.

ایران اور امریکی ایٹمی معاہدہ؟

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی برسوں سے جاری امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات بالآخر کامیاب ہو گئے ہیں۔ اِن مذاکرات کو کامیاب بنانے یا گفتگوکاری کا کام امریکی والدین کی ایرانی نژاد خاتون ولیری جیریٹ نے جو اوباما کی مشیر خاص اور انکی دوست ہیں کیا، اُن کے ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ علی اکبر صالحی مذاکرات کرتے رہے۔

اگرچہ وائٹ ہائوس کے ترجمان’ برناڈیتے میہان‘ نے اسرائیلی اخبار ہاریٹس (Haaretz) پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا ہے کہ مذاکرات کئی برسوں سے جاری تھے مگر انکی بات پر کون یقین کریگا کیونکہ ایٹمی پروگرام پر گفتگو چشم زدن میں تو نہیں ہوسکتی۔ 8 نومبر 2013ء سے جنیوا میں جو مذاکرات شروع ہوئے جنہیں P5+1 مذاکرات کہا جاتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ ایران سے چھ ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی ایران کے ایٹمی پروگرام پر گفتگو کررہے ہیں۔

وہ بہرحال کسی نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے معاہدہ کے مطابق ایران کا ایٹمی پروگرام منجمد کردیا ہے اور اُس کے پروگرام کو واپسی کے سفر کی طرف راغب کردیا ہے لیکن ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ ایران یکسر منجمدی پر راضی ہوجائے اور اپنے ایٹمی پروگرام سے تائب ہوجائے ، یہ قرین قیاس بات نہیں ہے جو بات ممکن ہے وہ یہ کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے کچھ اجزاء ضرور منجمد کردے اور واپسی کے سفر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ اس نے 34برسوں تک دبائو سہا ہو۔ امریکہ اور دوسرے چار ممالک نے جو معاہدہ کا ڈرافٹ تیار کیا ہے اس کا اس پر جو خبریں نکلی ہیں اُس کے مطابق ایران کو درمیانے درجے یعنی 20 فیصد کی افزودگی کی اجازت ہوگی یعنی بم گریڈ کے قریب قریب وہ یورینیم افزودہ کر سکتا ہے مگر وہ اسلحہ نہیں بنا سکتا۔

اسکے علاوہ ایران نے جتنی افزودگی اب تک کرلی ہے۔ معاہدے کی رو سے وہ مزید یورینیم افزودگی کے عمل کو روک دے گا اور اُن کے اسٹاک عالمی اداروں کو معائنے کیلئے دستیاب ہوں گے۔ امریکی ماہر’ اولی ہی نونین‘ سابق چیف انسپکٹر آف اٹامک انرجی کمیشن نے یہ اعتراض کیا کہ اگر معاہدے میں یہ طے ہوگیا ہے تو پھر یہ معاملہ کسی وقت بھی پلٹ سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے کے بعد اگر اُس کو تیل بیچنے کی اجازت مل جاتی ہے تو ایران کی افزودگی کا پروگرام نہیں رُکے گا۔ اس لئے امریکی ماہر کے مطابق اسرائیلی موقف درست ہے کہ یہ بہت بڑی غلطی ہو گی۔

اسرائیل کے اسٹرٹیجک امور کے وزیر’ یوول اسٹینیزنس‘ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو ایران کو موجودہ پابندیوں سے 100 بلین ڈالر سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ اِس کی بجائے اب 80 بلین ڈالرز کا نقصان ہوگا اور اس کے علاوہ اس کو 40 بلین ڈالرز کی اِن ڈائریکٹ نقصانات سے نجات ملے گی۔ مگر امریکی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدہ سے ایران کو صرف 10 فیصد کی راحت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ارک شہر کے قریب زیرتعمیر ہیوی واٹر ایٹمی ری ایکٹر کا کیا بنے گا وہ کس کھاتے میں جائے گا۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران یہ سہولت تیار کرلیتا ہے تو وہ پلوٹونیم بنانے کے قریب ترین مقام پر پہنچ جائے گا۔ فرانس صرف 20 روز پہلے اِس گفتگو کاری میں شریک ہوا اور اُس کو یہ شکایت ہے کہ اگر ایران اِس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس پر حملہ بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے تابکاری پھیلے گی مگر اس کے بعد معاہدہ میں کچھ تبدیلی کی گئی اور اس بنیاد پر کی گئی کہ ایران ری ایکٹر میں فیول ڈالنے میں کوئی سال بھر لگے گا۔

اس لئے امریکہ اور مغرب کے پاس کافی وقت ہو گا کہ وہ اس دوران ایران اگر ایٹمی اسلحہ بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کرڈالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ایسا نتیجہ چاہتے ہیں جیسا کہ لیبیا کے معاملہ میں ہوا کہ اس نے سارا ایٹمی مواد ایٹمی ادارے کے حوالے کر دیا وہ ایسا نتیجہ نہیں چاہتے جیسا کہ شمالی کوریا کے معاملے میں ہوا۔ تاہم اگر ہم صورتِ حال کا عمیق نظروں سے جائزہ لیں تو ایرانی ایٹمی پروگرام میں اتنی دور آنے کے بعد کیسے واپسی کا سفر شروع کرسکتا ہے، مصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ یورونیم کی20فیصدافزودگی کی صلاحیت تو پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں، یہ معاہدہ ان کو مزید 3.5فیصد افزودگی کی اجازت دیدیگا جو بالآخر اس کو ایک ایٹمی ملک بنادے گا ، اس پر 2012 میں ایک کتابNuclear Iranکے عنوان سے کتاب شائع ہوچکی ہے جسکو ایک صحافی’ ڈیوڈ کراکوس‘ جو فنانشل ٹائمز اور گارجین کیلئے لکھتے ہیں ۔ اسرائیلیوں کو یہ بھی شکایت ہے جو انہوں نے اپنے ٹی وی چینل 10 پر کی کہ ایران کے ساتھ امریکہ خفیہ مذاکرات کرتا رہا، مگر اسرائیل کو اس کے بارے میں مکمل اعتماد میں نہیں لیا۔ جیورا ایلنیڈ جو انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز تل ابیب میں ایک ریسرچ اسکالر ہیں، کا کہنا ہے کہ صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے اور اِس بات کو سوائے اسرائیل کے سب سمجھنے لگتے ہیں اور اسرائیل کو بھی اِس سلسلے میں لچکدار رویہ اختیار کرنا چاہئے۔

امریکی اِس کو ایک ’’مناسب معاہدہ‘‘ قرار دے رہے ہیں کیونکہ کسی معاہدہ کے ہونے سے کوئی مناسب معاہدہ ہونا بہتر ہے، مگر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل کے نقطہ نظر سے ایران کے ساتھ ایک اچھے معاہدہ کے خواہش مند ہیں۔ وہ امریکہ کے اس معاہدہ پر کڑی تنقید کررہے ہیں، انکی تنقید میں اسوقت سے سختی آگئی جب سے امریکی صدر بارک حسین اوباما نے انکے ساتھ ایک گھنٹے تک ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دوسری طرف ایرانی حکام امریکہ سے معاہدہ کو قومی مفاد میں سمجھتے ہیں۔ ایک صحافی جیسمن رضائین کا تہران سے کہنا ہے کہ ایران میں اِس معاہدہ پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ معاہدہ قومی مفاد میں ہے اور موجودہ ایرانی ’صلح جو‘ صدر حسن روحانی نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایران کو نئی شکل میں پیش کیا ہے اور ایران کی 34 سالہ دشمنی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی طاقتوں نے بھی حسن روحانی کی ٹیم کی پذیرائی اس طرح کی کہ سختی کی بجائے نرمی کا مظاہرہ کیا،جس کے بعد کچھ لے اور کچھ دے کے اصول پر معاہدہ کا ڈرافٹ تیار ہوا ، اور معاہدہ ہوجانے کی امید بندھ چلی ہے۔ اگرچہ ایران کے کئی اہم لوگ اس پر معترض ہیں کہ امریکہ سے خیر کی امید نہیں وہ مسلمانوں کا پہلے نمبر کا دشمن ہے۔ یہ بات آیت اللہ احمد عالم الحدی کو مشہد میں جمعہ کے خطبہ میں کہتے سنا گیا۔ لگتا ہے کہ ایران میں بحث آخرکار اس بات پر جا کر ٹھہرے گی کہ آیا ایران کو امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہئے یا نہیں۔ ایران میں امریکی دشمنی بہت گہری جڑ پڑ چکی ہے اور اُس سے اگر مفر کیا گیا تو امکان یہ ہے کہ وہاں معاملات بگڑ جائیں اور امریکہ اس موقع کا فائدہ اٹھائے اور ایران میں انتشار کو ہوا دے ۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ ایرانی امریکہ کو شیطان بزرگ کہتے کہتے تھک گئے ہوں اور امریکہ سے دوستی کی سخت ضرورت محسوس کرتے ہوں، یا پھر ولایت فقیہہ کے نظریہ سے تنگ آگئے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ حالات بدل گئے ہیں۔

وہ کیا حالات ہیں کہ بدل گئے ہیں۔ کیا سعودی عرب بگڑ گیا ہے یا روس نے امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں یا پاکستان کا کھیل کی تبدیلی کا نعرہ اور معاشی کوریڈور کی بات کی وجہ سے ایسا ہوا یا امریکہ ’’ایشیا بحرالکاہل‘‘ منصوبہ میں رکاوٹ محسوس کررہا ہے اور ایران کی مدد کا خواہاں ہے تاکہ وہ بھارت اور ایران کے ساتھ مل کر کھیل کی تبدیلی کے منظرنامہ کو بننے سے روکے، ایران سے یہ امید تو نہیں کہ امریکی کھیل کا مہرہ بنے گاکیونکہ انہوں نے امریکہ کا 34سال جوانمردی سے مقابلہ کیا، مگر پھر کسی نے اسکا ساتھ بھی تو نہیں دیا، اسلئے وہ اپنے مفاد میں امریکہ کے رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جائے، اس پر انکو دشنام تو نہیں دیا جا سکتا!

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.