.

یاسرعرفات کے پراسرار قتل کی بین الاقوامی تحقیقات

اشتیاق بیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نو [9] سال قبل جب تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے لیڈر یاسرعرفات پیرس کے ایک اسپتال میں پراسرار طور پر انتقال کر گئے تو اُن کی بیوہ سوہا عرفات نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے شوہر کی موت طبعی نہیں بلکہ اُنہیں زہر دے کر قتل کیا گیا ہے جس کا شک سوہا نے اسرائیل پر ظاہر کیا مگر افسوس کہ اس وقت یاسر عرفات کی جماعت پی ایل او سمیت کسی نے بھی یاسرعرفات کی بیوہ کے دعوے پر یقین نہیں کیا اور یاسرعرفات کی تدفین بغیر پوسٹ مارٹم عجلت میں کر دی گئی۔

اس موقع پر عرب ٹی وی الجزیرہ نے یاسر عرفات کی پراسرار موت پر ایک ڈاکیومنٹری فلم بنانے کے لئے سوہا سے رابطہ کیا جس کے بعد سوہا نے یاسرعرفات کی موت سے قبل آخری دنوں میں زیر استعمال کپڑے، برتن اور دیگر اشیاء الجزیرہ کی ٹیم کے حوالے کر دیئے جسے الجزیرہ نے اپنے طور پر حقائق جاننے کی غرض سے ایک سوئس لیبارٹری کو بھجوایا۔ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق یاسرعرفات کے زیراستعمال کپڑوں اور برتنوں میں پولونیم نامی تابکاری مادے کے ذرات پائے گئے جس سے اس خدشے کو تقویت ملی کہ یاسرعرفات کی موت طبعی نہیں تھی جس کے بعد سوہا عرفات نے فلسطینی صدر محمود عباس کی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ رملہ میں یاسرعرفات کی قبر کشائی کی اجازت دے۔

اس طرح نومبر 2012ء میں یاسرعرفات کی بیوہ کی درخواست پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سوئٹزرلینڈ، فرانس اور روس کے فورینزک ماہرین نے راملہ میں یاسرعرفات کی قبر کشائی کرکے ان کی باقیات کے نمونے حاصل کئے جبکہ فرانس کے اسپتال سے یاسرعرفات کا میڈیکل ریکارڈ اور ان کے زیر استعمال اشیاء تحویل میں لے کر انہیں سوئٹزرلینڈ کی ایک فورینزک لیبارٹری بھجوایا گیا۔

گزشتہ دنوں سوئس فورینزک ماہرین نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ یاسرعرفات کی باقیات کے نمونوں میں تابکاری مادے پولونیم کی کافی زیادہ مقدار ملی ہے جس سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ فلسطینی رہنما کو زہر دیا گیا تھا اور ان کی موت طبعی نہیں تھی۔ اس انکشاف کے بعد یاسرعرفات کی بیوہ سوہا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک سیاسی قتل کے جرم سے پردہ اٹھارہی ہیں اور آج ان کا خدشہ درست ثابت ہوا ہے کہ اُن کے شوہر کو قتل کیا گیا تھا۔ سوہا عرفات کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اور اُن کی بیٹی دنیا کی ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی تاکہ جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ عرب ٹی وی الجزیرہ جس نے یاسر عرفات کی موت سے متعلق حقائق منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، نے اس انکشاف کو ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر پیش کیا جس نے مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی ہلچل پیدا کردی۔ عرب ٹی وی کے مطابق یاسرعرفات کی پسلی اور کولہے کی ہڈی کے نمونوں میں پولونیم کی 18 گنا زیادہ مقدار پائی گئی تھی اور انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا تھا تاہم رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی دفتر خارجہ نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے رہنما یاسرعرفات تقریباً 50 سالوں سے آزاد فلسطین کے قیام کے لئے جدوجہد کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ایک گوریلا جنگجو کی حیثیت سے کیا اور ساری زندگی خطرات سے کھیلتے ہوئے گزاری۔ یاسرعرفات نے 1974ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گوریلا جنگجو کی وردی پہن کر تاریخی خطاب کیا۔ جب 1982ء میں اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو وہ اس وقت بیروت میں ہی موجود تھے مگر اسرائیل انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہا۔ 40 سالہ جلاوطنی کے دوران یاسرعرفات نے کویت، تیونس اور لبنان کے علاوہ کئی ممالک میں قیام کیا اور فلسطین کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھی تاہم طویل عرصے تک گوریلا کارروائیوں کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانے میں ناکامی کے بعد وہ مسئلہ فلسطین کو پرامن طریقے سے حل کرانے کی جانب راغب ہوئے۔ یاسرعرفات 1994ء میں جلاوطنی ترک کر کے فلسطین پہنچے اور اسرائیل سے امن سمجھوتہ کیا جس کے تحت فلسطین اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یاسرعرفات اپنی موت سے قبل 2 سال تک رملہ میں اپنے صدر دفتر میں محصور رہے۔ اس دوران اسرائیل نے ان کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تاہم یاسرعرفات محفوظ رہے۔ یاسرعرفات کو امن کے کئی ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں سابق اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ ملنے والا مشترکہ نوبل امن انعام بھی شامل تھا۔ یاسرعرفات نے اپنی جوانی فلسطین کی آزادی کے لئے وقف کر رکھی تھی تاہم اپنی زندگی کے آخری حصے میں انہوں نے سوہا سے شادی کی جن سے ان کی اکلوتی بیٹی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ فرانس میں مقیم ہے۔

مخالفین کو راستے سے ہٹانے کی اسرائیلی تاریخ بہت پرانی ہے۔ فلسطینی رہنما یاسرعرفات کے قتل سے قبل بھی 1997ء میں اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس کے معروف رہنما خالد مشعل کو اردن میں زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تھی مگر اسرائیلی ایجنٹ کے بروقت پکڑے جانے اور اردن کے بادشاہ کی فوری مداخلت کے باعث اسرائیل اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہا۔ اسرائیل، یاسرعرفات کے قتل کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم شیرون اور ان کی کابینہ یاسرعرفات کو اپنے راستے سے ہٹانے اور رملہ میں واقع ان کے ہیڈ کوارٹر کو بم سے اڑانے کے مذموم مقاصد رکھتی تھی۔ حالیہ رپورٹ میں ہونے والے انکشاف سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یاسرعرفات کا قتل عوامی نہیں بلکہ حکومتی سطح کا ہے کیونکہ ہائی ریڈیو ایکٹو تابکار مادہ پولونیم ایٹمی ری ایکٹر سے حاصل کیا جاتا ہے جو عالمی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتا جس کا مطلب یہ ہے کہ یاسرعرفات کا قتل ریاست نے کیا ہے۔ افسوس کہ اس تمام منظرنامے میں فلسطین اتھارٹی کا کردار زیادہ حوصلہ مند نہیں رہا۔

یاسرعرفات کی موت کے بعد فلسطین اتھارٹی اس بات کی حامی نہیں تھی کہ یاسرعرفات کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے مگر ان کی بیوہ کے دبائو پر فلسطینی صدر محمود عباس کو یاسرعرفات کی موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے مجبوراً فرانسیسی حکومت کو خط تحریر کرنا پڑا۔ یاسرعرفات کی بیوہ سوہا کی اپنے شوہر کی موت کے اسباب جاننے کی جنگ اکیلے ہی لڑنا قابل ستائش ہے مگر اب جبکہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے، امید ہے کہ فلسطین اتھارٹی سمیت دیگر فلسطینی رہنما، سوہا عرفات کی تنہا لڑی جانے والی جنگ میں اُن کا ساتھ دیں گے اور جس طرح سابق لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی گئی تھی اسی طرح یاسرعرفات کی پراسرار موت کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائی جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.