اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا!

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

جب راولپنڈی کے راجہ بازار میں واقع مدرسہ تعلیم القران شعلوں کی نذر ہوگیا اور فائرنگ سے گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ، جن میں چند ایک کی حالت نازک ہے اور وزیر ِ اعظم نواز شریف نہ ختم ہونے والے غیر ملکی دوروں میں سے ایک سے مختصر سی مدت کیلئے وطن لوٹے تو اُنہیں یکلخت احسا س ہوا کہ مذہبی منافرت کے نعروں سے بھری ہوئی دیواریں اور لائوڈ اسپیکر کا منفی استعمال معاشرے کے لئے خطرناک ہیں۔ جائے حیرت ہے کہ وہ اب حیرت کا اظہار کررہے ہیں! گزشتہ بیس پا پچیس برسوں سے پنجاب کی حکومت نواز شریف اور ان کی جماعت کے پاس ہے۔ اس عرصے کے دوران فرقہ واریت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ بعض شدت پسند مولویوں کے ہاتھوں میں لائوڈ اسپیکر ایک نہایت مہلک ہتھیار کی صورت اختیار کرچکاہے۔ بات یہ ہے کہ جب آپ دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں سے سیاسی قوت حاصل کریں اور اس کھیل میں دفاعی اور خفیہ ادارے بھی انہی عناصر کی سرپرستی کریں تو پھر لائوڈ اسپیکر،جوکچھ شدت پسند خطیبوں کا من پسند کھلونا ہے، جیسی چیزوں کو کیونکر کنٹرول کر سکتے ہیں؟

یہ 1993اور اس کے بعد کے کچھ سال تھے جب اُس وقت کے وزیر ِ اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو نے ایک انتظامی حکم کے تحت اذان اورجمعہ کے خطبے کے علاوہ لائوڈ اسپیکر کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا اور اُنھوں نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ اس حکم پر عمل درآمد ہو حالانکہ اُس وقت ان کی سیاسی پوزیشن بہت مستحکم نہیں تھی کیونکہ وہ ایک مخلوط حکومت کے سربراہ تھے ۔ تاہم جب 1997 میں شریف برادران اقتدار میں آئے اور جب جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو شدت پسند مولوی اور انکے لائوڈاسپیکر بے مہار ہوگئے۔ لائوڈ اسپیکروں کے کان کے پردے پھاڑ دینے والے بہیمانہ شور کی اذیت کا اندازہ لگانا ہو تو علی الصباح اٹھیں اور دیکھیں کہ اُس مسحور کن سہانے وقت کے ملکوتی حسن، جبکہ عروس ِ شب دبے پائوں رخصت ہورہی ہوتی ہے اور سیاہ تار افق پر نور ِسحر جلوہ فگن ہونے کو ہوتا ہے، تو ہر طرف سے بپا ہونے والا شور ِ قیامت کس طرح مجروح کر دیتا ہے۔ یہ شور اس قدر ہوتا ہے کہ اگر منگول فوج کے دستے بھی سن لیں تو ڈر کے مارے بھاگ نکلیں۔ اس دھماچوکڑی کے ہوتے ہوئے کیسی نسیم صبح ، کیسامطلع ِ تاباں اور کون سے گلُوں کی سرگوشیاں ؟

اس خواہش کو عملی جامہ پہنانا ناممکنات میں سے نظر آتا ہے کہ اس شور پر کچھ قدغنیں لگائی جائیں۔ مثالی صورت ِ تو یہ ہونی چاہئےکہ لائوڈ اسپیکر کی آواز کم ہواور اذان مترنم اور دلنشین لہجے میں دی جائے تاکہ سننے والے کو اچھی لگے، لیکن ایک ایسے ملک میں، جہاں نہ ٹریفک آپ کے قابو میں ہو، نہ آپ پریشر ہارن کا استعمال روک سکیں توبھلا شدت پسند مولوی اس عاجزانہ سی درخواست کو کس طرح خاطر میں لاتے ہوئے اپنے اہم ترین ہتھیار سے دست کش ہوجائینگے؟ ایک اور بات، انکا ’’مینڈیٹ‘‘ صرف اذان دینے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کے بعد انہوں نے کچھ خطاب کرناہے، اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا یہاں تک کہ نبض ِ ہستی تھمتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ اس دوران شاید وہ مسجد میں اسپیکرکے والیم کو ایک درجہ بھی کم کرنے کو گناہ ِ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ کیا اس پر پابندی نہیں ہونی چاہیے؟ اگر مخلوط حکومت میں منظور وٹو ایسا کرسکتے ہیں تو یہ بھاری بھرکم مینڈیٹ والے حکمران کیوں نہیں؟ تاہم ، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، یہ حکومت صرف لاف زنی کرسکتی ہے، اس سے عملی کارکردگی کی توقع عبث ہے۔

جب میں یہ کالم لکھ رہا تھا تو میری نظر ایک اخبار کے ادارئیے پر پڑی۔ اس کے مطابق ملک کے ز ِ مبادلہ کے ذخائر میں ہوشربا حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق اس موسم ِ سرما میں عوام کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرہم ان گمبھیر مسائل سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں باصلاحیت قیادت اور مہارت کی ضرورت ہے لیکن افسوس، اس نازک ترین دور میں ملک کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے۔ اس وقت حکومت کی اکمل ترین صفات میں لاف زنی اور دھماکہ خیز بیانات دینا یا بیرونی ممالک کے پے درپے دورے کرنا شامل ہیں۔ وزیر ِ داخلہ نثار علی خان عملی طور پر ڈپٹی وزیر ِ اعظم کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے معاملات کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ ایک سوچ دل میں جاگزیں ہے کہ جب ایک شخص، سکندر اپنی بیوی کے ساتھ دو بندوقیں لے کر پورے اسلام آباد کو پانچ چھ گھنٹے کے لئے یرغمال بنا سکتا ہے اور پھر وزارت ِ داخلہ کئی دن تک یہ وضاحتیں کرنے میں مصروف رہتی ہے کہ اُس معاملے کو نہایت احسن طریقے سے نمٹایا گیا جبکہ لوگ ان کی باتیں سن سن کر ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہورہے تھے ، تو پھر یہ حکومت اور اس کی نااہل انتظامیہ دس محرم کو راولپنڈی میں پیش آنے والے سنگین واقعہ سے کیسے نمٹ سکتی ہے؟دوسری طرف نواز شریف کے اتحادیوں میں سے ایک پروفیسر ساجد میر، جو خود بھی کسی مذہبی جماعت کے سربراہ ہیں، نے مشورہ دیا ہے کہ فرقہ واریت کو کچلنے کے لیے تمام قسم کے مذہبی جلوسوں پر پابندی لگا دی جائے۔ بہت اچھے!اس کے بعد پروفیسر صاحب دیکھیں گے کہ ملک میں کیا ہوتا ہے۔بات یہ ہے کہ کئی صدیوں سے عاشورہ کے جلوس کی روایت چلی آ رہی ہے، چنانچہ ان پرپابند ی کا مشورہ دینا معاملات کو مزید خراب کرنے کے مترادف ہے۔ عاشورہ کا جلوس لندن میں بھی نکلتا ہے اور شہر کے مرکز میں سے گزرتا ہے لیکن برطانوی پولیس اُسے بہت عمدہ طریقے سے کنٹرول کرتی ہے۔

اس وقت ملک کا جو حال ہے ، اس کی بہتری کے لئے ہم کسی معجزے کے ر ونما ہونے کی ہی دعا کرسکتے ہیں لیکن افسوس، ہم عام انسانوں کی دنیا، جو دارالعمل ہے، میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ کیا ہم آفاقی نعروں اور انقلابی تبدیلیوں کی بجائے صرف ایک کام کرلیں... لائوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال پر پابندی لگادیں اور اس کی آواز کو مساجد اور امام بارگاہ سے باہر نہ آنے دیں تو اس گناہ گار کی بات یاد رکھیں کہ ہمارے نصف کے قریب فرقہ واریت کے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ یہ بات طے ہے کہ بعض شدت پسند مولوی دانائی کا سبق نہیں سیکھیں گے.... یہ چیز انکے خمیر میں شامل ہے ہی نہیں .... لیکن ان کے ہاتھ سے نفرت اور عصبیت پھیلانے والا آلہ (لائوڈ اسپیکر) تو چھینا جاسکتا ہے۔ نواب آف کالا باغ ایک سخت گیر منتظم تھے اور ان کی نظر صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان پر رہتی تھی۔ وہ تمام معاملات کو اپنی گرفت میں رکھتے تھے اور جو بھی خرابی بپا ہوتی ، وہ اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے۔ مصطفیٰ کھر بھی ایک مضبوط منتظم تھے۔ ایک مرتبہ لاہور پولیس نے ہڑتال کردی ۔ اس پر کھر صاحب نے ہڑتالیوں سے مذاکرات کرنے کی بجائے سخت ایکشن لینے کی دھمکی ( جیسا کہ تمام پولیس کو معطل کردینا) دے کر ہڑتال ختم کرادی۔ 1970کی دہائی میں وسطی پنجاب میں رسہ گیری(مویشی چرانا) ایک بہت بڑا مسئلۂ تھا اور کسان رسہ گیروں کے خوف سے سہمے رہتے تھے۔ یہ مصطفیٰ کھر تھے جنھوں نے پولیس کو متحرک کرکے رسہ گیری ختم کرائی۔ اس علاقے کے کسی بھی بوڑھے کسان سے پوچھ لیں ، وہ آپ کو کھر صاحب کا احسان بتائے گا۔

جہاں تک پنجاب کے موجودہ وزیر ِ اعلیٰ کاتعلق ہے تو کیاانتظام کے حوالے سے ان کی بھی کوئی وجہ ِ شہرت ہے؟ انھوں نے جو معرکے مارے ہیں وہ کچھ سڑکوں کی تعمیر، میٹرو بس سروس اور مال روڈ پر پھول اُگانے اور کچھ سرکاری افسران کو معطل کرنے کے سوا اور کیا ہیں؟ اب ان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ لائوڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے اپنی اہلیت ثابت کرسکتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے اس اہم ترین مسئلے سے اغماض برتنا ہی پسند کریں گے۔ جہاں وال چاکنگ کا تعلق ہے تو دیواروں پر جلی حروف میں لکھی گئی تحریر صرف فرقہ واریت کے جذبات کی ترجمان ہی نہیں ہوتی۔
بلکہ اس میں بہت سے پوشید ہ امراض کے علاج کی بھی یقین دھانی کرائی گئی ہوتی ہے۔ عامل بابا بھی وہیں موجود ہوتے ہیں اور سیاسی اور کمرشل اشتہارات بھی۔ ہمارے وزیر ِ اعظم ، جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ لندن ان کا دوسرا گھر ہے، اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا کے کسی ملک میں مذہبی منافرت بھری تحریر تو کجا، وال چاکنگ کی مطلق اجازت نہیں ہوتی ہے۔ کیا میاں صاحب نے کبھی لندن کی کسی دیوار پر کچھ لکھا ہوا دیکھا ہے؟تاہم اگر آپ نے وہاں صرف شاپنگ کرنے ہی جانا ہے اور اس تہذیب سے کچھ نہیں سیکھنا تو پھر کیا فائدہ۔ جب ہم وال چاکنگ اور لائوڈ اسپیکر بھی کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں تو پھر طالبان اور دہشت گردی جیسے عقربی خطرات سے نمٹنے کی امید سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

پس ِ تحریر: ہو سکتا ہے کہ ملک سیاسی اور سماجی انحطاط کا شکار ہو اور حالات کی سنگینی مایوسی کے جذبات پیداکرتی ہو لیکن موسیقی کی دنیا میں بہت کچھ ہے جو آپ کی روح کو مسرت و انبساط سے سرشار کرسکتا ہے۔ اگر آپ نے معصومہ انور کو نہیں سنا تو یقین کرلیں کہ آپ ایک بہت عمدہ اور پرجوش آواز سے محروم ہیں۔ کیا آواز پائی ہے اُس نے۔۔۔ شہد کی سی مٹھاس، سمندر کی سی گہرائی اور باد ِ نسیم کی سی روانی سننے والے کو سحر زدہ کرتی ہوئی دل ِ مردہ میں زندگی کا ولولہ پیدا کردیتی ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں سرکاری ٹی وی پر ہمہ وقت حماقتیں جاری رہتی ہیں لیکن پی ٹی وی ہوم پر بدھ کی شام دس بجے نشر ہونے والا پروگرام ’’فردوس ِ گوش‘‘ ، جس کے میزبان فریحہ پرویز اور فہیم مظہر ہیں ، بہت عمدہ ہے۔ یہ دونوں میزبان بھی بہت اچھے گلوکار ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے دل میں ہنگامہ ھائے شوق سرد پڑ گئے ہیں تو معصومہ انور کو سنیں۔ ایک دن میں بے کار چینل گردانی کررہا تھا تو محض اتفاق تھا کہ میں نے معصومہ کوسنا تو مجھے محسوس ہواکہ۔۔۔’’تاب ِ زنجیر ندارد دل ِ دیوانہ ٔ ما۔‘‘

بشکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں