اللہ میڈ یا سیلف میڈ

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

’’آپ نے مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکتے لوگوں کو اُمید کی کرن دکھا کر بہت اچھا کیا، لیکن ناکامیوں کا پُل صراط عبور کر کے کامیابی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے افراد کی تمام مثالیں آپ نے متمدن معاشروں سے مستعار لیں۔وہاں ترقی کے یکساں مواقع دستیاب ہیں اس لئے کوئی بھی اپنی محنت،اخلاص اور بصیرت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کا خواب دیکھ سکتا ہے مگر ہمارا معاشرہ بانجھ ہوچلا،یہاں جائز طریقے سے دولت،شہرت یا منصب حاصل نہیں کیا جا سکتا‘‘ میرے گزشتہ کالم پر قارئین کا جو ردعمل آیا،اس کا خلاصہ میں نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں ترقی کے مواقع مفقود اور آگے بڑھنے کی امیدیں موہوم ہیں مگر میں نے اس ملک میں بس پر کنڈیکٹری اور ٹرک پر کلینری کرنے والوں کو قومی سیاستدان بنتے دیکھا ہے،میں نے ایک میٹر ریڈر کو اپنی جدوجہد کے بل بوتے پر قومی اسمبلی کے ایوان میں ممتاز سیاستدان کے طور پر داخل ہوتے دیکھا ہے، میں ایسے افراد سے واقف ہوں جنہوں نے دال چاول کی ریڑھی لگا کر کاروبار شروع کیا اور فوڈ چین بنا کر ارب پتی ہو گئے، یہ لوگ کون ہیں اور انہوں نے کیسے کامیابی کا سفر طے کیا،یہ روداد سننے سے پہلے آپ اپنی یادداشت پر زور دیں کہ گزشتہ چند سال کے دوران کتنے ہی ایسے طالبعلم ابھر کر سامنے آئے کہ جب تعلیمی بورڈز نے پوزیشن ہولڈرز کی حیثیت سے ان کے نام ظاہر کئے تو کوئی تندور پر روٹیاں لگا رہا تھا،کوئی ٹائر شاپ پر پنکچر لگا رہا تھا اور کوئی شہر میں چنگ چی رکشہ چلا کر مزدوری کر رہا تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بغیر محنت کیئے راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھتے ہیں اور جب کچھ نہیں بن پاتا تو قسمت کی ستم ظریفی پر نوحہ گری شروع کر دیتے ہیں یا پھر نظام کو کوسنے دینے لگتے ہیں۔آپ نے تحریک استقلال کے رہنما رحمت اللہ وِردگ کا نام سنا ہو گا،مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ِوردگ صاحب مڈل پاس ہیں اور مال مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ضلع اٹک کے گائوں ’’ویسا‘‘کے سرکاری اسکول کی فیس ایک آنہ ہوتی تھی ،مگر وہ ادا کرنے کی استطاعت بھی نہ تھی چنانچہ پہلے بس میں کنڈیکٹری کی اور پھر ٹرک میں 30روپے ماہوار پر کلینری کرتے رہے۔ان کا ایک دوست شاد محمد جو برطانیہ میں تھا اس نے 28000روپے اس شرط پر ادھار دیئے کہ کوئی کاروبار کرو،اگر کام چل پڑے تو لوٹا دینا ورنہ میں واپسی کا تقاضا نہیں کروں گا۔اس وقت نئے ٹرک کی قیمت 32ہزار روپے تھی۔رحمت اللہ وردگ نے مزید پیسے ملا کر اپنا ٹرک خرید لیا۔کام چل نکلا تو گوجرانوالہ سے بسیں تیار کرا کے کراچی بیچنا شروع کر دیں اور آج وہ اپنے اس قرض خواہ دوست جو برٹش نیشنلٹی ہولڈر ہے،اس کے مقابلے میں زیادہ امیر ہیں۔میں نے پوچھا ،وردگ صاحب کوئی ایک خوبی جو اگر آپ میں نہ ہوتی تو آپ آج بھی اٹک سے راولپنڈی جانے والی کسی بس کے ڈرائیور ہوتے ؟؟انہوں نے کہا،اگر میں بے ایمانی کے راستے پر چل پڑتا تو آج بھی ایک ایک روپے کیلئے رسوا ہو رہا ہوتا۔میرے دوست نے مجھے جو28 ہزار روپے دیئے،اگر میں چاہتا تو ایک سال بعد وہ رقم باآسانی لوٹا دیتا لیکن میرے خیال میں یہ بد دیانتی ہوتی۔میں نے اپنے دوست کو کاروبار میں شراکت دار بنانے کا فیصلہ کیا۔ آج چالیس سال بعد بھی یہ شراکت داری قائم و دائم ہے اور تمام کاروباری منصوبوں میں سے آدھا منافع میرے اس دوست کو جاتا ہے۔

ایک اور سیاستدان بھی ہیں جنہیں آپ خورشید شاہ کے نام سے جانتے ہیں، یہ کسی زمانے میں واپڈا میں میٹر ریڈر کی ملازمت کیاکرتے تھے مگر اپنی محنت کے بل بوتے پر آج قائد حزب اختلاف ہیں۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے والد فوج میں حوالدار تھے اور ایک عام فوجی کے معاشی حالات کیسے ہوتے ہیں ،یہ بات سب کو معلوم ہے۔مگر جنرل کیانی نے غربت کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے طاقت بنانے کافیصلہ کیا اور عساکر پاکستان کے سربراہ بننے میں کامیاب ہوئے۔میاں اسلم 2004ء کے انتخابات میں اسلام آباد سے رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو اثاثوں کے اعتبار سے خورشید قصوری،جہانگیر ترین اور چوہدری شجاعت کے بعد چوتھے امیر ترین ایم این اے تھے۔پولٹری کے کاروبار سے وابستہ میاں اسلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برائیلر کے لئے پاکستان کے پولٹری فارمز میں جتنے چوزے ہیں ،ان میں سے ہر چوتھا چوزہ ان کے ہاں تیار ہوتا ہے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کام کا آغاز کیا تو انکے پاس صرف محنت،اخلاص اور بصیرت کا سرمایہ تھا جو انہوں نے لگا دیا اور نتائج آپ کے سامنے ہیں۔اگر آپ اسلام آباد میں رہتے ہیں،یا زندگی میں کبھی اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک مشور فوڈ چین سے مزیدار پلائو نہ کھایا ہو۔ اس فوڈ چین کے مالک حاجی ندیم کے والد جنہوں نے اس کاروبار کی بنیاد رکھی ،پہلے دال چاول کی ریڑھی لگایا کرتے تھے اور پھر کالج روڈ راولپنڈی میں ایک چھوٹی سی دکان بنائی جو ریسٹورنٹ میں بدل گئی۔ گوجرانوالہ میں ٹیوب لائٹس کی ایک فیکٹری کا نام گونجتا ہے اس کے بانی رانا جاوید اقبال نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کرنے کے بعد ملازمت کے لیئے دھکے کھانے کے بجائے ٹیوب لائٹس کی چوکیں بنا کر بیچنا شروع کر دیں، شروع کے دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے فیصل آباد جاکر بازار میں الیکٹرک اسٹورز پر مارکیٹنگ کیا کرتے تھے۔سیالکوٹ میں پروفیسر امین جاوید مرحوم کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔موصوف معلم تھے تو کاروبار کے طور پر جانوروں کی کھالیں خریدنا شروع کر دیں۔بائیسکل پر جا کر خرید و فروخت کیا کرتے۔پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بحیثیت صنعتکار ان کو عالمی شہرت حاصل ہوئی، ان کے تیار کردہ فٹبال فیفا ورلڈ کپ میں استعمال کئے گئے، آج بھی کھیلوں کی مصنوعات تیار کرنے میں ان کو سبقت حاصل ہے ۔

یہ تو محض چند مثالیں ہیں ورنہ یہاں بھی ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانے والے مردان ِجری بہت ہیں۔یہ سب سیلف میڈ لوگ ہیں ،جنہوں نے غربت و تنگدستی کو اپنے پیروں کی زنجیر نہیں بننے دیا اور اپنی دنیا آپ پیدا کی۔ ہم اپنی ناکامیوں کے زخم مندمل نہیں ہونے دیتے اور خود اذیتی کی چاہ میں اسے کریدتے رہتے ہیں تاکہ اپنی کام چوری پر بد قسمتی کا پردہ ڈال سکیں۔ہم اس لئے کامیاب نہیں ہوتے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں جو ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ،جو کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اس لئے کامیابی پر سیلف میڈ کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے بلکہ ا یسے افراد کو اللہ میڈ کہا جائے۔ اگر سب اچھا بُرا اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے، انسان مجبور محض ہے تو پھر سزا اور جزا کیسی؟؟اگر سب لوگ اللہ میڈ ہیں تو دو وقت کی روٹی کے لیئے انسان ہلکان کیوں ہوا پھرتا ہے؟ اس لئے کہ اللہ نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں شعور کی دولت دی اور اس کائنات کو چلانے کے لئے ضابطے متعین کر دیئے، جو ان متعین اصولوں کے مطابق چلتا ہے وہ کامیاب ٹھہرتا ہے۔دنیاوی کامیابی کے لئے کافروں اور مسلمانوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ،محنت ،خلوص اور بصیرت۔آپ اللہ میڈ تو پہلے سے ہی ہیں، کہ دنیا بھر کے انسانوں کا خالق وہی ہے مگر اس سے آگے سیلف سروس ہے، سب کے سامنے کھلا میدان ہے۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے کہ اللہ میڈ ہی رہنا ہے یا سیلف میڈ بننا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size