.

’’سر! بیوہ کہاں رہنا پسند کریں گی‘‘

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آمریت کی اذیتوں میں زندگی کرنا ہمارا ایک قومی معمول ہے۔ ہم نے ایک ایک آمر کو برسوں بھگتا اور انھیں گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا یعنی ہم نے ان کی پالیسیوں اور کار گزاریوں کو خراج تحسین پیش کیا اور احترام دیا لیکن ان دنوں ہم اپنے اسی آمر کے خلاف قطعا خلاف توقع قانونی کارروائی کرنے والے ہیں۔

اگر ہمارے ہوش و حواس سلامت ہیں تو ہمیں ایک بار پھر سے اپنے اس ارادے کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ بلاشبہ ایک قومی تقاضا اور قومی وقار کا مسئلہ ہے لیکن لازم ہے کہ اسے خوبصورتی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ورنہ ہماری زندگی کا یہ ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے تاریک ہو سکتا ہے۔ ہمارے جتنے بھی فوجی آمر حکمران بنے، ان میں سے سوائے ایک کے سب نے اپنے کسی مخالف کو تنگ نہیں کیا۔ ایوب خان اپنے گھر میں بستر پر فوت ہوئے ، ملک توڑنے والے یحییٰ خان کو بھی قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔

ضیاء الحق کو امریکا نے فضا میں ہی اڑا دیا کیونکہ وہ بھارت اور امریکا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا تھا البتہ جاتے جاتے ضیاء الحق اپنے مخالف ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھکانے لگا گئے۔ آمروں کے ذکر سے کچھ نئی اور پرانی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ جرمنی کے آمر ہٹلر نے فیصلہ کیا کہ اس کا سب سے نامی گرامی جرنیل رومیل اس کے لیے خطرناک ہے اس لیے اس کی موت کا حکم جاری کیا گیا۔ اس حکم پر عملدرآمد سے کچھ باتیں یاد آتی ہیں۔

جرمن فوج کے نوجوان افسر اپنے جرنیل کی خدمت میں حاضر ہوئے، انھوں نے زبردست سیلوٹ کے بعد ہٹلر کا حکم نامہ جرنیل کو پیش کیا جس کا علم اسے پہلے سے ہو چکا تھا۔ اس نے بڑے وقار اور تحمل کے ساتھ موت کا یہ پروانہ وصول کیا یعنی ان نوجوان فوجیوں کے مطابق ان کا یہ افسانوی جرنیل گویا ہٹلر کے حکم کے بعد سزائے موت پا چکا تھا، اس لیے انھوں نے یہ حیرت انگیز جملہ کہا کہ ’’سر! بیوہ کہاں رہنا پسند کرے گی‘‘ جنرل رومیل نے افریقہ کے صحراؤں میں برطانوی فوج کو شکست دی تھی، ایک برطانوی فوجی نے اپنی کتاب میں اسے ’صحرا کی لومڑی‘ قرار دیا تھا۔

ایک آمر ہٹلر نے دنیا کا یہ منفرد قسم کا جرنیل ختم کر دیا، اسے اس کے ہموطنوں نے نہیں اس کے دشمنوں نے یاد رکھا۔ ہمارے ہاں جتنے بھی فوجی آمر آئے وہ سوائے ایک کے کسی کی جان لیے بغیر چلے گئے۔ اس ایک نے عدالتی حکم پر عمل کیا۔ جب بھٹو کی زندگی کے خلاف منصوبے بن رہے تھے تو اس نے جیل سے نوابزادہ نصراللہ خان کو پیغام بھیجا کہ مجھے صرف گلی بازار کا عوامی احتجاج ہی بچا سکتا ہے، آپ کچھ کریں لیکن وہ کیا کرتے، انھوں نے مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب کی پارٹی کے لیڈر ملک بھر سے غائب ہو گئے ہیں، دوسرے صوبوں میں چلے گئے ہیں، میں کیا کر سکتا ہوں۔ جنرل رومیل کی ’بیوہ‘ کو پوچھنے والے تو موجود تھے لیکن بھٹو صاحب کے خاندان کو اس قسم کی کسی مدد کی ضرورت بھی نہیں تھی مگر کسی نے تکلفاً بھی نہیں پوچھا۔

ہمارے فوجی آمروں میں دلچسپ شخصیت یحییٰ خان کی تھی۔ اسے اقتدار سے الگ کر دیا گیا لیکن اسے گمان تھا کہ وہ اب تک پاکستان کا صدر ہے چنانچہ پنجابی کا یہ مشہور فقرہ اس نے بار بار دہرایا کہ مجھے صدارت سے کیوں الگ کیا گیا کہ کیا میں نے کسی کھوتی (گدھی) کو ہاتھ لگایا ہے۔ کثرت شراب نوشی نے اس کا ذہن ماؤف کر دیا تھا ورنہ اسے اپنے ہر طرف اپنی صدارت سے محرومی کا پتہ چلتا رہتا البتہ اس کا پیشرو ایوب خان باعزت طریقے سے رخصت ہوا۔

اس نے سیاست سے علیحدگی کا خود ہی اعلان کر دیا، اس پر اس کی پارٹی کنونشن لیگ کے سرکردہ لیڈر اس سے ملے اور کہا کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں ہم حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں، مرحوم ملک محمد قاسم اور سردار خضر حیات مرحوم نے مجھے اس ملاقات کی تفصیلات بتائیں لیکن ایوب خان نے یہ کہہ کہ ان کو خاموش کر دیا کہ جب پاکستان آرمی کا سربراہ کہہ دیتا ہے کہ نہیں تو پھر وہ نہیں ہی ہوتا ہے، اس طرح ایوب خان نے بتا دیا کہ یحییٰ خان خود امید وار ہے اور ایوب خان کا اقتدار ختم ہو گیا لیکن پالیسیوں سے اختلاف اپنی جگہ ایوب خان ایک کارکن اور پاکستانی لیڈر تھا جس نے ملک کی صنعت اور زراعت دونوں شعبوں میں کار نامے سر انجام دیے اور بدقسمتی کی کیا انتہا ہے کہ بعد میں آنے والے سیاسی حکمرانوں نے اس صنعت کو قومیا کر اس کی ترقی کو ختم کر دیا۔

میرے چھوٹے سے گاؤں میں اس زمانے میں اس وقت کے کوئی اسی ہزار روپے کے زرعی آلات تھے۔ ایوب خان اور نواب کالا باغ دونوں نے ملک کی قسمت ہی بدل دی تھی اگر یہ سلسلہ چلتا رہتا تو آج ہم پتہ نہیں کہاں ہوتے مگر چھوڑئیے، ان افسردہ یادوں کو مجھے تو جرمن فوجیوں کی وہ بات بار بار یاد آ رہی ہے جو انھوں نے اپنے جرنیل سے اس کی زندگی کے انتہائی نازک وقت میں کہی تھی کہ ’’سر! بیوہ کہاں رہنا پسند کریں گی۔‘‘

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.