.

حکمرانوں کی کنفیوژن

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ژولیدہ فکری کا شکار وطن عزیز بہت سی بے سروپا توجیہات کا سہارا لے کر انتہا پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے سے گریزاں ہے اور اُس وقت تک گریزاں رہے گا جب تک ناگزیر حالات اور سر سے گرزتا ہوا پانی ہمارے حکمرانوں کو ’’بجنگ آمد ‘‘پر مجبور نہ کر دے۔

کراچی آپریشن کا حکم دینا آسان کام ہے کیونکہ اس کی اُنہیں کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی ہے لیکن تمام تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے طالبان، جن کے بارے میں بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کے خلاف بھرپور آپریشن کا حکم دینا ذہنی اور نفسیاتی طور پر بہت ہی جوکھم کا کام ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ طالبان کے موقف کی تائید کرتے ہیں یا اُن کے قریبی ساتھی ہیں لیکن جس طرح کی سخت مذہبی تعلیم اُنھوں نے حاصل کی ہے اور جس طرح عقیدے کی چھتری اُن پر سایہ فگن ہے، وہ خود کو دشوار راستے میں پاتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں کنفیوژن کا یہ عالم ہے کہ (چالیس ہزار جانیں گنوانے کے باوجود) ہنوز یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ طالبان شہید ہیں یا نہیں یا زیادہ قصور وار کون ہے...طالبان یا امریکہ؟کس کے مقاصد درست ہیں؟یہ سوالات فکر و عمل کے میدان میں پائی جانے والی سراسیمگی کی غمازی کرتے ہیں اور کوئی بھی قوم، جسے اپنے مستقبل کا دوٹوک فیصلہ کرنا ہو، وہ ان سے اجتناب کرتی ہے لیکن ایک دائیں بازو کی جماعت جس پر ایک خاص عقیدے کی تعلیمات کی چھاپ لگی ہوئی ہے، کیلئے یہ معاملات غیر اہم نہیں ہیں۔

ایک اور معاملہ بھی تاویلات میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ردعمل کے طور پر طالبان پنجاب کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے مارچ 2010ء میں طالبان سے کی گئی اپیل نظر انداز نہ کی جائے کہ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور طالبان کے پرویز مشرف اور غیرملکی پالیسی کے تحت لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ کے بارے میں نظریات ایک جیسے ہیں تو پھر...’’طالبان کو پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں کرنی چاہیں‘‘۔ اسی طرح ڈرون حملوں پر شہباز شریف کا موقف عمران خان کی مکمل تائید کرتا ہے کہ تمام تر دہشت گردی کی وجہ ڈرون حملے ہیں۔

پاکستان بہت سی فالٹ لائنیں رکھتا ہے لیکن سب سے زیادہ واضح اور مہلک اہل پنجاب کی یہ سوچ ہے کہ اگر لاہور کی مال روڈ پر پھول کھلے ہوئے یا موٹر وے پر اسلام آباد کے لئے ٹریفک رواں دواں ہے تو پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے چنانچہ پنجابی دانش کو خدشہ یہ ہے کہ اگر طالبان نے پنجاب کا رخ کر لیا تو وہ پی ایم ایل (ن) کی انتظامی صلاحیتیں اُسی طرح بے نقاب ہو جائیں گی جس طرح گزشتہ چند سالوں کے دوران خیبرپختونخوا میں اے این پی کی ہوئی تھیں اور اُنہیں بھی اسی طرح عوامی غیض وغضب کا نشانہ بننا پڑے گا۔

ایک اور خطرہ بھی ہے کہ اگر انہونی ہو کر رہے اور طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کی نوبت آ جائے تو پھر لامحالہ طور پر تمام معاملات کو فوج اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ ایک وقت تھا جب پی پی پی کے ذہن پر ضیاالحق کے ہاتھوں پہنچنے والے صدمہ محو نہیں ہو پایا تھا، بالکل اسی طرح پی ایم ایل (ن) بھی کارگل اور بارہ اکتوبر کے خدشات کی اسیر ہو چکی ہے۔ جب بھی دفاعی ادارے فعال دکھائی دیتے ہیں تو پرانے آسیب ماضی کے جھروکوں سے نکل کر ڈرانے لگتے ہیں۔

طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے درکار صلاحیت بھی ایک مسئلہ ہے۔ آج کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت ایک خاندان کی جماعت بن چکی ہے۔ اس کے مرکزی فیصلوں میں قریبی عزیز شریک ہوتے ہیں۔ بیرونی دنیا سے زیادہ سے زیادہ ایک یا دو فرد، جیسا کہ چوہدری نثار، شرف ِباریابی رکھتے ہیں۔ ان کے برعکس طالبان کے ہاں مجلس ِ شوریٰ ہے، فوج کے فیصلے بھی کور کمانڈروں کی میٹنگ میں ہوتے ہیں لیکن پی ایم ایل (ن) کے مشاروتی اجلاس کو دیکھ کرایسا لگتا ہے کہ خاندان کے بڑوں کی میٹنگ ہے اور اس میں کچھ ’’چھوٹے‘‘ بھی موجود ہیں۔ اس عالم میں کیسی مشاورت، کیسے فیصلے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ایم ایل (ن)کی فطری سوچ حالات کا تجزیہ کرنے اور سخت فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہے۔

معمول کے حالات میں یہ غفلت شعاری چل سکتی تھی کیونکہ خدا جانتا ہے کہ پاکستان میں اوسط درجے سے بھی کم قابلیت کے افراد طویل مدت تک حکومت کر چکے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ معمول کے حالات نہیں ہیں۔ اس وقت ملک کے مستقبل سمیت ہمارا بہت کچھ دائو پر لگ چکا ہے اور ہمارے سامنے امکانات بہت آسان نہیں ہیں چنانچہ ان حالات میں ہم ناقص قیادت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب وقت کی طنابیں ہمارے ہاتھ سے تیزی سے سرک رہی ہیں، ہم غیر اہم معاملات میں مزید الجھتے جارہے ہیں۔ درست سمت میں قدم اٹھانا تو کجا، ہم تو درست سمت میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا ہے کہ ہم حیات و زیست کی کشمکش سے دوچار ہیں کیونکہ اس سے خوف و دہشت پھیلتی ہے، لیکن بات یہ ہے کہ جب دشمن سر پر جنگ مسلط کر چکا ہے، ہم ’’شہید ہے، شہید نہیں ہے‘‘ کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔

فوج نے جماعت ِ اسلامی کے رہنما سید منور حسن کی طرف سے حکیم اﷲ محسود کو ’’شہید‘‘ قرار دیئے جانے پر سخت الفاظ میں اپنا موقف دیا ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے’’یہ بات جماعت ِ اسلامی ، جس کے بانی مولانا مودودی اپنی دینی خدمات کی وجہ سے محترم ہیں، کے امیر کی طرف سی کی گئی ہے‘‘۔ محترم..... کس کی نظر میں؟ کیا تمام پاکستان ان کو قابل ِ احترام مانتا ہے؟ کیا اس پر تمام طبقے متفق ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کمی ہے جن کا موقف یہ ہے کہ ملکی سیاست پر جماعت ِ اسلامی کا اثر مثبت نہیں ہے؟منورحسن کا بیان قابل مذمت تو تھا ہی، فوج کے ترجمان کا بیان بھی واضح نہیں ہے۔ جیسا کہ کسی چیز کی کمی ہو، مولانا فضل الرحمٰن پنجاب کے وزیراعلیٰ کو فون کرکے یاددلاتے ہیں کہ مقامی انتخابات کے لئے تیار کئے جانے والے درخواست فارم میں مذہب کا خانہ نہیں ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ جلدی سے یقین دہانی کراتے ہیں کہ بہت جلد یہ ’’کمی ‘‘ پوری کر دی جائے گی۔

آج کے پاکستان میں ہم عقائد کے بارے میں ہلکی سی کوتاہی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں(یہی وجہ ہے کہ ہم انتہائی پاکیزہ معاشرہ رکھتے ہیں) اور ان گنت افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جو نہایت مختصر نوٹس پر فتویٰ جاری کر سکتے ہیں چنانچہ یہ ہے کہ وہ ملک جہاں ثانوی معاملات زندگی وموت کا مسئلہ بن چکے ہیں جبکہ جو خون آشام عفریت ہماری رگ ِجاں کو نوچ رہا ہے، اس کے بارے میں ہم اتنی ہی کنفیوژن کا شکار ہیں جتنا شیکسپیئر کا کرار ہیملٹ تھا کہ....’’میں ایسا کروں یا نہ کروں‘‘۔ لوگ ہمیشہ پوچھتے ہیں کہ پس چہ باید کرد؟ اپنے مشہور مضمون میں لینن نے بھی یہ سوال اٹھایا ۔ اُس نے یہ سوال روس کے انقلابی طبقے کے سامنے رکھا اور پھر زمانے نے دیکھا کہ اس کی جماعت نے اس کاکیا جواب دیا تاہم ہمارے ہاں آج کوئی رہنما نہیں ہے جو قوم کے سامنے یہ معاملہ رکھے۔ مولانا فضل اﷲ اپنے موقف میں پتھر کی طرح واضح ہے لیکن ہم دھند کی طرح پریشانی کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا بظاہر نرم رویہ دراصل اس کے آہنی مکّے پر ایکپردہ ہے.... کاش یہ بات سچ ہوتی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.