.

FMCT امتیازی ہے، پاکستان پر دبائو کیوں؟

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے معاہدہ پر مذاکرات ایک عرصے سے جنیوا میں ہورہے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی مواد کو بنانا بند کرے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس جتنا ایٹمی مواد ہے وہ دُنیا میں سوائے شمالی کوریا کے سب سے کم ہے اور وہ ممالک جو یہ معاہدہ کرنے پر زور دے رہے ہیں، اُن کے پاس ٹنوں کے حساب سے ایٹمی مواد موجود ہے تو پھر پاکستان پر کیوں دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کرے۔

یہ مذاکرات ہر سال جنوری میں شروع ہوتے ہیں اور اگست میں ختم ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے ممالک بشمول فرانس، انڈیا اور دیگر ممالک ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے کے خلاف ہیں لیکن امریکہ نے صرف پاکستان کو ہدف بنایا ہوا ہے کہ پاکستان ہی ایسا معاہدہ کرنے میں رکاوٹ ہے۔ اگر ایسا ہے بھی تو کون سی غلط بات ہے۔

پاکستان اپنے ہتھیاروں کو بڑھانا چاہتا ہے جو اُس کی ضرورت ہے اور اُن کو مختلف شکل میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں میں تنوع رہے۔ اگر ایٹمی مواد کی موجودگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں اور مصدقہ ذرائع سے اِس کی تصدیق کریں تو پتہ چل جائے گا کہ گلوبل میزائل رپورٹ میٹریل رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ 30 ٹن، روس 95 ٹن، فرانس 5 ٹن، چین 4 ٹن، شمالی کوریا 0.035 ٹن پلوٹینیم پیدا کرکے محفوظ کر چکا ہے اور اگر ملٹری (HEU) کی پیداوار کو دیکھیں تو امریکہ 390 ٹن، روس 616، برطانیہ 11.7 فرانس 30، چین 16، انڈیا 2، پاکستان 2.75 اور اسرائیل 0.3 ٹن، مگر انڈیا بڑی تیزی سے پاکستان کے قریب پہنچ رہا ہے۔ جس کی اطلاع امریکہ کے تھنک ٹینک کے سربراہ مائیکل کریپن نے یہ کہہ کر دے دی تھی کہ اگرچہ اس وقت پاکستان ایٹمی مواد تیار کرنے میں خرگوش کی رفتار سے دوڑ رہا ہے اور انڈیا کچھوے کی چال سے، مگر جلد کچھوا خرگوش کی طرح دوڑنے والے ملک کے آگے بڑھ جائے گا۔ اُن کا یہ بیان ایک مضمون کی شکل میں شائع ہوا جو اگرچہ متعصبانہ اور پاکستان دشمن کے زمرے میں آتا ہے اور یہ شخص پاک انڈیا ٹریک ٹو کا ڈائریکٹر رہ چکا ہے۔

میں خود اس سے کراچی میں مارچ 1997ء میں ملا ہوں۔ اس وقت اس نے یہ الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کو دھوکا دیا ہم افغان جنگ میں الجھے ہوئے تھے اور پاکستان نے وعدہ کے برخلاف ایٹم بم بنا لیا۔ میں نے امریکہ کی معصومیت کو سراہا کہ اگر آپ جیسا ملک اتنا معصوم ہو کہ اس کو پتہ نہ چلے کہ ہم 1983ء میں ہی ایٹم بم بنا چکے تھے تو پھر آپ کا سپر طاقت ہونے کے دعوے کی کوئی حقیقت نہیں۔ دراصل امریکہ کو پاکستان کی سخت ضرورت تھی اس لئے ہماری تیاریوں سے آپ صرفِ نظر کرتے رہے اور پھر یہ بھی معلوم تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام انڈیا کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں ہے۔ گاہے بگاہے اور ہر سال یا جب بھی پاکستان پر دبائو بڑھانا ہو تو پاکستان کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں۔ اب 5نومبر 2013ء کو امریکی محکمہ خارجہ کے ہتھیاروں کے کنٹرول و توثیق اور کمپلائنس بیورو کے نائب وزیر خارجہ فرینک اے روز نے ایک دفعہ پھر لن ترانی شروع کی ہے کہ پاکستان ایٹمی مواد بنانے کے عمل کو روکنے میں رکاوٹ ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ امریکہ کا ایٹمی پروگرام فرسودہ اور پاکستان کا پروگرام جدید ترین، اس لئے بھی امریکہ کے پیٹ میں گاہے بگاہے درد اٹھتا رہتا ہے۔ اب وہ اس کو جدید کرنے میں اربوں ڈالر کے اخراجات کی منظوری دے چکا ہے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنی اقوام متحدہ کی تقریر میں واضح کر چکے ہیں کہ آپ ہم پر دبائو ڈالنا چھوڑیں، پاکستان اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ لگتا ہے کہ امریکیوں کو بات اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی جب تک آپ ان کے سامنے تن کہ نہ کھڑے ہو جائیں اور ان کو سمجھانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا اظہار ضروری ہے۔ جس طرح کہ مسلح افواج کی مشقوں میں پاکستان نے ڈرون گرا کر اظہار کیا۔

جیسا کہ سلالہ حملہ کے بعد امریکہ کی سپلائی روک کر کیا۔ جیسا کہ انڈیا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے جواب میں چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا کر کم فاصلہ کے میزائل بنائے اور انڈیا کے جارہانہ عزائم کا حامل کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کو موت کی نیند سلا دیا ۔اب یہ ضروری ہوگیا ہے پاکستان ہاتھ پیر مارنا شروع کرے اور اپنی صلاحیت کا اظہار کرکے پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے بجلی اور گیس کی ضرورت کو پورا کرکے آئی ایم ایف سے جان چھڑائے۔ امریکہ کو یہ بتا دے کہ اگر ہمیں آپ کی ضرورت ہے تو آپ کو بھی ہماری ضرورت زیادہ ہے۔ امریکہ کو یہ جان لینا چاہئے کہ اُس کے خلاف پاکستان میں جذبات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے امریکی عزائم پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکیں گے۔ انڈیا کو امریکہ عالمی ایٹمی اداروں تک رسائی دے رہا ہے اور پاکستان کو نظرانداز کررہا ہے جبکہ پاکستان کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں واضح کردیا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایٹمی عدم پھیلائو کے لئے مکمل طور پر کام کرنے کو تیار ہے مگر امریکہ ہے کہ ہمیں دبائے چلا جا رہا ہے۔

پاکستان کیوں ایف ایم سی ٹی پر راضی ہو جبکہ وہ امتیازی ہے، پاکستان کے پاس ایٹمی مواد کی تعداد دنیا کے ملکوں کے پاس ہونے والے ایٹمی مواد کا عشر عشیر بھی نہیں، اس کے علاوہ امریکہ انڈیا کو سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرکے خود ایٹمی پھیلائو کے اصول کو توڑ چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایٹمی عدم پھیلائو جسے Nuclear (CD)Disarmament کہتے ہیں پر بھی معاہدہ کرنے کیلئے اصرار نہیں کرتا ہے بلکہ وہ اس پر بات کرنا چاہتا ہے، اس طرح وہ ایران و سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ وہ اپنے اس اعلان کے بموجب کہ کسی غیر ایٹمی ملک پر ایٹمی حملہ نہیں کریگا، اسے Negative Security Assuranceکہتے ہیں یہاں بھی وہ معاہدہ نہیں صرف بات چیت کرنے کے حق میں ہے، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ خلاء کو ایٹمی اور دیگر ہتھیاروں سے بھر رہا ہے جس پر چین اور روس کو اعتراض ہے کہ امریکہ ایسا نہ کرے اس سے انسانیت کو خطرہ لاحق ہے۔ جسےPROTECTIVE ARMAMENT OUTER SPACE (PAROS) اس پر بھی امریکہ صرف بات چیت کیلئے دستیاب ہے ،معاہدہ کیلئے نہیں کیونکہ ایسا کرنا اس کے مفاد میں ہے، وہ صرفFMCT یعنی ایٹمی مواد کی پیداوار کو روکنے پر زور دے رہا ہے، جس سے پاکستان کی مفادات پر ضرب پڑتی ہے اس لئے پاکستان کو قبول نہیں ہے، امریکہ کو چاہئے کو پاکستان پر دبائو بڑھانا بند کرے اور پاکستان سے اچھے تعلقات کی شروعات کرے۔پاکستان کے تمام طبقہ سے تعلق رکھنے والے اہم افراد یہ کہتے ہیں کہ یہ بات خواب ہوئی کہ کوئی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو اٹھا کر لے جائے گا، ایک سائنسدان تو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا اب کوئی دشمن نہیں رہا، حکمرانوں کی ٹانگیں کیوں کانپتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.