.

امریکہ میں مسلمان بھی بستے ہیں ۔۔۔!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اور جس ملک میں مسلمان بستے ہیں اسے ’’غلیظ‘‘ کہنا نہ صرف انسانیت کی توہین ہے بلکہ مسلمانوں کی تذلیل ہے۔ مولانا منور حسن ہیجانی کیفیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ آج قاضی حسین احمد زندہ ہوتے تو منور حسن کی زبان بندی کرتے۔ قاضی صاحب جیسے زیرک، صاحبِ علم انسان شہداء کے خاندانوں اور پاک فوج کی دل آزاری کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ منور حسن جس ہلاکت کو شہادت ثابت کرنے پر مُصر ہیں، اس شخص نے قاضی صاحب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ منور حسن نے مولانا مودودیؒ کی جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں موصوف نے اس امریکہ کو ’’غلیظ‘‘ کہا، جس میںان کی اپنی جماعت کے لوگ بھی آباد ہیں۔ امریکہ میں متحرک اسلامی تنظیم ’’اکنا‘‘ میں جماعت اسلامی کے لوگ خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی جماعت کے قائد انہیں غلیظ ریاست کا شہری قرار دے رہے ہیں۔ موصوف امریکہ دشمنی میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کا ’’کتا‘‘ بھی ششدر کھڑا ہے۔

امریکہ اسلام دشمن ہے، یعنی وائٹ ہائوس کے لوگ مسلمانوں کے خلاف ہیں مگر پورے امریکہ کو ’’غلیظ ملک‘‘ قرار دینا، امریکہ میں آباد مسلمانوںکی توہین ہے۔ غلاظت انسان کے اندر ہوتی ہے جبکہ امریکہ باہر سے بھی صاف ستھرا ہے۔ امریکہ کے لوگ اسلام کے اصولوں پر چل رہے ہیں اور نام نہاد مسلمان اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ امریکہ میں تیزی سے پھیلتا ہُوا اسلام نام نہاد مبلغین کو بتانے کے لئے کافی ہے کہ امریکہ کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ امریکہ میں دو ہی قومیں آباد ہیں ’’مسلمان اور غیر مسلم‘‘ تیسری قوم اسلامی ریاستوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ امریکی کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے تم لوگ اپنے جہاد اور شہادت، دہشت گردی اور ہلاکت میں تمیزکر لو۔ تم لوگوں کو تو ابھی تک امن اور فساد فی الارض کا فرق معلوم نہیں ہو سکا۔‘‘ امریکہ سے نفرت کرنے والے خود دنیا میں مذاق بنے ہوئے ہیں۔ امریکی ہم سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے لوگ ہم سے نفرت کرتے یا ہم سے حسد کرتے ہیں؟ تمہاری فوج دہشت گردوں کو مارے تو دہشت گرد ہلاک اور ہمارے ڈرون ماریں تو شہید؟ غیر مسلم ہم سے جہاد اور شہادت کی تشریح پوچھ رہے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد لفظ ’’جہاد‘‘ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ شہادت و ہلاکت اور جہاد و دہشت گردی کی تمیز میں دقت پیش آئے تو ’’خلقِ خدا کو نقارۂ خدا سمجھو۔‘‘ پاکستان کی اکثریت طالبان کی سرگرمیوں کو جہاد ماننے اور ان کی موت کو شہادت تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ امریکی عوام بہت اچھے لوگ ہیں، پاکستان کے لوگ بھی اچھے ہیں، اصل مسئلہ دونوں ملکوں کی پالیسیاں ہیں۔ امریکہ کو ’’غلیظ ملک‘‘ کہنا خلقِ خدا کی بے حرمتی ہے، نومسلموں کے جذبات کا خون ہے۔ اسلامی مملکت میں بیٹھ کر کافروں کو بُرا بھلا کہنا اور امریکہ کی توپوں میں کیڑے ڈالنا آسان مشغلہ ہے مگر کفر گڑھ میں بیٹھ کر اسلام پھیلانا اور مسلمانی پر قائم رہنا جہاد اکبر ہے۔ الحمدللہ امریکہ کے مسلمان جہاد اکبر میں ثابت قدم ہیں۔ مولوی حضرات امریکہ کی فکر چھوڑ دیں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں۔ اسلام کی عملی صورت دیکھنا ہے تو امریکہ کے اصولوں کو دیکھیں۔ بس سٹاپ پر لمبی قطار تھی اور شدید سردی تھی، بس آئی، دروازہ کھلا، ٹھٹھرتی سردی میں لوگ جلدی سے بس پر سوار ہونا چاہتے تھے مگر بس میں سوار مسافروں کو اترنے کا راستہ دیا گیا اور پھر بس پر سوار ہونے کے لئے آگے بڑھے مگر اچانک ان کے قدم رک گئے۔ لمبی قطار سے ایک ویل چیئر پر بیٹھے مسافر کو آگے لایا گیا، بس کے دروازے سے ایک تختہ نیچے گرایا گیا اور ویل چیئر کو بس کے اندر لے جایا گیا۔ معذور افراد کی خصوصی نشست کو اٹھاکر وہاں ویل چیئر کے ٹائروں کو بیلٹوں کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ اس تمام کارروائی میں پندرہ بیس منٹ صرف ہو ئے مگر مجال ہے سردی میں لمبی قطار لگائے کھڑے لوگ ٹس سے مس ہوئے ہوں۔ بس کا تختہ ہٹا دیا گیا اور لوگ اپنی باری پر بس میں سوار ہونے لگے۔ بس مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، ایک ہندو بوڑھی عورت بھی بس کا ہینڈل تھامے کھڑی تھی۔ ہم نے اس عورت کو اپنی سیٹ دے دی تواس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ہمارا شکریہ ادا کیا۔ ہم ویل چیئر کے قریب جا کر کھڑے ہو گئے اور ویل چیئر پر بیٹھے نوجوان کو دیکھ کر ہماری پلکیں بھیگ گئیں کہ یہ بھی کسی کا لختِ جگر ہے، کافر ہے یا مسلمان، اللہ کا بندہ ہے جو اپنی ٹانگوں سے معذور ہے۔اے پروردگار تیرا شکر ہے کہ ہم اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہیں۔

ہم امریکی مسلمان اس سرزمین کے مقیم ہیں جہاں تمام مذاہب کے لوگ آباد ہیں مگر سب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ مشکل و مصیبت میں ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے ہیں۔ سب میں ایک رشتہ مشترک ہے اور وہ ہے ’’خلقِ خدا‘‘ کا رشتہ۔ ہم مساجد میں جاتے ہیں تو وہاں سب مسلمان ہیں، سب کا خدا، کتاب اور نبیؐ ایک ہے البتہ مسلک مختلف ہیں لیکن امریکہ کے تمام مسلمان ایک نقطہ پر متفق ہیں کہ ہم اپنے رویوں اور عمل سے دین کا علم بلند رکھیں گے، یہی وجہ ہے امریکی حکومتیں بھی امریکی مسلمانوں کو پُرامن قوم قرار دیتی ہیں۔ اللہ کے تمام بندے ایک جیسے نہیں ہوتے، اچھے بُرے ہر جگہ موجود ہیں، امریکہ کے لوگ بہت اچھے ہیں، ایک دوسرے کے ہمدرد اور مددگار ہیں۔ امریکہ میں پاکستان میں اسلامی جماعتوں کے پیروکار بھی بستے ہیں اور پاکستان سے اپنے پیشوائوں اور قائدین کو ’’خصوصی دعوت‘‘ پر امریکہ بُلاتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر مولویوں اور قائدین کا لہجہ مختلف ہو جاتا ہے، یہاں کتے بھی ان پر بھونکیں تو انہیں مسکرا کر دیکھتے ہیں البتہ جن کا ویزہ مسترد ہو جائے، ان کے دل سے امریکہ کے لئے بد دعائیں نکلتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.