.

ڈرونز ۔ شہادت اور امریکہ میں محرم؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غیرمسلم دنیا بالخصوص مسلمان دنیا کے ماضی، حال اور مستقبل پر نظر رکھنے والے تخلیقی اور فکری ذہنوں کے مالک حلقے حالیہ امریکی ڈرون حملے میں طالبان لیڈر حکیم اللہ محسود کی موت سے جنم لینے والی بحث اور اثرات سے بڑے مطمئن یوں ہیں کہ مسلمانوں میں شہادت اور شہید کا تصور اور فلسفہ اس قدر مفید اور موثر تھا کہ سیکولرازم اور دنیا کی سب بڑی جمہوریت بھارت نے پاک، بھارت اور بھارت، چین جنگوں میں اپنے ہلاک ہونے والے ہندو، سکھ اور دیگر عقائد و مذاہب کے فوجیوں کو بھی ’’شہید‘‘ قرار دیا۔

بھارتی سیکولرازم کے پاس اپنی مملکت کی ’’رکھشا‘‘ کرنے والے فوجیوں کی موت کو ایک مقصد اور معنی دینے کے لئے اسلامی مملکت پاکستان اور مسلمانوں کے فلسفہ اور تصور شہید کو اپنانا پڑا لیکن افسوس ہے کہ مسلمان اسکالر مولانا مودودی مرحوم کے فکری اور سیاسی جانشین موجودہ امیر جماعت اسلامی منور حسن اور عالم دین مفتی محمود مرحوم کے صاحبزادے اور سیاسی و فکری جانشین جے یو آئی کے موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈرونز حملوں سے نفرت کے جوش میں آ کر ’’شہید‘‘ کی ایسی تاویلات و تشریحات دی ہیں کہ اگر مولانا مودودی اور مفتی محمود آج زندہ ہوتے تو میرے خیال میں وہ اپنے ان جانشینوں کی سرزنش ضرور کرتے۔

دونوں کی تاویل اور شہید قرار دینے کے اس جواز نے مسائل زدہ پاکستان اور اس کے مصیبت زدہ مسلمان عوام میں جو خلفشار پیدا کیا ہے وہ تو ایک داخلی اور انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن غیرمسلم دنیا کے مسلمان مخالف حلقوں کو جو خوشی اور اطمینان فراہم کیا ہے وہ بھی ایک اہم اور قابل غور موضوع ہے۔ اگر ایک امریکی ڈرون حملہ مسلمانوں کو اپنے بنیادی فلسفے اور تصور شہید کے بارے میں اتنا منتشر کرسکتا ہے تو پھر مسلمانوں کے خلاف تحقیق اور منصوبہ بندی سے تنازعات تخلیق کرنے کے بجائے کم خرچ بالا نشیں طریقہ یعنی ڈرونز استعمال کر کے مسلمانوں کو مزید انتشار میں مبتلا رکھا جائے۔ جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمٰن نے تو محترم عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کے جس فقرے کو حوالہ بنا کر کتے کو شہید کہنے والے اپنے بیان کا جواز پیش کیا ہے،کیا ہی بہتر ہوگا اگر وہ اپنے بیان کی ٹیپ لگا کر عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم کا کتے کے بھونکنے کو آزادی کا سپاہی قرار دینے والے جملے سے موازنہ فرمائیں تو خود ہی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود مرحوم سے بھی زیادتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی منور حسن نے تو جماعت اسلامی کے پاکستانی فوج میں اپنے اثرات، یحییٰ خان، ضیاء الحق سے اپنے قریبی تعاون، افغان جنگ میں اپنے کردار سمیت تمام حقائق کو یکسر نظرانداز کر کے پاکستانی فوج کے امریکی فوج سے تعاون کو بنیاد بنا کر پاکستانی فوجی کی مملکت کے محافظ کے طور پر شہید ہونے کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ اگروہ ابن خلدون، امام غزالی، ابن ربیع اور دیگر مسلم اسکالروں کے خیالات و آراء پر نظر ڈال لیتے تو وہ بآسانی کہہ سکتے تھے کہ صدر پرویز مشرف، وزیر اعظم گیلانی اور غیرمسلموں سے تعاون کرنے کے احکامات دینے والے حکمراں اس کے ذمہ دار ہیں۔

مملکت کے لئے جان دینے والا فوجی شہید ہے اور غلط فیصلے کا ذمہ دار حاکم وقت ہے۔ منور حسن نے جو تاویل دی ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب جماعت اسلامی آمر ضیاء الحق کے مارشل لا کے نفاذ، آمر یحییٰ خاں کے ساتھ تعاون، ضیاء دور میں اقتدار میں شرکت اور کردار سمیت اپنی تاریخ کو نظرانداز کرکے اب فوج کو سیاسی اور جمہوری معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا سبق دے کر اس بیان کے ذریعے بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ بڈبیر کے پاکستانی ہوائی اڈے سے سوویت یونین کی جاسوسی کے لئے اڑنے والا امریکی یوگو طیارہ اڑا تھا تو وہ پاکستانی فوج اور امریکی فوج کے تعاون کا مظہر تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران بھی افغان مسلمانوں اور پاکستانیوں کی بڑی اموات ہوئی تھیں۔ امریکی اسلحہ اور امریکی اسٹنگر میزائل بھی استعمال ہوئے مگر جماعت اسلامی نے نہ تو شہید کی تعریف میں تبدیلی کی اور نہ ہی پاکستانی اور امریکی فوج کے اشتراک اور مقاصد کو قابل اعتراض سمجھا۔ ایسے وقت میں کہ جب ملک کے داخلی امن و امان سے لے کر پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داریاں فوج کے کاندھوں پر ہیں۔

مملکت کے نظام کی حفاظت کے لئے جان دینے والوں کے بارے میں حوصلہ شکن ماحول اور تاویلات درست نہیں۔ آپ حکمرانوں اور فوج کے سربراہوں کے احکامات اور فیصلوں پر ضرور تنقید بلکہ سخت محاسبے میں لائیں، عدالتوں اور جلسوں میں اعتراض اور خامیاں گنوائیں لیکن مسلمانوں کے ملک پاکستان کی فوج میں جذبہ شہادت اور خدمت کے لئے شامل ہونے والے فوجی کی قربانی کو اپنے بیانات و تشریحات کی زد سے محفوظ رکھیں۔ بھارت کے انتہا پسند ہندو بھی اپنے بھارتی فوجی کی موت کو ’’شہید‘‘ کہنے پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔ امریکہ اس کے ڈرونز اور اقدامات پر تنقید و مذمت کرنے کا حق دلائل کے ساتھ ضرور استعمال کریں۔ ہم امریکہ میں رہ کر بھی امریکہ کی افغان پالیسی، ڈرونز کے استعمال، صدر اوباما کی پالیسیوں پر تنقید و تعریف کا جمہوری حق استعمال کرتے ہیں۔ داڑھی رکھنے، نماز پڑھنے، مساجد بنانے، اسلامی سرگرمیوں، تبلیغی جماعت کے اجتماعات اور اسلام کے بارے میں لیکچرز سیمینار، اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ نامی مسلمان تنظیمیں بھی یہاں کے امریکی معاشرے اور قانون کی حدود کے ساتھ آزادی سے کام کررہی ہیں جبکہ پاکستان کے مسلم اکثریتی معاشرے میں ان مذکورہ مسلم سرگرمیوں کو وہ امن و سکون اور تحفظ حاصل نہیں جو امریکہ کا غیرمسلم معاشرہ مسلمانوں کو فراہم کررہا ہے۔ اس حوالے سے نئے اسلامی سال کے آغاز اور محرم الحرام میں شہادت اور اسلامی حوالوں سے امریکی ماحول کا ذکر بے جا نہ ہو گا۔

اسلامی سال اور محرم الحرام کے آغاز اور مسلم تاریخ کے مسلم معاشرہ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کربلا اور امام حسینؓ کی شہادت کے حوالے سے شیعہ اور سنی مسلک کے مسلمان غیر مسلم اکثریت والے امریکی معاشرے میں کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے اپنے انداز میں مجالس منعقد کررہے ہیں۔ کسی کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ کوئی کسی جبر یا بم دھماکے سے خوفزدہ نہیں۔ گزشتہ روز نیویارک کے مشہور پارک ایونیو پر جلوس ذوالجناح نکالا گیا۔ تقریباً ایک سو پولیس والے کسی بکتر بند گاڑی بم ڈسپوزل اسکواڈ کے بغیر ہی جلوس کی حفاظتی ڈیوٹی اور روٹ پر چلانے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے فرائض ادا کررہے تھے۔

نیویارک میں سنی، دیوبندی، سلفی، بریلوی ہر مکتبہ فکر کا مسلمان آباد ہے بعض تنگ نظر غیر مسلم بھی ہیں جو اس جلوس کو پسند نہیں کرتے مگر شیعہ مسلمان کسی خوف کے بغیر کھلے عام سڑک پر جلوس ذوالجناح کے بعد نماز ادا کرتے اور لنگر بانٹتے ہیں جو سنی مسلمان دوست اور غیرمسلم امریکی بھی شوق سے کھاتے ہیں۔ مسلمان اقلیت میں ہوکر بھی موجود پاکستان کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، پرامن اور یقینی آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ کسی کو اغوا، دھماکے، بے یقینی اور اچانک تباہی کا خطرہ نہیں۔ اپنے عقیدے، اپنے مسلک، اپنے دین، اپنے حقوق، اپنی ملازمت، اپنی فیملی کے لئے یہاں آباد پاکستانیوں کو اپنے آبائی وطن کے رہنے والوں سے زیادہ آزادی حاصل ہے اور وہ اسلامی سال کا آغاز بڑے سکون سے کرچکا ہے۔ وہ پاکستان میں بھی ایسے تحمل و برداشت، باہمی احترام اور عقیدے کی آزادی و حفاظت کا ماحول دیکھنے کا خواہشمند ہے۔ کیا شہید اور شہادت کے اسلامی فلسفہ کو متنازع بنانے اور امریکہ سے نفرت کے مبلغ امریکی معاشرے میں آباد مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی کو پاکستان میں اپنانے کی طرف بھی توجہ دیں گے۔ نفرتوں نے پاکستان کو تباہ کر ڈالا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.