.

انقلابات میں ٹھنڈے چولہوں کا کردار

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تازہ ترین سروے نے بتایا ہے اور یہ کسی ڈرون حملے سے کم تشویشناک نہیں ہوگا کہ امریکی صدر بارک اوبامہ کی اپنے شہریوں میں مقبولیت اور شہرت اور اعتبار اور اعتماد کا گراف اچانک نہیں بتدریج سابق صدر جارج ڈبلیوبش کے گراف کی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔ انہیں ناپسند کرنے اور ناقابل اعتبار قرار دینےوالوں کی شرح انہیں پسند، قابل اعتبار سمجھنے اور برداشت کرنے والوں کے تناسب سے بڑھ گئی ہے۔

چھ نومبر اور گیارہ نومبر کے درمیانی عرصہ میں ہونے والے سروے یا رائے شماری میں صرف 39 فیصد امریکی باشندوں نے اپنے صدر مملکت کو بددیانت اور جھوٹا قرار نہیں دیا اور 54 فیصد، واضح اکثریت نے انہیں بد دیانیت اور جھوٹا قرار دیا ہے اور پندرہ فیصد امریکی انہیں

شبے کا فائدہ دیتے ہوئے غیرجانبدار ہونے کااعلان کرتے ہیں اور قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیرجانبدار امریکی نہ صرف وجود میں آئے ہیں بلکہ پندرہ فیصد تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں اور یہ حادثہ امریکی حکمرانوں کو لمحہ فکریہ بھی فراہم کرسکتاہے۔

کوئینی پیس (Quinni Piac) یونیورسٹی کی دیانتدارانہ رائے شماری سے پتہ چلتاہے کہ صدر بارک اوبامہ کو ان کے صدارتی عہدے کے اسی عرصہ میں وہی غیرمقبولیت نصیب ہوئی ہے جو سابق صدر جارج بش کو بھی اپنے صدارتی عہدے کے اس عرصے میں ملی تھی۔ سال رواں سے یکم اکتوبر کی رائے شماری میں بارک اوبامہ کے حق میں 45 فیصد ووٹ آئے تھے جبکہ ان کے خلاف ووٹوں کا تناسب 49 فیصد تھا۔ چند ہفتوں میں امریکی صدر کے مثبت ووٹوں کا تناسب 45 سے 39 فیصد اور منفی ووٹوں کا تناسب 45 فیصد سے کم ہو کر 39 فیصد رہ جائے تو یہ حادثہ ڈیموکریٹس کی راتوں کی نیند حرام کرسکتا ہے یا راتوں کو بے خواب کرسکتا ہے۔

صدر اوبامہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکانے والےاس حادثے کی وجہ امریکہ کے ہیلتھ کیئر نظام میں صدر اوبامہ کامنفی کردار بیان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہیلتھ کیئر نظام کو اوبامہ کیئر نظام کا نام دیاگیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دنیا بھر کے ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی تبدیلی کی خواہش کروٹیں لینے لگی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بہار کے ساتھ امریکی بہار بھی برپا ہوسکتی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ امریکی صدور کاہنی مون کا عرصہ پانچ سال سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ بہتر ہوگا کہ امریکی کانگریس صدارتی عہدے کی میعاد پانچ سال تک محدود کر دے اور دوسری ٹرم کی اجازت واپس لے لے۔

امریکی تجزیہ نگاروں کے خیال میں امریکی عورت امریکی مردوں سے زیادہ تبدیلی کے حق میں معلوم ہوتی ہے۔ وہ اگر انقلابی نہیں ہے تو انقلاب افروز یا انقلاب آفرین ضرور ہے اورحالیہ سروے یا رائے شماری میں صدر بارک اوبامہ کے خلاف ووٹ دینے والے امریکی باشندوں میں اکاون فیصد سے زیادہ امریکی خواتین بیان کی جاتی ہیں جبکہ بارک اوبامہ کے حق میں ووٹ دینے والی امریکی خواتین کا تناسب اکتالیس فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔

صرف 19 فیصد امریکی اس خوش فہمی میں مبتلا بتائے جاتے ہیں کہ آئندہ چند سالوں میں ہیلتھ کیئر ایکٹ کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں جبکہ 33 فیصد اس کے منفی نتائج کا یقین رکھتے ہیں۔ صدر بارک اوبامہ کے اس بیان کی بھی سرعام مذمت کی جارہی ہے کہ امریکی عوام ہیلتھ کیئر پلان کو پسند نہیں کرتے تو نہ کریں۔ 45 فیصد امریکی باشندے سمجھتے ہیں کہ صدر بارک اوبامہ انہیں جان بوجھ کر دھوکہ دے رہے ہیں۔ سابق حکومت میں یہ الزام نائب صدر ڈک چینی کے حصے میں آیا تھا۔

جس سروے یا رائے شماری کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اس میں قومی سطح پر 2545 رجسٹرڈ ووٹروں نے حصہ لیا ہے۔ جہاں تک اس سروے یا رائے شماری میں امریکی عورتوں کے حصہ لینے کاتعلق ہے بائیں بازو کے دانشور لیون ٹراٹسکی اور ٹیڈ گرانٹ کی پیش گوئیاں یاد رکھنی چاہئیں۔ لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’حالات کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ حالات کو خواتین کی نگاہ سے دیکھیں‘‘ ٹیڈ گرانٹ کی پیش گوئی تھی کہ ’’امریکہ کے سرمایہ داری نظام میں تبدیلی لانے کی جدوجہد کا آغاز امریکی خواتین کی طرف سے ہوگا۔ ویت نام کی جنگ کے خلاف سب سے بلند آواز کااحتجاج بھی امریکی خواتین کا تھا۔‘‘ کہا جاتا ہے حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان اگر کسی تنور کے ذریعے برپا ہوا تھا تو مستقبل کے تمام انقلابات میں بھی ٹھنڈے چولہوں کا مرکزی کردارہوگا۔ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ ٹھنڈے چولہوں کا تعلق بیروزگاری سے ہے اور بیروزگاری کی اذیت سے گزرنے والے سب سے زیادہ کسی بھی ملک کے کم از کم 80 فیصد لوگوں پر مشتمل محنت کش ہوتے ہیں جن کو جمہوری نظام، حکومت گننے اور تولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.