سعودی عرب کو ایٹم بم فراہمی کا شوشہ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ ایران سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کررہا ہے، اگرچہ تعلقات بڑھانے کی کئی وجوہات ہیں، ایک تو پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو روکے، سعودی عرب کو زچ کرے، اسرائیل کو تحفظ فراہم کرے جو ایران کی پالیسی کی وجہ سے گھر گیا ہے۔ امریکہ خود ایران سے تعلقات استوار کر رہا ہے مگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچنے دے رہا ہے۔

پاک ایران تعلقات سے وہ اس قدر پریشان ہے کہ وہ پچھلے دو عشروں سے پاکستان میں شیعہ اور سنی برادری کو اپنے کارندوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران عراق جنگ سے جو خون بہانا شروع کیا سو وہ اب تک جاری ہے مگر اب وہ اِس سے بڑھ کر زیادہ متحرک تخریب کاری کا سوچ رہا ہے اور تعلقات کو خراب کرنے کے لئے سفارت کاری و تخریب کاری کے منصوبے استعمال کر رہا ہے۔ میں نے اپنے ایک کالم میں اِس کی نشاندہی کئی ماہ پہلے کردی تھی کہ پاکستان اور ایران کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کی خرابی پیدا کرنے کے لئے امریکہ سرگرم ہو گیا ہے، اس لئے اُن کو زیادہ متحرک اور مستعدی کے ساتھ تعلقات استوار کر لینا چاہئیں۔

میں نے حکومت ِایران کی توجہ بھی اس طرف دلائی تھی کہ پاکستان نے ایران کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے امریکہ کو 2011ء میں ہی جواب دے دیا تھا، امریکہ کا قونصل خانہ کوئٹہ میں قائم نہیں ہونے دیا گیا، شمسی ایئربیس ختم کردیا گیا۔ اس کے علاوہ 2 اور اڈے جو ایران کو گھیرنے کے کام آتے اُن کو ختم کر دیا۔ اس وقت ایران کے گرد کئی ملکوں میں امریکی اڈے ہیں مگر پاکستان واحد ملک ہے جہاں ایران کو گھیرنے کے لئے کوئی اڈہ موجود نہیں ہے۔ اِس لئے ایران کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات کو استوار کرنے میں امریکی بہلاوے میں نہ آئے۔

میں نے پاک ایران اسٹرٹیجک اتحادی کے عنوان سے کتاب لکھ کر دونوں ممالک کی اسٹرٹیجک اہمیت کو واضح کیا تھا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا جس طرح ساتھ دیا تھا اس کو واضح کیا تھا مگر لگتا ہے کہ ایران نے امریکی بہلاوے کا اثر لے لیا ہے۔ اُن کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے علاقے میں پائپ لائن خود بچھائے۔ یہ خبر پاکستان اور ایران کے درمیان دوری شروع ہونے کی اطلاع دیتی ہے۔ اب اسرائیل نے ایک اور شوشا چھوڑ دیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ایٹمی اسلحہ فراہم کر رہا ہے یا اس نے فراہم کر دیا ہے۔

ایک مغربی کالم نگار جوناتھن پاور کے علاوہ کئی اور مغربی کالم نگار اس پر طبع آزمائی کر رہے ہیں اور پھر اس خطہ کے دفاعی تجزیہ کار موسیٰ خان جولزئی نے ایک انگریزی اخبار میں لکھا ہے کہ پاکستان اگر سعودی عرب کو ایٹم بم فراہم کردے گا تو اِس بات کے خدشات بڑھ جائیں گے کہ وہ ہتھیار غیر ذمہ دار لوگوں کے ہاتھوں میں آجائیں اور وہ شام میں استعمال ہو جائیں یا افغانستان میں یا کہیں اور۔ اس کے علاوہ جولزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دو بریگیڈ فوج سعودی عرب میں موجود ہے، اب بھلا دو بریگیڈ فوج سعودی عرب جیسے وسیع ملک میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے، یہ فوج ایک عرصے سے سعودی عرب میں موجود ہے۔ جوناتھن پاور نے لکھا ہے کہ اگر پاکستان نے سعودی عرب کو ایسے ہتھیار دیئے تو پاکستان کو سزا کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔

دونوں کے دلائل ایک جیسے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کی تیاری میں سرمایہ کاری کی تھی اس لئے پاکستان اُس کو ایٹم بم ضرور فراہم کرے گا۔ اس الزام کو یکسر غلط ثابت کرتے ہوئے ایک مغربی تجزیہ کار گورڈن ڈف اور پریس ٹی وی نے یہ کہا ہے کہ سعودی عرب اپنا ایٹمی پروگرام فرانس کی مدد سے کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے علاوہ جولزئی کے دلائل کمزور ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی کسی اور طرح سے مدد کرے گا اور جب تحقیق کرکے لائے تو صرف یہ ملا کہ سعودی عرب نے پاکستانی بانڈز میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، اگر بڑی سرمایہ کاری کی ہوتی تو وہ اِس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے، یہ نہیں بتایا کہ کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہ امداد تو نہیں ہوئی نا! اِس کا صرف مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں زیادہ سے زیادہ خلیج حائل کردی جائے۔ پاکستانی مشیر خارجہ سے میں نے اپنی ملاقات میں کہا تھا کہ آپ فوری طور پر ایران سے تعلقات کو اس اسٹرٹیجک سطح پر لے جائیں ورنہ امریکہ آپ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرے گا۔ پاکستان نے شام کے معاملہ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور ایران کے خلاف اپنے علاقے سے کسی بڑی کارروائی کی اجازت نہیں دی اور پڑوسی کا حق ادا کیا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ ایران کو اب امریکہ کے جھانسے میں نہیں آنا چاہئے۔

میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان نے کبھی سعودی درخواست کو قبول نہیں کیا جو ایٹم بم سے متعلق ہو۔ اگرچہ سعودیوں کا خیال تھا جیسا کہ شاہ عبداللہ نے 2010ء میں پاکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین جنرل احسان الحق سے گفتگو میں پاکستان کو اپنی زمینی گہرائی قرار دیا تھا اور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اپنے یہاں مہمان کے طور پر رکھا تھا مگر اِس کے باوجود پاکستان سعودی عرب کو ایٹم بم فراہم نہیں کر سکتا۔

البتہ پاکستان کو یہ حق ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران دونوں کو ایٹمی چھتری فراہم کرے کہ اسرائیل اُن پر حملہ آور نہ ہو مگر امریکہ نے اپنا شیطانی کھیل شروع کردیا ہے جس سے ایران کو بچنا چاہئے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب میں زرداری دور میں تعلقات میں سردمہری ہوگئی تھی وہ تاحال جاری ہے اور عام خیال ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سعودی فرماں روا کی ملاقات متاثر کن نہیں تھی نہ اس میں وہ پہلے جیسی گرم جوشی تھی اور نہ کسی مدد کی اطلاع۔ اس لئے ہم کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ ایک بڑی سازش ہے اور ایران اور پاکستان کو اِس سازش کو بے اثر کردینا چاہئے۔ ایران نے اتنی قربانیاں دی ہیں تو تھوڑا اور صبر کرلے،نتائج اُن کے حق میں نکلیں گے۔ 2003ء میں مرزا جنرل اسلم بیگ نے کراچی میں Greater Middle East کے عنوان سے ایک سیمینار میں کہا تھا کہ امریکہ یہ سازش کررہا ہے کہ شیعہ اور سنی ملکوں کے درمیان جنگ کرائے، وہ سازش اب روبہ عمل لائی جارہی ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی انتہائی کوشش کی گئی اور سعودی عرب کو ڈرایا گیا کہ ایران خلیج میں بالادستی چاہتا ہے جبکہ ایسی کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی مگر امریکہ اور مغرب اس پر مصر ہے کہ دونوں ممالک تصادم کی انتہائی سطح پر آجائیں جس کو ایران اور سعودی عرب کو ناکام بنا دینا چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں