضری کا موقع ملا۔ چند اہم صحافیوں کے ہمراہ میں نے یا کسی اور نے پوچھا کہ آپ اخبار بھی پڑھتے ہیں یا نہیں۔ اس پر کسی نے کہا کہ وزیر اعظم کو خبروں اور دوسری تحریروں کی ایک مختصر سی سمری روزانہ بھجوائی جاتی ہے۔ اس پر محترم مجید نظامی صاحب نے بے ساختہ کہا کہ میاں صاحب سمری بھی نہیں پڑھتے اور یہ بات ایک اجتماعی قہقہے میں ختم ہو گئی۔ ہمارے معروف حکمران اپنے بارے میں بری خبروں والے اخبار بالعموم نہیں پڑھتے اور اب تو وہ صرف ٹی وی پر لایعنی بحثیں تفریحاً سن لیتے ہیں۔ ایک حکمران ضیاء الحق تھا جو دعویٰ رکھتا تھا کہ وہ اخبار نویسوں سے زیادہ اخبار پڑھتا ہے اور پڑھتا کیا ہے گھول کر پی جاتا ہے۔ افسوس کہ اس حکمران کو گالیاں دینے والے تو بہت ملے مگر اس کا دفاع کرنے والے اکا دکا بھی نہیں۔

اس کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ سوویت یونین کی بربادی اور خاتمے کا ایک موثر ہتھیار بنا تھا اور کون نہیں جانتا کہ سوویت یونین کے حکمران مسلمان پاکستان کے خلاف تھے وسطی ایشیا کی مسلمان ریاستوں کے بعد انھوں نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد پاکستان کا رخ کرنا تھا۔ ایک بار روس کے حامی بعض اہم اخبار نویسوں عبداللہ ملک اور شیخ حامد محمود کے ذریعہ اپنے اس جونیئر کو شیخ حامد صاحب کے گھر بلایا جہاں روسی سفیر سرور عظیموف سے ملنا تھا۔ لمبی گفتگو میں جس کے اقتباس بی بی سی نے بھی نشر کیے روسی سفیر نے گفتگو کے آخر میں میرے ایک بظاہر سرسری سے سوال کے جواب میں کہا کہ کون کہتا ہے ہم گرم سمندری پانیوں کے لیے بیتاب ہیں جن کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے اس کے لیے ہم آپ کے چند جرنیلوں کو دے دلا کر راستہ لے سکتے ہیں۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ پھر تو کام آسان ہے اور یہ سن کر وہ اس طنز پر ہنس پڑا۔ ظاہر ہے کہ سپر پاور روس کے مقابلے میں ہم کیا تھے اور امریکا کے بغیر روس کا کیا بگاڑ سکتے تھے لیکن امریکا کے میزائل اور ہمارے کندھے روس کو لے ڈوبے۔ سوویت یونین مر گیا لیکن ضیاء الحق کا یہ گناہ زندہ رہے گا۔ اسی طرح بھٹو کی پھانسی بھی جس پر بات ہو سکتی ہے لیکن اب یہ سب اخباری نہیں تاریخی موضوع ہیں صرف ترقی پسندوں کو ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔

میں جناب وزیر اعظم کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا تھا لیکن کالم تمام ہوا البتہ خدا ان کو کسی آمر کی نظر بد سے بچائے۔ اگر وہ اپنے ساتھیوں سے بچ گئے تو ہم تو پھر بھی عرض کرنے کے قابل رہیں گے۔ ہمارے تخت و تاج کو کیا خطرہ جو ہمارے قلم و قرطاس سے بنا ہوا ہے اور ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جب مرضی ہو اسے بچھا لیں اور اس پر بیٹھ جائیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.