ترکمانستان گیس پائپ لائن

حسن اقبال
حسن اقبال
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ترکمانستان کے ایک ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے مابین اشک آباد میں بدھ کے روز گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں ایک ’’سروس معاہدہ‘‘ پر دستخط ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سروس معاہدے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایڈوائزر، ترکمن گیس سٹیٹ کنسرن، افغان گیس کارپوریشن، انٹرسٹیٹ گیس سسٹمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کارپوریشن (پاکستان) اور گیل لمیٹڈ کمپنی (بھارت) نے دستخط کئے ہیں۔ اس نئے معاہدے کے بعد دستخط کرنے والی ریاستیں جنہوں نے 2010ء میں اس گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کئے تھے ان کے لئے اس پر عملی طور پر آغاز کے لئے جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔ مئی 2012ء میں ترکمانستان کی حکومت پاکستانی کمپنی انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز اور بھارتی کمپنی گیل لمیٹڈ کے ساتھ گیس کی خریدوفروخت کے معاہدے کر چکی ہے۔ جبکہ افغان گیس کمپنی سے ایسا ہی معاہدہ جولائی 2013ء میں طے پا چکا ہے۔ اس معاہدے سے ایک کنسورشیم کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ جس کے تحت رقوم فراہم ہوں گی اور ایک ایسی پائپ لائن کی تعمیر کی جائے گی جس سے 33 ارب کیوبک میٹر گیس سالانہ ان ممالک تک پہنچائی جائے گی۔ اندازے کے مطابق اس پائپ لائن کی لمبائی 1735 کلومیٹر ہو گی۔ اس کا آغاز ترکمانستان کے سب سے بڑے گیس فیلڈ دولت آباد سے ہو گا۔ جہاں سے پائپ لائن افغانستان کے شہروں ہرات اور قندھار سے ہوتی پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں داخل ہو کر پنجاب کے وسطی شہر ملتان کی طرف آئے گی۔ یہاں سے پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقے فاضل کا سے گزر کر بھارت میں داخل ہو کر نئی دہلی تک جائے گی۔ منصوبے کے مطابق اس پائپ لائن کی تعمیر 2017ء تک مکمل ہو گی۔ اس پر لاگت کا تخمینہ 7.6 ارب ڈالر ہے۔

اس منصوبے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1990ء سے دنیا کی مشہور تیل کی کمپنیا ں اس کوشش میں تھیں کہ ترکمانستان کی گیس کو آزاد پائپ لائن کے ذریعے ان علاقوں تک پہنچایا جائے۔ لیکن روس جو کہ ان ممالک کی تمام گیس پائپ لائن کو کنٹرول کر رہا تھا۔ اپنے اس نیٹ ورک کو ان ممالک کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ لہٰذا ان ممالک کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنی پائپ لائن قائم کریں اور روس اور ایران سے ہٹ کر گیس برآمد کریں۔ اس کے بعد اصل میں اس منصوبے کی بنیاد 15 مارچ 1995ء کو رکھی گئی جب پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط ہوئے۔ امریکی کمپنیاں بطور خاص اس منصوبے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے بعدازاں کنسورشیم قائم کر کے معاہدے بھی کئے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان معاہدوں میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ خاص طور پر نیروبی اور دارالسلام کی امریکی ایمبیسی پر حملوں کے بعد ان پروجیکٹس پر کام بند کر دیا گیا۔ 9/11 کے واقعات کے بعد امریکہ کا افغانستان میں اتنی تعداد میں فوجی تعینات کرنا اور اس کے بعد ایک لمبی مدت تک معاہدوں کے ذریعے افغانستان میں فوج رکھنا دراصل دوسرے مفادات کے ساتھ ساتھ ان پائپ لائنوں کے منصوبوں کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ان معاہدوں کی کسی نہ کسی طرح سے تجدید ہوتی رہی۔ لیکن کام کا آغاز نہ ہو سکا۔ اسی دوران پاکستان نے ایک دفعہ اس منصوبے سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اور اپنی پوری توجہ ایران پائپ لائن کی طرف مائل کر دی۔ ایران کی اس پائپ لائن میں بھارت اور بعد میں چین نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس پر معاہدے تکمیل پا گئے۔ حتیٰ کہ ایران نے اپنے علاقے میں پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن تعمیر کر دی۔ لیکن بھارت امریکہ کے دباؤ کے تحت اس معاہدے سے الگ ہو گیا جس سے ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کو شدید جھٹکا لگا۔ لیکن ایران نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی اور معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھا۔ ایران گیس منصوبے سے الگ ہونے پر امریکہ نے بھارت کو سول ایٹمی ٹیکنالوجی دے دی لیکن پاکستان مسلسل توانائی کے بحران سے گزرتا رہا اور آج تک یہ بحران جاری ہے۔

بالآخر پاکستان پر بھی امریکی دباؤ اس قدر بڑھا کہ اب پاکستان بھی عملی طور پر ایران پائپ لائن کے منصوبے سے الگ ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس منصوبے پر اگر عمل کیا جاتا اور کام جاری رکھا جاتا تو 2014ء کے آخر تک پائپ لائن تعمیر کر کے نواب شاہ تک لائی جاتی اور ایرانی گیس پاکستان کے بڑے نیٹ ورک میں شامل ہو سکتی تھی۔ لیکن امریکہ کے مسلسل اور شدید دباؤ کے تحت پاکستان کو اس منصوبے کو ترک کرنا پڑا اور بدھ کو ہونے والا نیا معاہدہ کہنے کو تو عملی کام کا آغاز ثابت ہو گا لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس طرح کئی معاہدے ماضی میں طے پانے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس منصوبے میں ایک خاص مشکل پہلو یہ ہے کہ اس پائپ لائن کا تقریباً 700 کلومیٹر کا حصہ افغانستان سے گزرے گا۔ جہاں مجموعی طو رپر امریکی کنٹرول ہے ، جو کہ فی الحال 2024ء تک جاری رہے گا۔ اس طرح پاکستان کی یہ ’’لائف لائن‘‘ بھی امریکی کنٹرول میں ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ اگر وہاں افغانستان کا بھی کنٹرول ہو تو امن و امان کی صورت حال پر قابو رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔ اس طرح ایک قومی اور معاشی اہمیت کا عظیم منصوبہ دوسروں کی مرہون منت رہے گا۔ دوسری طرف اس کے عملدرآمد میں ابھی تک ایک طویل عرصہ درکار ہے۔ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ 2017ء تک یہ منصوبہ مکمل ہونے کی توقع ہے لیکن حالات کے پیش نظر افغانستان میں ان منصوبوں کی تکمیل کے سلسلے میں اس قسم کی منصوبہ بندی کوئی آسان کام نظر نہیں آ رہا۔ اس منصوبے کا ایک مثبت پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ کم از کم توانائی کے حصول کی طرف کوئی عملی قدم آگے بڑھے ہیں۔ ورنہ پچھلی چھ دہائیوں سے اس طرح کے لڑائی جھگڑوں اور معاملوں میں الجھ کر کوئی بھی پیش رفت نہ کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ اس وقت کی بین الاقوامی صورت حال کے مطابق ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان منصوبے کو تیزی سے آگڑے بڑھانے میں ہی دانش مندی ہے تاکہ ایران کی پائپ لائن جو کہ ایک عرصہ سے رکی ہوئی ہے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ اس لئے اگر اس گیس پائپ لائن سے جس قدر تیزی سے گیس میسر آ جائے اس سے توانائی کی کمی کو جلد از جلد پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ پاکستان میں گیس کے استعمال کے لئے بہترین نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے۔ اس میں صنعتی اور گھریلو نیٹ ورک شامل ہے۔ گیس کے استعمال اور مزید پھیلاؤ کے لئے پہلے سے نظام موجود ہے۔ جس کو اندرونی ضروریات کے لئے فوری طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ باہر سے گیس ملنے کی صورت میں کسی نئے نظام کو لانے، بچھانے یا پھیلانے کی فوری طور پر کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر کوئی ایسی پالیسی نہیں اپنائی جا سکتی جس کی تصدیق امریکہ نہ کرے۔ اس کے نتائج سیاسی، معاشی اور جغرافیائی طور پر نہ تو پہلے سودمند ثابت ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ ہوں گے۔ توانائی کے سلسلے میں اب مزید تجربات کی بجائے اس پائپ لائن پر توجہ مرکوز کر کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اگر یہ پائپ لائن مزید تاخیر کا شکار ہوئی تو مستقبل میں خدانخواستہ مزید معاشی نقصانات ہونے کا احتمال ہے۔ اس وقت حالات کی نزاکت کو بہتر طور پر بھانپنے کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں