.

ڈرون ہلاکتیں: متضاد اعداد وشمار کا معمہ

ثروت جمال اصمعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کتنے ہی موضوعات اپنی ساری اہمیت کے باوجود ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ کوئی نیا مسئلہ نیاشوشہ نیا حادثہ یا سانحہ اس کی جگہ لے لیتا ہے اور بات آئی گئی ہوجاتی ہے۔ یہی کچھ محترم وزیر داخلہ کی طرف سے سینیٹ میں ڈرون ہلاکتوں کے پیش کردہ اعداد وشمار کے ساتھ ہوا۔ حالانکہ ڈورن حملوں پر پاکستان کے پورے مقدمے کا تیا پانچہ کردینے والے یہ اعداد وشمار مکمل چھان بین کا تقاضا کرتے تھے۔ خصوصاً اس بناء پر کہ یہ نہ صرف معتبر امریکی تحقیقی اداروں کے اعداد وشمار کے برعکس حیرت انگیز طور پر امریکی خفیہ اداروں اور امریکی حکومت کے دعووں اور ضرورت کے مطابق تھے بلکہ جس وزارت دفاع نے وزیر داخلہ کو یہ معلومات فراہم کی تھیں، اس کے اپنے ذمے داروں نے برملا ان کے ’’غلط اور جعلی‘‘ ہونے کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں درست کرکے دوبارہ وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔ یہ یقین دہانی کہاں گئی، اُن اپوزیشن رہنمائؤں کو بھی اس کی کوئی پروا نہیں جنہوں نے ان اعداد وشمار پر وزیر داخلہ کے خلاف دھواں دھار احتجاجی مہم چلائی تھی ۔ سب کو ’’کون شہید اور کون نہیں‘‘ کا نیا مشغلہ ہاتھ آگیا اور ثواب دارین کمانے کی اس مہم میں سب ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں لگ گئے۔ حالانکہ اس تنازع کا حل اس عامی کی عاجزانہ رائے میں صحیح بخاری کی پہلی حدیث ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ میں موجود ہے جس کا مطلب ہے ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔

اس کے بعد سانحہ راولپنڈی، جنرل مشرف کے خلاف غداری کیس، اور ھنگو میں ڈرون حملہ ، بقول اقبال ’’مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں‘‘ تا ہم ڈرون ہلاکتوں کے متضاد اعداد وشمار کے معاملے کی سنگینی بہرصورت اپنی جگہ برقرار ہے۔ حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملے کی طرح ان اعداد وشمار کے سینیٹ میں پیش کیے جانے کی ٹائمنگ بھی بہت معنی خیز تھی۔ ایک اقدام نے طالبان سے مذاکرات کو سبوتاژ کیا تو دوسرے نے دورہ امریکہ کے دوران وزیر اعظم کی جانب سے ڈرون حملوں کو بڑے پیمانے پر معصوم شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے کے مبنی بر حقیقت موقف کو وطن لوٹتے ہی مشتبہ بنادیا ۔اب تک کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے جب گھر ہی سے یہ گواہی دی جارہی ہو کہ پانچ سال میں 317 ڈرون حملوں میں 2160 دہشت گرد اور صرف67 عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ گزشتہ دوسال میں تو ایک بھی عام شہری ڈرون کا نشانہ نہیں بنا بلکہ صرف دہشت گرد ہی ہلاک ہوئے تو پھر وزیراعظم کے اس موقف کو بھلا کوئی کیوں تسلیم کرے گا کہ ان حملوں میں بے گناہ لوگ بڑے پیمانے پر مارے جارہے ہیں اس لیے انہیں بند کیا جائے ۔ان اعداد و شمار سے تو ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے میں ڈرون حملے نہایت مؤثر کردار ادا کررہے ہیں اس لیے انہیں بند کرنے کے مطالبے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ امریکی خفیہ اداروں کا دعویٰ تو یہی ہے لیکن مستند امریکی تحقیقی ادارے اس کا جواب واضح نفی میں دیتے ہیں۔ محض ایک سال پہلے 25ستمبر 2012ء کو منظر عام پر آنے والی امریکہ کی اسٹینڈفورڈ اور نیویارک یونیورسٹی لاء اسکولز کی ایک تحقیقی رپورٹ میں بھی تسلیم کیا جاچکا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ایک معروف دہشت گرد کے ساتھ49 عام شہری جاں بحق ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کی کسی تحقیق کے بغیر زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنے کے لیے دہرے ڈرون حملوں کی تکنیک اختیار کی جاتی ہے۔ یعنی ایک حملے کے بعد متاثرین کی مدد کو پہنچنے والوں کو دوسرا حملہ کرکے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اس تحقیقی رپورٹ کی خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی تھی:

America's deadly double tap drone attacks are 'killing 49 people for every known terrorist in Pakistan'' ''

یہ رپورٹ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے عینی شاہدین، ان میں بچ جانے والے لوگوں اور متاثرین سے براہ راست انٹرویو کرکے مرتب کی گئی تھی۔اکتوبر 2012ء میں کولمبیا لاء اسکول کے ہیومن رائٹس کلینک نے بھی ’’کاؤنٹنگ ڈرون اسٹرائک ڈیتھس‘‘ کے نام سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں امریکی حکومت اور مختلف اداروں کے جاری کردہ اعداد وشمار کا موازنہ اور جانچ پڑتال کرکے اسٹینفورڈ اور نیویارک یونیورسٹی کی مذکورہ ٔ بالا رپورٹ کو معتبر قرار دیا گیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ آخر پھر ہماری وزارت دفاع نے یہ اعداد وشمار کس بنیاد پر وزیر داخلہ کو فراہم کیے جن کے مطابق پچھلے پانچ برسوں میں ہونیوالے 317ون حملوں میں 2160 دہشت گرد اور صرف 67عام شہری جاں بحق ہوئے جو کل ہلاکتوں کا محض تین فی صد کے قریب بنتا ہے۔ اس سوال کا جواب نیویارک ٹائمز میں29 مئی2012 ء کو’’سیکرٹ کل لسٹ ‘‘ کے نام سے شائع ہونیوالی رپورٹ میں موجود ہے۔اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کے اعداد وشمار میں شہریوں کی ہلاکتوں کا تناسب کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ’’مسٹر اوباما نے ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں دہشت گردوں کا تعین کرنے کے لیے ایسا متنازع طریقہ اختیار کیا ہے جوانہیں بڑی آزادی فراہم کرتا ہے۔اس کے تحت ڈرون حملے کا نشانہ بنائے جانے والے علاقے میں ہلاک ہونے والے اُن تمام مردوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے جو جنگ لڑنے کی قابل عمر کے ہوں سوائے اسکے کہ ان کی موت کے بعد واضح خفیہ معلومات سے انکا معصوم ہونا ثابت ہوجائے۔‘‘ اس مطلب یہ ہے کہ اس طریق کار کے تحت ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے پندرہ بیس سال سے لے کر پچپن ساٹھ سال تک عمر کے تمام مرد کسی ثبوت و شہادت کے بغیر دہشت گرد قرار دیے جاتے ہیں اور بے گناہ شہری صرف بچوں اور عورتوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جس قدر سنگدلانہ اور غیرمنصفانہ ہے وہ محتاج وضاحت نہیں لیکن لگتا ہے کہ ہماری حکومت نے بھی اس طریق کار کو قبول کرلیا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مارچ کے مہینے تک ہماری وزارت دفاع کے اعداد وشمار یہی بتاتے تھے کہ ڈرون ہلاکتوں میں بھاری اکثریت بے گناہ شہریوں کی ہے۔ آخر چھ ماہ میں یہ کایاپلٹ کیسے ہوگئی کہ مرنے والوں میں معصوم لوگوں کا تناسب جسے امریکی ادارے 98 فی صد بتارہے ہیں، ہمارے اعتراف کی رو سے صرف3فی صد رہ گیا؟ آخر ہمارے وزیر داخلہ نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ جیسے بین الاقوامی اداروں کی پاکستان کے اب تک کے موقف کی مکمل تائید کرنے والی رپورٹوں کو جو وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے موقع پر ہماری پوزیشن کو مضبوط کرنے کا سبب بنیں، یکایک ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کے قطعی ناقابل اعتبار اعداد و شمار کو گلے لگانے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ وزیر داخلہ اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود اس موقف پر ڈٹے کیوں رہے؟ وزارت دفاع نے سینیٹ کے لیے پیش کیے جانے والے اعداد وشمار کو غلط اور جعلی تسلیم کرنے کے باوجوددرست اعداد وشمار سامنے لانے کا وعدہ کیوں پورا نہیں کیا؟ اپوزیشن کے رہنمادرست اعداد وشمار کو منظر عام پر لانے کے مطالبے سے دستبردار کیوں ہوگئے؟ اور خود وزیر اعظم اقوام متحدہ اور دورہ امریکہ میں ڈرون حملوں کے مقدمے کو شاندار طریقے سے پیش کرنے کے بعد اپنی ساری کوششوں کو برباد کردینے والے اس خودکش حملے پر خاموش کیوں ہیں؟ پاکستانی قوم کو بہت سے دوسرے سوالوں کی طرح ان سوالوں کا جواب بھی شاید کبھی نہیں مل سکے گا اور ڈرون ہلاکتوں کے متضاد اعداد وشمار کا یہ معمہ بھی ہمیشہ معمہ ہی بنارہے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.