.

ویہار

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میری منیر بھٹی سے پہلی ملاقات لاہور ائیر پورٹ پر ہوئی‘ میں اسلام آباد آ رہا تھا اور یہ کراچی جا رہے تھے‘ فلائٹیس لیٹ تھیں‘ یہ بھی ائیر پورٹ پر مارے مارے پھر رہے تھے اور میں بھی وقت گزارنے کے لیے کبھی ایک کونے میں بیٹھتا تھا اور کبھی دوسرے کونے میں گھس جاتا تھا‘ یہ میرے پاس آئے، بیٹھے‘ گفتگو شروع کی اور ہم دوست بن گئے، منیر بھٹی کی کہانی دلچسپ بھی تھی اور حیران کن بھی‘ یہ اندرون لاہور کے رہنے والے تھے‘ والد پر جوانی میں روحانیت کا دورہ پڑا‘ یہ ان کی والدہ اور ان لوگوں کو اللہ کے آسرے پر چھوڑ کر جوگی بن گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے‘ والدہ نے محنت مزدوری کر کے اپنے تین بچے پالے‘ منیر بھٹی تیسرے نمبر پر تھے‘ ان کے بھائی اور بہن ان سے بڑے تھے‘ یہ پڑھائی میں ’’بیک بینچر‘‘ تھے‘ یہ ایڑیاں گھسا گھسا کر پڑھتے رہے‘ گھر چھوٹا تھا‘ گلی سے لے کر دہلیز تک اور دہلیز سے لے کر بستر تک غربت ہی غربت تھی‘ عزیز رشتے دار سب ساتھ چھوڑ چکے تھے‘ پورے محلے میں کوئی ادھار تک دینے والا نہیں تھا‘ یہ گرتے پڑتے تھرڈ ائیر تک پہنچ گئے‘ یہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے‘ یہ ایک دن کالج کی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے‘ یہ سوچنے لگے ’’میرا مستقبل کیا ہے؟‘‘ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملا‘ یہ ستر کی دھائی کے آخری سال تھے‘ ان دنوں بینک کی نوکری اچھی جاب سمجھی جاتی تھی‘ نوجوان بی اے کے بعد بینک جوائن کر لیتے تھے‘ انھیں ماہانہ ساڑھے چھ سو روپے ملتے تھے‘ منیر بھائی کے ذہن میں بھی بینک کی نوکری تھی ’’لیکن کیا ساڑھے چھ سو روپے سے میری غربت ختم ہو جائے گی؟‘‘ یہ ان کا اگلا سوال تھا‘ اس کا جواب ’’ناں‘‘ تھا‘ اس کے بعد انھوں نے سوچا‘ پھر میرے پڑھنے کا کیا فائدہ؟‘‘۔

اور یہ سوال انھیں عملی زندگی کی طرف لے گیا‘ انھوں نے کالج کی سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے بزنس مین بننے کا فیصلہ کر لیا‘ انھوں نے اپنی کاپی‘ کتابیں اور پین کالج کی سڑھیوں پر چھوڑا اور پرانی انار کلی آ گئے‘ اس وقت ان کا کل اثاثہ تین سو روپے تھے‘ یہ ایک پرنٹنگ پریس پر گئے‘ اس سے اپنی خیالی کمپنی کا لیٹر پیڈ بنوایا‘ فرم کا نام پاکستان ایکسپورٹ کمپنی رکھا‘ کمپنی کی مہر بنوائی‘ تین سو روپے نقد ادا کیے اور دو سو روپے ادھار کر کے گھر واپس آ گئے‘ گھر آتے وقت ان کا سینہ فخر سے پھولا ہوا تھا‘ یہ خود کو بتا رہے تھے‘ میں صبح جب کالج گیا تھا تو میں ایک عام نالائق طالبعلم تھا مگر میں اب گھر واپس آیا ہوں تو میں ایک کمپنی کا مالک ہوں‘ مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ایکسپورٹ کمپنی‘ ماں اور بھائی نے بہت لعن طعن کی مگر یہ ڈٹے رہے‘ یہ اپنی ذاتی کمپنی کے ایم ڈی سے کم پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن اب سوال یہ تھا‘ یہ کمپنی جس کا کل اثاثہ پانچ لیٹر پیڈ اور ایک مہر کے سوا کچھ نہیں‘ یہ کرے گی کیا اور اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ یہ منیر بھٹی کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم سوال تھا اور یہ اس اہم ترین سوال کے جواب میں نکل کھڑے ہوئے۔

منیر بھٹی کے چند عزیز کپڑے کا کاروبار کرتے تھے‘ یہ لوگ فیصل آباد سے کپڑا خریدتے تھے‘ رنگ کرواتے تھے اور آگے بیچ دیتے تھے‘ منیر بھٹی ان عزیزوں کے پاس چلے گئے‘ انھوں نے انھیں پلہ نہ پکڑایا لیکن انھیں لائین مل گئی‘ یہ فیصل آباد پہنچ گئے اور فیکٹریوں اور ملوں میں دھکے کھانے لگے‘ یہ ان دھکوں میں کپڑے کا کام سمجھ گئے‘ یہ جان گئے دھاگا کہاں سے ملتا ہے‘ کپڑا کہاں بنتا ہے‘ اس کپڑے کی رنگائی کہاں ہوتی ہے اور یہ کس کس مارکیٹ میں بیچا اور خریدا جاتا ہے‘ یہ تمام تفصیل سمجھ گئے‘ یہ ان کے لیے بہت بڑا شاک تھا‘ کپڑے کا سارا کاروبار ادھار‘ زبانی اور کچی چٹوں پر چلتا ہے‘ آپ اگر ایک بار سوتر منڈی میں اپنا ’’ویہار‘‘ قائم کر لیں تو آپ پر خزانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں‘ منیر بھٹی نے ویہار (اعتماد) پر کام شروع کر دیا‘ یہ ادھار پر تھوڑا سا مال خریدتے‘ یہ مال خریدی ہوئی قیمت پر آگے بیچ دیتے اور بیوپاری کو وقت پر ادائیگی کر دیتے‘ بیوپاری آہستہ آہستہ ان پر اعتماد کرنے لگے‘ یہ اس کے بعد تھوڑا سا منافع لینے لگے‘ کریڈٹ کی لمٹ بڑھنے لگی‘ بیوپاری شروع میں انھیں ہفتے میں ادائیگی کے وعدے پر مال دیتے تھے مگر یہ مدت بڑھتے بڑھتے تین ماہ تک چلی گئی‘ یوں ان کا ادائیگیوں کا سرکل بڑھنے لگا‘ یہ تین ماہ کے ادھار پر مال لیتے تھے‘ تھوڑا سا منافع رکھ کر وہ مال نقد بیچ دیتے تھے۔

یہ رقم نئی خریداری پر لگا دیتے تھے‘ نیا مال خریدتے‘ اس سے منافع کماتے اور جن سے 90 دن میں ادائیگی کا وعدہ کیا ہوتا انھیں 45 سے 60 دن میں رقم ادا کر دیتے‘ یوں بیوپاری اور خریدار دونوں مطمئن ہو جاتے‘ یہ ’’ویہار‘‘ بڑھا تو انھوں نے کپڑے کی ایکسپورٹ پر توجہ دی‘ انھیں ایک جرمن کمپنی مل گئی‘ کمپنی نے آرڈر دینا شروع کر دیے اور یوں ان پر ڈالر برسنے لگے‘ یہ تین چار سال میں امیر لوگوں میں شمار ہونے لگے لیکن یہ منیر بھٹی کی منزل نہیں تھی‘ کسی نے انھیں بتایا یورپ اور امریکا میں جینز کی پتلونوں کی بہت مانگ ہے‘ یورپ اور امریکا کی کمپنیاں چھوٹے ممالک سے جینز کی پتلونیں بنواتی ہیں اور یہ پتلونیں ان کے ’’آوٹ لیٹس‘‘ پر مہنگی بکتی ہیں‘ منیر بھٹی نے ’’ڈینم پینٹس‘‘ کی فیکٹری لگانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ فیصلہ ان کے پچھلے فیصلوں سے زیادہ مشکل تھا لیکن یہ اس فیصلے پر ڈٹ گئے‘ انسان کا یہ کمال ہے یہ جب اپنی کسی ایک خامی یا کمی پر قابو پا لیتا ہے تو پھر اس کی کوئی خامی‘ خامی اور کوئی کمی‘ کمی نہیں رہتی‘ یہ پھر دنیا کی مشکل سے مشکل ترین مشکل کو بھی مشکل نہیں رہنے دیتا‘ دنیا کی مشکلیں انسان کا امتحان نہیں ہوتیں۔

اس کا اصل امتحان اس کی پہلی مشکل ہوتی ہے‘ آپ جب یہ مشکل گرا لیتے ہیں تو پھر آپ کے حوصلے آپ کے اعتماد اور آپ کی انرجی میں کئی ہزار گنا اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں آپ فرہاد کی طرح پتھروں کے سینے سے دودھ کی نہر نکال دیتے ہیں‘ منیر بھٹی نے بھی اپنی زندگی کی پہلی اور سب سے بڑی مشکل کو شکست دے دی تھی‘ یہ غربت پر فتح پا چکے تھے لہٰذا اب کوئی مشکل ان کے لیے مشکل نہیں تھی‘ انھوں نے ڈینم پینٹس کا کارخانہ لگایا اور دنیا کے مشہور ترین برینڈز کی جینز بنانا شروع کر دیں‘ یہ کپڑے کے کاروبار سے نکل کر جینز کے بزنس میں آ گئے اور اس میں بھی انھوں نے کمال کر دیا‘ انھوں نے ایک کے بعد دوسری فیکٹری بنائی اور یہ ایک کے بعد دوسرے‘ دوسرے بعد تیسرے‘ چوتھے اور پانچویں ملک میں جینز ایکسپورٹ کرنے لگے‘ یہاں تک کہ ان کے ملازمین کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی‘ یہ ملک کے سب سے بڑے جینز ایکسپورٹر بن گئے‘ یہ جب مجھے ملے تو یہ اس وقت ’’ڈینم پینٹس‘‘ کے ایکسپورٹر تھے۔

میری ان سے ملاقاتیں شروع ہو گئیں‘ میں ان کی فیکٹری بھی گیا‘ ان کے ملازمین سے بھی ملا اور ان کے گھر بھی گیا‘ یہ بھی اسلام آباد میں مجھے ملتے رہے‘ لاہور میں نہر کے کنارے ان کا دس کنال کا خوبصورت بنگلہ تھا‘ یہ بنگلہ خالی پڑا تھا‘ بھٹی صاحب نے اس بنگلے میں میرے ’’سیشنز‘‘ شروع کر دیے‘ میں مہینے میں ایک بار لاہور جاتا‘ یہ تین چار سو پڑھے لکھے لوگوں کو جمع کرتے اور ہم لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے‘ یہ سیشنز کامیاب ہونے لگے تو بھٹی صاحب نے پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب اور بلال قطب کے سیشنز بھی شروع کر دیے یوں یہ بھوت بنگلہ آہستہ آہستہ انٹلیکچول فورم میں تبدیل ہو گیا‘ میں نے ایک دن بھٹی صاحب کو مشورہ دیا ’’آپ اس گھر میں کوئی تعلیمی ادارہ کیوں نہیں بنا لیتے‘‘ بھٹی صاحب بولے ’’ہاں اس میں کوئی حرج نہیں‘ میں سارا دن فارغ رہتا ہوں‘ بچے کاروبار سنبھال چکے ہیں‘ میں اگر یہاں کالج بنا لوں تو میرا دل بھی لگا رہے گا اور لوگوں کو اچھی تعلیم بھی ملے گی‘‘ بھٹی صاحب نے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا‘ انھوں نے اپنے سابق کالج گورنمنٹ کالج کی فرنچائز لی‘ گھر کو کالج میں تبدیل کیا‘ اسٹیٹ آف دی آرٹ کلاس روم بنائے اور کلاسز شروع کرا دیں‘ یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا‘ منیر بھٹی کو نئی زندگی مل گئی اور یوں ایک ایسا نوجوان جس نے غربت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی‘ وہ نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرنے لگا‘ کالج کے تجربے نے انھیں حوصلہ دیا اور یہ یونیورسٹی بنانے کا خواب دیکھنے لگے‘ نئی یونیورسٹی کا چارٹر مشکل تھا۔

چنانچہ انھوں نے بہائو الدین ذکریا یونیورسٹی کے ساتھ مل کر لاہور میں اس کا کیمپس بنا لیا‘ انھوں نے شہر کے تین حصوں میں شاندار عمارتیں بنائیں اور داخلے کھول دیے‘ تین ہزار طالبعلموں نے ان کے کیمپس میں داخلہ لے لیا‘ میں یونیورسٹی کے پہلے دن ان کے کیمپس گیا تو وہاں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی‘ منیر بھٹی بھی بہت خوش تھے‘ یہ سمجھ رہے تھے ان کی اصل زندگی اب شروع ہوئی ہے‘ یہ تعلیم کے اس سلسلے کو آہستہ آہستہ آگے پھیلاتے جائینگے‘ یہ لاہور میں بیس ادارے بنائینگے‘ پھر پورا پنجاب کور کرینگے اور اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں اسکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں بنائینگے‘ ان کا کہنا تھا ’’ میں سیٹھ منیر بھٹی بن کر نہیں مرنا چاہتا‘ میں ماسٹر منیر بھٹی کے نام سے مرنا چاہتا ہوں‘‘ میرے منہ سے آمین نکلا کیونکہ یہ ’’ویہار‘‘ کا بندہ ہے اور اگر اس نے کپڑے کے ویہار کو تعلیم کے ننگے بدن کی پوشاک بنا لیا تو یہ واقعی کمال ہو گا اور یہ اگر اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو بھی کوئی خرابی نہیں کیونکہ یہ بہرحال مقابلے میں تو اترے‘ انھوں نے چراغ جلانے کی کوشش تو کی‘ یہ آلو پیاز مہنگے کرنے والے بیوپاری تو نہیں رہے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.