.

پاکستان کے جوہری ہتھیار ’’بکائو مال‘‘ نہیں

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افسوس کہ ایسے وقت میں جب قوم اور میڈیا اس فضول بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ ’’حکیم اللہ محسود دہشت گرد ہے یا ہیرو اور اسے شہید کہنا صحیح ہے یا غلط‘‘ مغربی میڈیا میں پاکستان اور اس کے جوہری اثاثوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ زوروں پر ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنے 50 منٹ دورانئے کے مقبول پروگرام ’’نیوز نائٹ‘‘ میں یہ دعویٰ کیا کہ بی بی سی کے پاس یہ مصدقہ معلومات ہیں کہ سعودی عرب جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے معاملے میں پاکستان کی معاونت کر رہا ہے اور بوقت ضرورت وہ پاکستان سے جوہری ہتھیار حاصل کرسکتا ہے۔

حالیہ پروگرام میں کہا گیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار کی صلاحیت حاصل کرلی تو سعودی عرب بھی پاکستان سے تیار جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ نشریاتی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ قبل نیٹو کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کے دفاعی ایڈیٹر کو بتایا کہ انہوں نے ایسی انٹیلی جنس رپورٹس دیکھی ہیں جن کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے لئے جوہری ہتھیار تیار کر رکھے ہیں جو بوقت ضرورت سعودی عرب کے حوالے کئے جاسکتے ہیں۔ پروگرام کو مزید مصدقہ بنانے کے لئے ایک پاکستانی جسے انٹیلی جنس افسر ظاہر کیا گیا، کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس کچھ ایسے نیوکلیئر وار ہیڈ ہیں جو سعودی عرب کے مطالبے پر ان کے حوالے کئے جاسکتے ہیں۔ پروگرام میں دو پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے بیانات بھی شامل کئے گئے جنہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ ’’پاکستان اور سعودی عرب کے مابین غیر تحریری معاہدہ موجود ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کے بقول ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب ہمیں مالی امداد کیوں دے رہا ہے، یہ کوئی خیرات نہیں ہے‘‘۔

بی بی سی پر سعودی عرب اور پاکستان کے مابین جوہری ہتھیاروں سے متعلق پروگرام نشر ہونے کے بعد دیگر بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان خبروں کو مزید سنسنی خیز بناکر پیش کیا جس کے بعد سعودی عرب کو تردیدی بیان جاری کرنا پڑا کہ اس قسم کی خبریں مضحکہ خیز ہیں کیونکہ سعودی عرب جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو سے متعلق عالمی معاہدے پر دستخط کرچکا ہے جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی اس خبر کو بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی قرار دیا۔ واضح ہو کہ اس طرح کی خبریں پہلی بار منظر عام پر نہیں آئیں بلکہ گزشتہ ماہ اسرائیل کے ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اموس یدلین نے سوئیڈن میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’’اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلئے تو سعودی عرب ایک ماہ بھی انتظار نہیں کرے گا، سعودی پاکستان جائیں گے اور جو وہ چاہتے ہیں لے کر آجائیں گے کیونکہ وہ جوہری بموں کے لئے پہلے ہی پاکستان کو ادائیگی کر چکے ہیں‘‘۔ اس سے قبل مغربی ماہرین یہ بھی الزام لگاتے رہے ہیں کہ سعودی عرب کئی برسوں سے میزائل پروگرام اور جوہری لیبارٹریوں کے لئے پاکستان کی فراخدلانہ مالی مدد کررہا ہے۔ ان کے بقول 1999ء اور 2002ء میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز السعود کا پاکستان کی جوہری لیبارٹریوں کا دورہ بھی اسی سلسلے کا تسلسل تھا۔

کچھ عرصے قبل مغربی میڈیا میں سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار کے حوالے سے اس طرح کی خبریں بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ مذکورہ سیکورٹی اہلکار نے سعودی عرب کے منصوبے کے بارے میں ایک دستاویز منظر عام پر لائی تھی جس کے مطابق سعودی عرب، ایران کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی صورت میں 3 ممکنہ امکانات پر غور کررہا ہے۔

نمبر1۔ خود جوہری ہتھیار حاصل کرے۔

نمبر2۔ کسی جوہری طاقت رکھنے والے ملک سے سعودی عرب کے دفاع کے لئے معاہدہ کرے۔

نمبر3۔ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا جائے۔ اس دستاویز کے منظر عام پر آنے کے بعد سفارتی حلقوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین جوہری ہتھیاروں کے معاہدے کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور کچھ مغربی دفاعی ماہرین کا یہ بھی خیال تھا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستانی افواج کو سعودی عرب میں تعینات کیا جاسکتا ہے جس کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی صدر کے مشیر گیری سمور نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیٹو ماڈل کو اپنائے جانے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ اس طرح پاکستان یہ موقف اختیار کرسکے گا کہ اس نے جوہری ہتھیار سعودی عرب کے حوالے نہیں کئے۔امریکہ اور سعودی عرب کے مابین تعلقات آج کل سرد مہری کا شکار ہیں اور امریکہ اور ایران کے مابین جوہری پروگرام کے ممکنہ معاہدے کی خبروں نے سعودی بادشاہت کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ نے شام اور ایران میں امریکی کردار پر برملا ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب امریکہ سے اپنے تعلقات پر ازسرنو غور کرے گا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی کونسل کی غیر مستقل نشست سعودی عرب کے قبول نہ کئے جانے کی ایک وجہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک نہ کرنے میں ناکامی بھی ہے۔ سعودی عرب کافی عرصے سے ایران کے نیوکلیئر پاور بننے کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی اپنی خواہشات کا اظہار برملا کرتا رہا ہے۔ کیا سعودی عرب کی پاکستان سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی دھمکیاں واقعی سنجیدہ ہیں یا پھر سعودی عرب، امریکہ کو ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے؟ بہرحال معاملہ جو کچھ بھی ہو یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام انتہائی مضبوط، جامع اور عالمی جوہری ادارے IAEA کے حفاظتی معیار کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کسی بھی ملک کا مالی تعاون شامل نہیں، یہ مکمل طور پر پاکستانی ماہرین کی کاوشوں اور ملکی دولت کا نتیجہ ہے چنانچہ کسی صورت میں بھی پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے جب میں نے پاکستانی جوہری پروگرام اور اس کے خلاف پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کے بارے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ مغرب وقتاً فوقتاً پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے اور ایسے وقت میں جب حکومت، طالبان سے امن مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہتی ہے، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرکے پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر قدیر خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کوئی کھلونا نہیں جسے کوئی بھی حاصل کرکے اسے بآسانی استعمال کرسکے کیونکہ ان ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لئے تیکنیکی مہارت کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ شروع دن سے ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے اور مغربی میڈیا وقتاً فوقتاً اس طرح کی شرانگیز خبریں نشر کرکے اس طرح کا تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک نہیں اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ بی بی سی کا متنازع پروگرام نشر کرنے کا ایک اور مقصد پاکستان اور ہمسایہ ملک ایران کے مابین شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ خود کو صرف تردیدی بیان تک محدود نہ رکھے بلکہ مغربی میڈیا اس قسم کے شرانگیز اور منفی پروپیگنڈے کو مکمل طور پر بے اثر بنائے ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.