.

دفاعی اداروں کے لئے لمحہ ٔ فکریہ!

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا اب دفاعی اداروں کو تسلی ہوگئی ہے؟جب آپ آگ سے کھیل رہے ہوں یا ڈریگن (آتشیں اژدہے) کی پشت پر سوار ہوں تو یہ امید کرنا حماقت ہے کہ آگ آپ کو نہیں جلائے گی یا آگ اگلتا ڈریگن آپ کو بھسم نہیں کرے گا۔ گزشتہ تیس سالوں سے دفاعی اداروں نے جہاد کا کھیل کھیلا ہے اور اس میدان میں ان کی قریبی ساجھے داری مذہبی عناصر، جیسا کہ جماعت ِ اسلامی، سے رہی ہے کیونکہ اسے عقیدے کا محافظ سمجھا جاتا ہے تاہم اب جواب آں غزل کے مقطع میں سخن گسترانہ بات کچھ یوں آن پڑی ہے کہ ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے‘‘۔

دنیا کی اقوام لڑی جانے والی جنگوں سے اختلاف کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ امریکہ میں ویتنام میں لڑی جانے والی جنگ کے خلاف مخالفت پائی جاتی تھی۔ اسی طرح عراق پر حملے کی امریکہ اور برطانیہ میں شدید مخالفت دیکھنے میں آئی اور لاکھوں افراد نے مارچ کیا۔ خود پاکستان میں اس بات کا ناقدانہ جائزہ لیا گیا کہ 1970-71ء میں مشرقی پاکستان میں فوج کا کیا کردار تھا تاہم کوئی قوم بھی اس طرح اپنے فوجی جوانوں کی توہین نہیں کرتی جیسے جماعت ِ اسلامی یا مولانا فضل الرحمٰن نے کی ہے کہ مرنے والے طالبان نیکو کار اور شہید ہیں جبکہ وطن کیلئے جان نچھاور کرنے والے فوجی جوان اس مرتبے کے حامل نہیں ہیں۔

یہ معاشرہ سر سے پائوں تک مذہبی تصورات میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہاں لوگ شہادت کے تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہماری فوج میں بھرتی ہونے والے زیادہ تر جوانوں کا تعلق شمالی پنجاب اور پختون علاقوں سے ہوتا ہے۔ یہ دہقانی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سادہ دل، مخلص، جرأت مند اور جسمانی طور پر طاقتور لوگ ہیں۔ جب وہ کسی معرکے میں شریک ہوتے ہیں تو یہ جذبہ اُن کے حوصلے کو مہمیز دیتا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کیلئے بھی لڑرہے ہیں۔ جب ان میں کوئی میدان ِ جنگ میں کام آجاتا ہے تو اس کے اہل ِ خانہ کہتے ہیں کہ اﷲ کی رضا یہی تھی اور یہ کہ ان کے جوان نے اﷲ کی خاطر اپنی جان دی ہے اور سب نے ایک دن اُس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔مزید یہ کہ موت کا ایک وقت معیّن ہے اور اس کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔دراصل یہ شہادت کا شرف ہے جو اس جوان کے اہل ِ خانہ کا سر فخر سے بلند کردیتا ہے لیکن اگر کوئی، جیسا کہ منور حسن نے کہا ہے، اُسے شہادت کے رتبے سے گرائے اور یہ کہے کہ فوج کے دشمن ہی شہید ہیں تو یہ اس تمام نظرئیے کی بدترین توہین کے مترادف ہے۔ تاہم جماعت یہ کہہ کر اور اس پر رجوع نہ کرنے کا اعلان کرکے بھی بچ گئی ہے۔ ذرا تصور کریں اگر کسی پی پی پی کے رہنما کے منہ سے یہ بات نکلی ہوتی تو جماعت اور دیگر مذہبی جماعتوں کے احتجاجی نعروں (کہ اسلام خطرے میں ہے) سے زمین و آسمان تھرّا رہے ہوتے لیکن چونکہ یہ عقیدے کی نام نہاد محافظ جماعت ِ اسلامی ہے، اس لئے بعض حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والے ردعمل کے باوجود ماحول میں افسوس کی کیفیت ہو تو ہو، اشتعال ہویدا نہیں ہے۔

اس دوران حکمراں جماعت، پی ایم ایل (ن) کی اشک شوئی ملاحظہ کریں کہ منور حسن کے دلخراش بیان کے کئی دن بعد تک بھی اس کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن جب آئی ایس پی آر نے جماعت کے امیر کے خلاف سخت بیان دیا تو نواز شریف پر یکایک منکشف ہوا کہ اپنی جان نچھاور کرنے والے فوجی جوان قوم کے محسن ہیں....’’تھوڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ (اصل شعر میں ترکیب ’بہت دیر کی‘ ہے لیکن یہاں کم بھی زیادہ ہی ہے)۔

اب یہ لمحہ ہے جب فوج نے رک کر غور کرنا ہے کہ چاہے یہ جماعت ِ اسلامی کے امیر کا شہادت کا نام نہاد فلسفہ ہو یا ملک میں چلنے والی عدم برداشت اور انتہائی پسندی کی ہوا، سب کے پیچھے دفاعی اور خفیہ اداروں کی ماضی کی پالیسیاں ہی کارفرما ہیں۔ ملک جس دیوانگی کا شکار ہو رہا ہے، اس کے بیج ماضی میں جہاد کے نام پر ہی بوئے گئے تھے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے اس خطے میں جہادی نظریات کو فروغ دیا اور وہ مار ِ آستین پال لئے جن کا زہر آج ملک و قوم کی رگوں میں سرائیت کر چکا ہے۔ دوسری طرف ترکی کی فوج کے سربراہ مصطفی کمال نے ماضی کے نقوش اور عقائد کے نام پر رائج توہم پرستی کو حرف ِ غلط کی طرح مٹا دیا ۔ نقش ِ کہن مٹ گئے، تمام تماشا گر رخصت ہوگئے اور اوہام کو حقائق کے مقابلے میں شکست ہو گئی تو ایک نئی قوم نے جنم لیا.... تاہم پاک فوج کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ اگرچہ یہاں بھی فو ج کی ہائی کمان سیکولر طبقے کے پاس تھی لیکن اس نے بعض وجوہات کی بنا پر معاشرے میں نئے اوہام رائج کئے اور قوم کو روشن مستقبل کی طرف لے جانے کے بجائے اسے ایسے حمام ِ باد گرد میں اسیر کردیا جس سے ہم ابھی تک نکل نہیں پائے ہیں۔

اس کاوش میں مذہبی طبقہ دفاعی اداروں کے ہم قدم رہا۔ ’’مسجد کے زیر ِ سایہ خرابات‘‘تو مرزا کی شعری ترکیب تھی لیکن یہاں فی الواقع فوج کی سیکولر ہائی کمان اور مذہبی رہنمائوں کا اشتراک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔ اس بظاہر ناممکن ادغام میں منور حسن جیسے رہنما عقائد کے محافظ قرار پائے جبکہ سیاسی حکمران ان سے اتنے خائف تھے کہ عقائد کی غلط تشریحات پر بھی ایک لفظ کہنے کے روادار نہ تھے کہ مبادا اہالیان تقدیس اپنے جبر و قدر سے ملک کے درودیوار کو لرزہ براندم کر دیں۔ یہاں یہ سوچ دل میں جاگزیں ہوتی ہے کہ جب حکمران طبقہ ان مذہبی جماعتوں سے اتنا خائف ہے کہ ان کے خلاف بات کرنے کا بھی یارا نہیں ہے تو پھر یہ طالبان، جو کلاشکوف اور راکٹ لانچر کی زبان میں بات کرتے ہیں، کے خلاف کیا کرسکتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں ہے کہ محراب و منبر کے یہ شعلہ بار واعظ اپنی طرزِ فکر بدلیں گے یا نہیں....اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ اس کو چھوڑ دیں، سوال یہ ہے کہ کیا دفاعی ادارے اپنی ماضی کی ترجیحات کو تبدیل کر پائیں گے یا نہیں ؟دراصل ہم اس وقت فیصلہ کن لمحے میں ہیں۔ اگر دفاعی ادارے اپنے نظریات کو تبدیل کرتے ہیں تو پھر پاکستان بھی عدم برداشت اور تنگ نظری کی دھندلی گھاٹیوں سے نکل کر برداشت اور رواداری کی روپہلی دھوپ میں کھڑا ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اپنی کور چشمی پر کسی سے کیا گلہ؟اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ دفاعی ادارے قوم کے بازو ہیں۔ فکری طور پر چاہے قوم کو کوئی اتاترک یا مارٹن لوتھر کیوں نہ میسر نہ آجائے، جب تک فوج اپنی اصلاح نہیں کرے گی، قوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگر آئی ایس پی آر کے ردعمل کا جائزہ لیں تو اس نے جماعت ِ اسلامی کے بانی مولانا مودودی اور ’’ان کی اسلام کیلئے خدمات‘‘ کو سراہا ہے۔ کیا یہ سوال پوچھنا گستاخی تو نہیں ہوگی کہ کون سی خدمات؟ کیا آئی ایس پی آر نے یہ بیان دیتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کو ملحوظِ خاطر رکھا تھا؟مولانا مودودی نے قیام ِ پاکستان کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ مسٹر جناح کو بھی ہدف تنقید بنایا تھا۔ اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے کہ مولانا مودودی کے پاکستان کے بارے میں کیا نظریات تھے۔ انھوں نے ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی انتشار‘‘ میں لکھا....’’قائدِ اعظم سے لے کر مسلم لیگ کے عام کارکنوں تک ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کے نظریات اسلام سے مطابقت رکھتے ہوں‘‘۔

موجودہ دور کے سب سے بڑے فتنے، القاعدہ کے نظریات دراصل مولانا مودودی کے نظریات سے ہی مشتق ہیں۔ مسٹر جناح کے پاکستان میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کے نظریات کی ترویج میں مولانا مودود ی کی جماعت ِ اسلامی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ یہ جماعت ہی ہے جس نے درس گاہوں کا ماحول ’’ڈنڈا بردار اسلام‘‘ سے تباہ کر دیا۔ طالبان کے نظریات بھی وہی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے ہاتھ میں ڈنڈے کے بجائے کلاشنکوف اور راکٹ لانچر ہیں ۔ ہونے والی اس ’’پیشرفت‘‘ میں دفاعی ادارے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق مولانا مودودی کے بہت بڑے مداح تھے۔ اس کے باوجود اگر آئی ایس پی آر مولانا کی خدمات کو سراہتا ہے پھر امید کا دامن تھامنا سعی لاحاصل ہے۔ دراصل حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت سے شروع ہونے والی شہادت کی بحث نے بہت سا منظر واضح کردیا ہے کیونکہ ایک دہشت گرد کیا مرا....’’کچھ لوگ پہچانے گئے۔‘‘ کیا ہمارے مسیحا مرض کی تفہیم کے بعد کچھ چارہ جوئی کریں گے؟

کیا یہ قوم ایک روشن منزل کی طرف قدم بڑھائے گی یا اندھیرے ہی اس کا مقدر ہیں؟اُس فیصلہ کن ڈرون حملے نے ہمیں تاریخ کی عدالت کے روبرو لاکھڑا کیا ہے.... اہم بات یہ ہے کہ اس عدالت میں ہونے والا فیصلہ بھی ہم نے ہی کرنا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے، ملا نصیرالدین حقانی اسلام آباد میں کیا کررہے تھے؟ کیا صرف سرسبز پہاڑیاں دیکھنے کا شوق اُنہیں یہاں کھینچ لایا تھا؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.