.

بانی پاکستان کی پاکستانیت پر سوال

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حسین حقانی نے اپنی نئی تصنیف ــ’’Magnificent Delusions‘‘ میں معلوم نہیں کیوں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ موصوف کی اپنی پاکستانیت اور اس ملک سے وفاداری تو میموگیٹ کمیشن کی رپورٹ نے مشکوک بنا ہی دی مگر کتاب پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ اس کا بدلہ قائد اعظم سے لینا چاہتے ہیں۔

میموکمیشن نے مصنف کو جھوٹا ثابت کیا اور منصور اعجاز کے اس الزام کو سچ تسلیم کیا کہ مصنف نے پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف امریکی اہلکاروں کو میمو لکھا۔ مصنف نے سپریم کورٹ کے سامنے وعدہ کرکے پاکستان سے امریکا گئے کہ جب بھی بلایا جائے گا تو واپس آئوں گا مگر بارہا عدالت عظمیٰ کے بلانے کے باوجود واپس آنے کی بجائے ایک ایسی کتاب لکھ ڈالی جوپاکستان اور اس کے بانی قائد کو بدنام کرنے کو کوشش ہے۔

موصوف کو خود تو پاکستان کے بارے میں کچھ اچھا کہنے اور کرنے کی توفیق نہیں ہو رہی مگر وہ دوسروں بشمول قائد اعظم کی پاکستانیت اور اُن کے خلوص پر بھی سوالیہ نشان اُٹھا رہے ہیں۔ اپنی کتاب میں اپنی مرضی کے حوالے دیتے ہوئے مصنف فرماتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان بننے کے بعد لیاقت علی خان اور ابوالحسن اصفہانی جیسے کچھ لوگوں نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنے نئے ملک کو دیا اور ان کا بھارت واپس جانے کاکبھی کوئی ارادہ نہ تھا مگر پاکستان کے قیام کے کئی سال تک پاکستان کی اشرافیہ کے کچھ افراد کا ایسا کردار تھا جیسا کہ پاکستان ایک عارضی ملک ہے۔ مصنف نے اس سلسلے میں سب سے پہلی مثال بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی دی۔ جناب فرماتے ہیں کہ جناح نے اُس وقت کے پاکستان میں بھارت کے سفیر کے ذریعے نہرو کو کہلوا بھیجا کہ وہ (قائد اعظم) یہ چاہتے ہیں کہ بمبئی میں اُن (قائد)کے گھر کو اچھی حالت میں رکھا جائے تاکہ وہ وہاں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار سکیں۔ قارئین کرام مصنف کے اپنے الفاظ میں بھی یہ پڑھ لیں کیوں کہ ترجمہ بعض اوقات معنی تبدیل کر دیتا ہے:
"Although some men like Liaquat and Abol Hasan Ispahani gifted some of their property to the new state and had no plans of returning to India, for several years after independence some of Pakistan's elite acted as if their country was temporary. For instance, Jinnah told India's Prime Minister Nehru, through India's ambassador to Pakistan, that he wanted his house in Bombay kept in good condition so that he could retire there."

مصنف جو خود ایک عرصہ دراز سے پاکستان کو چھوڑ کر امریکا میں رہاش پذیر ہیں جہاں سے وہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف لگاتار تیر اندازی کر رہے ہیں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا کہ پاکستان بننے کے بعد صاحب حیثیت سیاسی رہنما اور سرکاری افسر کئی سال تک اسی شش و پنج میں رہے کہ اُن کے لیے پاکستان میں رہنا زیادہ فائدہ مند ہے کہ بھارت میں بانی پاکستان جنہوں نے اپنا سب کچھ اس ملک کے لیے قربان کیا، اُن کے بارے میں کتاب کے ایک حصہ میں مصنف نے یہ ــ’’انکشاف‘‘ بھی کرنا مناسب سمجھا:
"During a quiet picnic with US Ambassador Paul Alling, Jinnah and his sister Fatima suggested that the ambassador buy their property, the magnificent Flagstaff House, for his embassy. Alling politely informed the Governor-General that the embassy had already obtained another property. The ambassador then sent Jinnah a gift of four ceiling fans after he complained about Karachi's sweltering heat."

(ترجمہ: امریکی سفیر پال آلینگ کے ساتھ ایک غیر سرکاری تفریح کے دوران جناح اور ان کی بہن فاطمہ نے امریکی سفیر کو تجویز دی کہ وہ ان (قائد اعظم)کی جائیداد جس میں عظیم فلیگ اسٹاف ہائوس قائم تھا کو امریکی ایمبیسی کے لیے خرید لیں۔آلینگ نے نرمی سے گورنر جنرل (جناح) کو بتایا کہ ایمبیسی کے لیے وہ پہلے ہی دوسری پراپرٹی خرید چکے ہیں۔ امریکی سفیر نے بعد میں جناح کو چھت والے چارپنکھوں کا تحفہ بھیجاکیوں کہ قائدنے امریکی سفیر سے کراچی کی گرمی کی شکایت کی تھی۔)

امریکہ میں بیٹھے مصنف جن کی زندگی، سیاست اور نظریات گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے سے مشابہت رکھتے ہیں اپنی کتاب میں اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کے متعلق کافی تکلیف محسوس کرتے ہیں اور اسی بنا پر جناب نے مختلف حوالوں سے قائد اعظم کی ویژن کو چیلنج کیا اور بعض اوقات مذاق بھی اڑایا۔ مثلاً ایک مغرب سے متاثرہ خاتون صحافی کا حوالہ دیتے ہوئے مصنف فرماتے ہیں کہ جناح پاکستان کے قیام کے ایک ماہ بعد تک اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں کچھ بتانے کے لیے تیار نہ تھے۔مصنف نے اس خاتون کے سوالات اور اس کے تاثرات کو قائد کی رائے پر اہمیت دیتے نظر آئے۔مصنف نے یہ بھی فرمایا کہ دو قومی نظریہ کی بیرونی دنیا کے سامنے کوئی اہمیت نہ تھی مگر اس کے باوجود جناح نے مسلم اکثریتی ممالک سے مدد مانگی۔اپنے آپ کو فلاسفر سمجھنے والے مصنف نے یہ بھی لکھا کہ ایک طرف پاکستان مغرب سے امداد اور اسلحہ مانگ رہا تھا تو دوسری طرف وہ اپنی قومیت کو اسلام کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔ ایک جریدہ (Life)کا حوالہ دیتے ہوے مصنف لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد اپنی بیش بہا مشکلات کے باوجود پاکستان کے رہنمائوں کے پاس وقت تھا کہ وہ فلسطین جیسے مسئلہ پر بات کریں۔

بانی پاکستان کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے بھی مصنف نے ایسے ہی فضول حوالوں کو اپنی کتاب میں شامل کیا جو اس عظیم لیڈر سے محبت کرنے والوں کے لیے تکلیف کا باعث ہی بن سکتا ہے۔ جناب لکھتے ہیں کہ قائد کی وفات کے بعد ٹائم میگزین نے قائد اعظم محمد علی جناح کو"Man of hate" (نفرت کرنے والا شخص) اور ــ"Best Showman" (بہترین ڈرامہ باز)لکھا۔ اس میگزین نے قائد اعظم کو دوغلا لکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ مسلمانوں میں جوش پیدا کرنے کے لیے اُن کے سامنے جلسوں میں شیروانی اور ٹوپی پہن کر جاتے ہیں مگر جلسوں سے واپس ہوتے ہی وہ مغربی لباس زیب تن کر لیتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے مصنف نے قائد اعظم کے خلاف ان گھٹیا حوالوں کا تو ذکر کیا مگر یہ کہیں نہیں لکھا کہ مغرب اور اس کے جرائد بانی پاکستان کے بارے میں بکواس کرتے رہے۔

مصنف جو اپنی چرب زبانی سے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی تو جماعت اسلامی کے قریب رہے تو کبھی جنرل ضیاء الحق کے جنازے پر سرکاری ٹی وی پر بین کر کے روتے سنائی دیے، کبھی وہ نواز شریف کے قریب رہ کر بے نظیر بھٹو کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلاتے رہے تو کچھ عرصہ بعد پھر اُسی بے نظیر بھٹو کے قریب ہو گئے،نے بانی پاکستان کے خلاف اپنی کتاب میں دوسروں کی بکواس اور غلاظت کو تو لکھا مگر اس کا دفاع نہ کیا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.