.

دولت مشترکہ سربراہ اجلاس

سرور منیر راؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت مشترکہ کا 23واں اجلاس سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہو رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے 53 ممالک کے صدر وزرائے اعظم، یا ان کے نمائندے اس اجلاس میں شریک ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم محمد نواز شریف کر رہے ہیں۔ دولت مشترکہ کے تین روزہ سربراہ اجلاس کا افتتاح برطانیہ کے شہرادہ چارلس نے کیا۔ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ خرابی صحت کی بناء پر اس کانفرنس میں شرکت نہ کر سکی ہیں۔

بھارت، کینیڈا اور ماریشس نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے سری لنکا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے کا الزام لگا کر سربراہان حکومت کی سطح پر اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ سری لنکا کی حکومت نے سن2009ء میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو ختم کرنے کیلئے پوری قوت سے فوجی آپریشن کیا جس میں تامل ٹائیگرز کے لیڈر ویلوپلائی پربھاکرن سمیت باغیوں کی بیخ کنی کر دی گئی۔

آپریشن کے دوران "Collateral damage" میں بہت سے سول باشندے بھی ہلاک ہوئے۔ تامل ٹائیگرز کی دہشت گرد کارروائیوں کی وجہ سے سری لنکا پر تیس سال تک بدامنی اور خوف کی فضا چھائی رہی تھی۔ سری لنکن حکومت کی اس کارروائی سے ملک میں امن قائم ہوا، اور اب سری لنکا دوبارہ سیاحت اور تجارت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

سری لنکا یہ جنگ جیت تو گیا، لیکن اسکے نتیجے میں راجا پاکسے کی حکومت کیلئے ایک نیا محاذ بھی کھڑا ہُوا۔ تامل باغیوں کے تنازعے کے حوالے سے اسے آزادانہ تحقیقات کے مطالبوں کا سامنا کرنا پڑا جو کولمبو حکومت نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس نکتے پر کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر نے سری لنکا میں دولتِ مشترکہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ ماریشس جو دولتِ مشترکہ کے آئندہ اجلاس کی میزبانی کریگا کے وزیر اعظم نوین چندر رام غلام نے بھی اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے اس اجلاس میں شریک نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات سے پہلے اپنے تامل ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

سری لنکا کی بڑی آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے جبکہ تامل علاقے میں ہندو مت کو ماننے والوں کی اکثریت ہے۔ سری لنکا ابتدا ہی سے بھارت کی حاشیہ برداری سے گریز کی پالیسی اپنائے رہا ہے اسی بنا پر بھارت بھی عرصہ دراز سے اسی کوشش میں رہا ہے کہ وہ سری لنکا کو اپنا دست نگر بنائے رکھے اس منزل کے حصول کیلئے ضروری تھا کہ سری لنکا کو اندرونی مسائل میں الجھا دیا جائے تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو سکے اس مقصد کیلئے بھارت نے تامل باغیوں کی مالی اور عسکری مدد جاری رکھی، سری لنکا نے اس بغاوت کو کچلنے کیلئے پاکستان سے مدد مانگی۔ پاکستان نے اس معاملے میں سری لنکا کی حتیٰ المقدور مدد کی۔ جس پر سری لنکا کے عوام اور حکومت پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کو جب اپنے عزائم میں ناکامی ہوئی تو اس نے دنیا بھر میں سری لنکا پر الزام لگایا کہ اس نے ہندو آبادی کا قتل عام کیا ہے۔ بحرِ ہند کے جزیرے پر قائم ہندو آبادی کے چھوٹے سے ملک ماریشس نے بھی بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے سری لنکا میں ہونے والی دولت مشترکہ کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔

دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو نو آبادیاتی دور میں برطانیہ کی غلامی میں رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنتِ برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات سیکرٹری جنرل دیکھتا ہے تاہم ملکہ برطانیہ کسی رکن ملک یا اسکی حکومت پر کوئی اختیار نہیں تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میںاقتصادی تعاون اور جمہوریت کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان دولت مشترکہ کے ان آٹھ بانی ارکان میں سے ایک ہے جس نے 1949ء میں اعلان لندن پر دستخط کئے تھے۔ دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔ دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا ہیں۔ ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ 53 رکن ممالک کا کل رقبہ دنیا کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔

دولت مشترکہ کے ممالک برطانیہ کی نو آبادی رہنے کی وجہ سے سبھی ممالک میں انگریزی بولی اور سمجھی جاتی ہے ان ممالک میں برطانوی نو آبادیاتی قوانین، تعزیرات اور لیگل کوڈ بھی بہت حد تک نافذ ہیں۔

تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔ ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔ پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جانے پر احتجاجاً دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جب جنرل مشرف نے نوازشریف حکومت کا تختہ اُلٹا تو دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کر دیا گیا۔

دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل قدرتی آفات اور دہشت گردی کا سامنا ہے لیکن حکومت اور عوام درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے اور روشن مستقبل کیلئے پُرعزم ہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی دولت مشترکہ ملکوں کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت تمام پاکستانیوں کو ترقی کے یکساں مواقع دینے پر یقین رکھتی ہے۔

کولمبو میں ہونیوالی دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت سے جہاں انہیں دنیا بھر کے دوسرے رہنمائوں سے باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا وہاں مختلف ممالک اور خاص طور پر سری لنکا پاکستان کے درمیان پہلے سے قائم تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔

سری لنکا نے اپنے ملک میں دہشت گردی پر کنٹرول کر کے اسے تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ خواندگی کی شرح میں مالدیپ کے بعد سری لنکا ہے جہاں خواندگی کی شرح 91 فی صد ہے۔

سری لنکا بحرِ ہند کی تجارتی اور عسکری حکمت عملی میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ سری لنکا میں پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے بھارت کو خاصی پریشانی کا سامنا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے 2009ء کے بعد سری لنکا اور خاص طور پر کولمبو میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات تو خوشگوار اور برادرانہ رہے لیکن پاکستانی تاجر سری لنکا میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ سری لنکن عوام اور حکومت میں پاکستان کیلئے جو عزت اور وقار پایا جاتا ہے اس پس منظر میں ہماری وزارت خارجہ اور تاجر کمیونٹی کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.