میز کی دوسری طرف

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

دنیا کا نامور نفسیات دان سگمنڈ فرائڈ یہودی تھا‘ اس کا والدجیکب فرائڈ اُون کا کاروبار کرتا تھا‘ یہ لوگ آسٹریا میں رہتے تھے‘ سگمنڈ فرائڈ کا والدسرپر یہودیوں کی مخصوص ٹوپی رکھتا تھا‘ فرائڈ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ کہیں جا رہا تھا‘ یہ لوگ فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے‘ وہاں سے اچانک جرمن نوجوانوں کا ایک گروپ گزرا‘ انھوں نے فرائڈ کے والد کو دیکھا تواس کے سر سے ٹوپی نوچی‘ سڑک پر پھینکی‘ ننگی گالیاں دیں‘ تھپڑ اور ٹھڈے مارے اور فرائڈ کے والد کو فٹ پاتھ پر گرا کر چلے گئے‘ فرائڈ کا والد اٹھا‘ اس نے سڑک سے ٹوپی اٹھائی‘ جھاڑی‘ سر پر رکھی اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑا‘ فرائڈ نے گھر واپس پہنچ کر والد سے پوچھا ’’ ہمارے ساتھ بہت برا سلوک ہوا مگر آپ خاموش رہے‘‘ کیوں؟‘ والد نے اثبات میں سرہلایا اور بولا ’’ بیٹا‘ میں اگر چاہتا تو میں بھی ان سے بھڑ جاتا‘ میں گالی کا جواب گالی سے دیتا‘ پانچ تھپڑوں کے جواب میں ایک تھپڑ مار دیتا اور ان میں سے کسی ایک کو جکڑ کر نیچے دبا لیتا لیکن میں اگر ایسا کرتا تو تم پوری زندگی لوگوں سے بھڑتے رہتے اور میں یہ نہیں چاہتا ہوں‘‘ فرائڈ غور سے والد کی طرف دیکھنے لگا، والد نے کہا’’ بیٹا تم اس ملک میں اقلیت ہو‘ تم مار کھانے کے لیے تیار رہو اس وقت تک جب تک تمہارا نام مارنے والوں کے تھپڑوں اور ٹھڈوں سے بڑا نہیں ہو جاتا‘‘۔

فرائڈ کا والد پڑھا لکھا اور سمجھدار شخص تھا‘فرائڈ بھی دانشور اور نفسیات دان تھا چنانچہ وہ فرد کی غلطی‘ فرد کے ظلم کو فرد کا ظلم اور غلطی سمجھتا تھا‘ وہ اسے اجتماعی ظلم اور غلطی نہیں بناتا تھا‘ یہ فرق ایک ان پڑھ اور پڑھے لکھے شخص کا فرق ہوتا ہے‘ ان پڑھ پر کوئی ایک پنجابی‘ کوئی ایک سندھی‘ کوئی ایک پشتون یا کوئی ایک بلوچی ظلم کرے تو وہ دل میں پوری کمیونٹی کے خلاف نفرت پال لیتا ہے‘ وہ اس ظلم کا بدلہ ہر بلوچی‘ ہر پشتون‘ ہر سندھی اور ہر پنجابی سے لیتا ہے جب کہ پڑھا لکھا شخص یہ سمجھتا ہے تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے‘ اگر کوئی ایک شخص برا ہے تو ضروری نہیں اس شخص کے قبیلے کا ہر شخص برا ہو گا‘ قبیلے میں اچھے لوگ بھی ہوں گے اور یہ بھی ضروری نہیں میں جس قبیلے یا خاندان سے تعلق رکھتا ہوں‘ اس کے سارے لوگ بھی اچھے ہوں گے‘ میرے قبیلے کے لوگ بھی برے اور ظالم ہو سکتے ہیں ا ور یہ ورژن ہی سچا اور اصل ہوتا ہے‘ ہمارے دائیں بائیں سترہ مزاج کے لوگ ہوتے ہیں‘ ہمارے بہن بھائی بھی برے‘ ظالم اور بدمعاش ذہنیت کے مالک ہو سکتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے دنیا کا برے سے برا شخص بھی چوبیس گھنٹے برا نہیں ہوتا‘ ہم اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی بنیاد پر دوسرے کے بارے میں رائے بناتے ہیں‘ ایک شخص مرتے ہوئے زخمی کو خون پہنچانے کے لیے گن پوائنٹ پر موٹر سائیکل چھین لیتا ہے‘ یہ زخمی کے لیے فرشتہ اور موٹر سائیکل مالک کے لیے شیطان ہو گا‘ زخمی پوری زندگی اسے دعائیں دے گا جب کہ موٹر سائیکل کا مالک موٹر سائیکل واپس ملنے کے باوجود اسے ہمیشہ اپنی بددعاؤں میں یاد رکھے گا‘ یہ حقیقت ہے لیکن ایسی حقیقتوں تک پہنچنے کے لیے آپ کا پڑھا لکھا‘ سمجھ دار‘ دانشور اور نفسیات دان ہونا ضروری ہوتا ہے ‘ ہم میں نفسیات دان‘ دانشور‘ سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ کتنے ہوتے ہیں؟ ہم میں سے زیادہ تر لوگ زخمی ہوتے ہیں یا پھر چھینے جانے والی موٹر سائیکل کے مالک اور ہم صرف اپنے ساتھ ہونے والے کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پوری زندگی کی فلاسفی بناتے ہیں اور مرنے تک اس کے ساتھ چپکے رہتے ہیں‘ ہم فرد کے ظلم کو فرد کا ظلم اور فرد کی مہربانی کو فرد کی مہربانی نہیں سمجھتے‘ ہم اسے اجتماعی شکل دے دیتے ہیں۔

ہماری ریاست اور طالبان کے درمیان بھی یہی معاملہ ہے اور ہم جب تک اس معاملے کی نفسیاتی گتھیاں نہیں سلجھائیں گے‘ ہم اس وقت تک یہ معاملہ سلجھا نہیں سکیں گے‘ آپ ایک لمحے کے لیے طالبان بن جائیں‘ آپ میز کی اس سائیڈ سے اٹھ کر دوسری سائیڈ پر چلے جائیں‘ طالبان بھی ایک لمحے کے لیے پاکستانی ریاست بن جائیں‘ یہ بھی ایک لمحے کے لیے میز کی اس سائیڈ سے دوسری سائیڈ پر آ جائیں‘ تصویر کی دونوں سائیڈیں سامنے آ جائیں گی‘ طالبان کون ہیں‘ یہ لوگ ڈرون‘ امریکی یلغار اوراداروں کے چند ناعاقابت اندیش لوگوں کے ستائے ہوے لوگ ہیں‘ آپ خود سوچئے آپ کے گھر پر جب ڈرون حملہ ہو گا اور آپ اپنے بے گناہ والدین‘ بہن‘ بھائیوں اور عزیز رشتے داروں کی نعشوں کے ٹکڑے اٹھائیں گے تو کیا آپ کا ذہنی توازن درست رہے گا؟ آپ اگر سگمنڈ فرائڈ کی طرح بہت زیادہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار نہیں ہیں‘ تو کیا آپ ڈرون حملہ کرنے اور ڈرون حملوں میں مدد دینے والوں سے بدلہ نہیںلینا چاہیں گے؟ یہ حقیقت ہے دکھ انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا‘ یہ انسان کو درندہ بنا دیتا ہے اور انسان انتقام میں اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتا‘ آپ یہ بھی سوچئے اگر کوئی شخص یا ادارہ آپ کے بھائی‘ والد یا بیٹے کو اچانک اٹھا لے جائے‘ اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جائے اور آپ کو اس کی کٹی پھٹی لاش ملے یا پھرپانچ پانچ دس دس سال تک آپ کو اس کی کوئی خبر نہ ملے تو کیا آپ ذہنی طور پر نارمل رہیں گے؟

آپ یہ بھی سوچئے جب ریمنڈ ڈیوس آپ کے سامنے سے مسکراتا ہوا واپس چلا جائے گا یا پھر امریکی کمانڈوز ملک کے بڑے بڑے شہروں میں دندناتے پھریں گے اور ہماری ریاست انھیں روک نہیں سکے گی تو کیا آپ نارمل رہ سکیں گے‘ آپ یہ بھی سوچئے آپ دین دار شخص ہیں‘ آپ قرآن مجید اور مسجد کو جان سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور آپ کی نظروں کے سامنے لال مسجد کی بچیوں کو فاسفورس بموں سے اڑا دیا جائے گا اور ریاست چھ سال میں یہ تعین نہیں کر سکے گی لال مسجد آپریشن کا حکم یا اجازت کس نے دی تھی تو کیا آپ نارمل رہ سکیں گے؟ کیا آپ پولیس سے انتقام نہیں لیں گے اور کیا آپ سیاستدانوں‘ فوج‘ آئی ایس آئی اور تماشہ دیکھنے والے عام شہریوں کو ملزم نہیں سمجھیں گے؟ آپ یہ بھی سوچئے آپ جب ذاتی یا ریاستی مفادات کے لیے عام لوگوں کو جہاد کے نام پر اکٹھا کریں گے‘ آپ انھیں ٹریننگ دے کر افغانستان اور کشمیر بھجوائیں گے اور آپ کے مفادات جب پورے ہو جائیں گے تو آپ انھیں تنہا چھوڑ دیں گے یا پھر آپ ان کے وجود تک سے منکر ہو جائیں گے تو کیا یہ لوگ اسے دھوکہ نہیں سمجھیں گے اور یہ اس دھوکے کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کریں گے؟ اور آپ یہ بھی سوچئے ہم جب 60 سال تک ملک کے ایک طبقے کو جان بوجھ کر شعور‘ تعلیم اور آگہی سے محروم رکھیں گے‘ ہم انھیں مسجدوں کے چندوں اور مخیر حضرات کے صدقوں پر پلنے دیں گے تو کیا یہ لوگ ایک دن جمع ہو کر ہمارا گلا نہیں پکڑیں گے؟ یہ ہم سے اپنی مرضی کا چندہ نہیں مانگیں گے‘ یہ وہ حقیقتیں ہیں جن تک ہماری ریاست اس وقت تک نہیں پہنچ پائے گی جب تک یہ میز کی دوسری طرف بیٹھے لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھتی‘ یہ ان کے درد او ردکھ کے پھوڑے نہیں دیکھتی‘ یہ ان کے زخموں کا مطالعہ نہیں کرتی۔

میری طالبان سے بھی ایک درخواست ہے‘ آپ بھی ایک لمحے کے لیے میز کی اس سائیڈ پر آ جائیے اور آپ ریاست کے ساتھ بیٹھ کر دیکھئے کیا چند لوگوں کی زیادتی کا بدلہ پورے معاشرے سے لینا جائز ہے؟ کیا چند لوگوں کے ظلم کی وجہ سے پورے پورے ادارے مجرم ہو گئے؟ کیا آپ ان اداروں میں کام کرنے والے بے گناہوں کو بھی سزا دیں گے؟ کیا آپ سڑک پر چلتے ہوئے ان لوگوں کو بھی نشانہ بنائیں گے‘ جو اپنی بچیوں‘ اپنے بچوں کے لیے رزق تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلے ہیں؟ کیا آپ زندگی کے ہاتھوں مرے ہوئے لوگوں کو ماریں گے‘ آپ اس بوسیدہ اور ظالمانہ نظام کے شکنجے میں پھنسے ہوئے معصوم لوگوں کو بھی مجرم سمجھتے ہیں اور کیا آپ اس ریاست کو بھی توڑنا چاہتے ہیں جو لا الٰہ الااللہ کے نام پر وجود میں آئی تھی‘ ہم سب اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اسلام بے گناہ اور معصوم لوگوں کو مارنے سے نافذ نہیں ہو سکے گا‘ آپ ملک کے کسی ایک شہر کو مدینہ بنا دیں‘ آپ اسے امن‘ شانتی اور سکون کا گہوارہ بنا دیں‘ یہ پوری ریاست اسلامی ہو جائے گی‘ آپ آئیے بلدیاتی الیکشن لڑیئے‘ کسی ایک شہر میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیجیے‘ یہ پورا ملک آپ کا ہو جائے گا‘ آپ اگر12ہزار3سو 52 کلو میٹر دور بیٹھے امریکا اور اس کے بھجوائے ہوئے ڈرونز کا بدلہ معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں سے لیتے رہے تو اسلامی نظام کا خواب خواب ہی رہے گا‘ یہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اور ایک آخری بات‘ آپ کو معلوم ہے نبی اکرمؐ نے فتح مکہ کے وقت حضرت ابو سفیانؓ کے گھر کو دارالامان کیوں قرار دیا تھا؟ اس کی درجنوں وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک وجہ ایک چھوٹے سے احسان کا بدلہ بھی تھا‘ اسلام کے ابتدائی دنوں میں ابوجہل نے مکہ کے بچوں کے ہاتھ میں پتھر دیے اور یہ پتھر نبی اکرمؐ پر برسانے کا حکم دیا‘ بچوں نے پتھر مارنا شروع کر دیے‘ آپؐ دوڑ پڑے‘ بچے پتھر لے کر پیچھے پیچھے دوڑنے لگے‘ آپؐ کے راستے میں ابوسفیان کا گھر آگیا‘ ابوسفیان نے آپؐ کو اپنے گھر میں پناہ دی اور بچوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا‘ یہ وہ احسان تھا جسے نبی اکرمؐ نے پوری زندگی یاد رکھا چنانچہ آپؐ نے فتح مکہ کے دن حضرت ابو سفیانؓ کے گھر کو دارالامان قرار دے دیا اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں نبی اکرمؐکی سب سے بڑی دشمن وہ ہندہ جس نے حضرت امیر حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا وہ اسی گھر میں رہتی تھی‘ میری طالبان سے درخواست ہے‘ اس ریاست نے بھی آپ پر بہت احسان کیے ہیں‘ یہ تین چوتھائی عمر آپ کو پناہ دیتی رہی‘ آپ نبی اکرمؐ کی سنت ادا کرتے ہوئے اسے دارالامان قرار دے دیں‘ آپ اس گھر کے عام اور بے گناہ لوگوں کی جان بخشی کر دیں‘ اللہ آپ کو اجر دے گا۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں