.

یہ کس کی بد دعا ہے

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے فضل الرحمان صاحب کے کتے کی شہادت والا بیان بھی پڑھا، سید منور حسن کا ڈرون حملے میں مرنے والے محسود لیڈر اور افواج پاکستان کے بارے میں بیان بھی پڑھا اور پھر فوج کا بیان بھی بغور پڑھا اور یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد وہ لاتعداد کالم اور بیانات بھی پڑھے جو مذکورہ کسی نہ کسی بیان کے بارے میں تھے، پھر ان حالات کو بھی ذہن میں رکھا جو اس وقت اس ملک کو درپیش ہیں اور بھارت بھی ہمیں طنزیہ رعایت دے رہا ہے کہ ہمارے اندرونی مسائل سنگین ہیں، اس لیے ہمیں مہلت دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ پڑھ سن کر اور سوچ کر میرے بے بس ذہن میں ایک بات ہی آتی ہے کہ ہمیں کسی کی بد دعا لگی ہے۔ امریکا اور بھارت اور ان کے پروردہ اور ایجنٹ ہی کیا کم تھے کہ ہم خود بھی ان کی مہلک سرگرمیوں کا حصہ بن گئے ہیں، سیاستدان بھی اور فوج بھی اس میں شامل ہو گئی۔ اس حیران کن صورت حال کو اگر کسی کی بددعا کا نتیجہ نہیں کہا جاتا تو پھر اور کیا کہا جائے کیونکہ یہ کسی انسانی عقل میں آنے والی بات نہیں ہے جو کچھ ہم نے اپنے ساتھ کر دیا ہے وہ تو ہمارا دشمن بھی نہیں کر سکا لیکن ابھی ذرا صبر کریں، ہم اپنے خلاف اب شروع ہوئے ہیں دیکھیے کیا کرتے ہیں اور کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ ہر فریق کے پاس دلیل ہے اور ہر دلیل کے پیچھے سیاسی یا غیر سیاسی طاقت بھی ہے۔ بس ایک ہم عوام ہیں جو بے بسی کے عالم میں یہ سب سن رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں اور اسے بھگتیں گے بھی۔

ایک ثقہ مزاح نگار کا کہنا ہے کہ مزاح کی حد غم سے شروع ہوتی ہے جب کوئی غم کی فراوانی سے گھبرا کر مزاح میں پناہ لیتا ہے مثلاً جماعت اسلامی نے اس بحث میں یہ بھی کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ یہ بہت پرانی بات ہے جو ہم اپنی آزادی کی پہلی دہائی سے کہہ رہے ہیں بلکہ دہائی دے رہے ہیں۔ ہماری آج کی قریب قریب ساری سیاسی کھیپ فوج کا عطیہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب فوج نے پیدا کیے اور کچھ زیادہ ہی کر دیے کہ وہ فوجی حکومت کا حصہ بن کر فوج سے بھی بازی لے گئے۔ ہمارے میاں صاحب بھی فوج کی سرپرستی کی پیداوار ہیں۔ اور کسی کا بھی نام لیں اس کی بنیادوں میں فوج کار فرما ہوگی، اس لیے ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فوج کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں۔ ہماری تو اب بھی شدید خواہش تھی کہ ہماری فوج ایک بار پھر ہماری براہ راست سرپرستی کرے لیکن مسلسل یعنی سگریٹ پر سگریٹ پینے والے ہمارے سپہ سالار نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی ۔ انھوں نے خود ہی اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ کا اعلان کر رکھا ہے لیکن وضع داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے چنانچہ خبریں مل رہی ہیں کہ ان کو ’ملازمت‘ میں توسیع دی جا رہی ہے جس حکومت میں کوئی عام سا وزیر بھی مقرر نہ کیا جا سکے اس میں کسی نئے سپہ سالار کی تقرری کیسے آسان ہو سکتی ہے لیکن یہ سب لطیفے رموز مملکت ہیں اور مملکت والے ہی ان کو جانتے ہیں۔ فارسی کے اس عظیم المرتبت شاعر حافظ کی پیروی میں ہم یہیں کہیں گے کہ تم ایک گوشہ نشیں گدا ہو تمہیں کیا فکر اور خرخشہ۔

بات کسی طالبان لیڈر کی امریکا کے ہاتھوں وفات کی ہو رہی تھی جس پر ملک بھر میں ایک خطر ناک ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ امریکا کے منصوبہ سازوں کو کسی اور ڈرون حملے کے ایسے مفید نتائج کا پیشگی علم ہو گا لیکن علم تھا یا نہیں تھا ہمارے لیے تو یہ حملہ کسی ایک گھر پر نہیں پورے پاکستان پر حملہ بن گیا۔ ہر پاکستانی اس حملے کو بھگت رہا ہے اور ہر لیڈر اس کے کسی نہ کسی پہلو پر کچھ کہنے کی تیاری کر رہا ہے یا کر چکا ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ سیاسی عمل کے لیے لازم ہے اور اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے ماحول پر نگاہ ڈال کر بات کریں۔ جماعت اسلامی کے جناب منور حسن نے ہڑبڑا کر جو بھی کہا وہ ضروری تھا غیر ضروری تھا مناسب تھا یا نا مناسب تھا بر وقت تھا یا بے وقت تھا جو بھی تھا اس سے ایک بات سامنے آئی کہ جماعت اسلامی اور ملک میں اس کے مخا لفین اب تک وہیں کھڑے ہیں جہاں وہ برسوں سے کھڑے تھے اور اس بار تو جماعت کے بیان پر فوج کا ردعمل حیران کن تھا اور سوال یہ ہے کہ کیوں تھا۔ جماعت کی تاریخ تو فوج کی پرستش کی تاریخ ہے اور آج بھی بنگلہ دیش میں جماعت کا بڑھاپا موت کی کال کوٹھڑی میں بند ہے اور مشرقی پاکستان میں فوج کے ساتھ تعاون پر فخر کر رہا ہے اور الشمس اور البدر کی بات ہی کیا جماعت اسلامی کا بیان تو جو ہے سو ہے لیکن فوج نے جو کہہ دیا ہے وہ حد سے زیادہ غیر ضروری تھا۔ اس کو ایک پہلو سے جماعت کی تائید بھی کہا جا سکتا ہے کہ ثابت ہوا ملک میں سب سے اہم سیاسی عنصر اور سیاسی آواز جماعت اسلامی کی ہے کہ جس کو سن کر

تڑپے ہیں مرغ قبلہ نما آشیانے میں

استاد نے نصیحت کی تھی کہ عدالت، اسمبلی اور فوج کے بارے میں کوئی خبر اس وقت تک نہ دو جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لو اور فوج کی خبر تو خود فوج دے گی چنانچہ اب پہلی بار فوج کی سیاسی خبر فوج نے خود دی ہے ورنہ اس سے قبل تو سیاسی فوجی خبر مارشل لاء کے نفاذ کی آتی تھی اور چند لفظوں میں۔ باقی ماندہ ہم خود سمجھ جاتے تھے۔

جماعت اسلامی سے میری عمر بھر کی نیاز مندی ہے۔ اس جماعت کی سیاسی اور غیر سیاسی زندگی دیکھی ہے۔ ایک بار ایوب حکومت نے ایسا ہی ایک خفیہ قسم کا کارندہ مولانا مودودی کے پاس بھیجا جس نے ان سے دریافت کیا کشمیر کی جنگ جہاد ہے یا نہیں۔ مولانا نے جواب دیا کہ جہاد وہ ہوتا ہے جس کا اعلان اور فیصلہ حکومت وقت کرتی ہے کسی اور کو جہاد کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس پر حکومت نے حسب پروگرام بہت ہنگامہ کیا کہ مولانا مودودی کشمیر میں جہاد کے قائل نہیں ہیں۔ اب ان کے جانشین نے کیا کہا اور کن لوگوں کے بارے میں کچھ کہا آپ خود سمجھدار ہیں۔ جماعت اب بھی وہی ہے لیکن آج کے جماعتیے شاید اب کچھ بدل گئے ہیں۔ اچھرہ کے ذیلدار پارک سے منصورہ تک کے سفر میں مسافروں نے نیا رنگ و روپ اختیار کر لیا ہے لیکن یہ بحث اب چلی ہے تو لگتا ہے ہماری جان لے کرٹلے گی چنانچہ ہم بھی اپنی ناچیز معروضات پیش کرتے رہیں گے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.