.

کیا دولت خوشی دیتی ہے؟

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا پیسے سے خوشی خریدی جا سکتی ہے؟ عرصۂ دراز سے اس سوال کا جواب نہیں ملا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، جب میں کراچی سے شائع ہونے والے ایک ہفتہ روزہ انگریزی اخبار کی ایڈیٹنگ کرتی تھی تو ایک دن میں نے اپنے ایڈیٹر سے پوچھا کیا میں ایسی سیریز شروع کرسکتی ہوں جس میں صرف قارئین کے تبصرے شائع ہوں۔

اس کے بعد یوں ہوا یہ اخبار کا سب سے پسندیدہ سلسلہ بن گیا۔ میں جس موضو ع کا انتخاب کرتی، قارئین اُس پر اپنی رائے بھیجتے۔ یہ ایک اچھا سلسلہ تھا کیونکہ اس میں قارئین کی ایک بڑی تعداد، جن کی میڈیا تک رسائی نہیں ہوتی ہے، اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی تھی۔ عام طور پر ہم کالم نگار خود کو بہت بڑے دانشور خیال کرتے ہوئے عوام کو دانائی سکھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر آپ عوام کی آراء پڑھیں تو اندازہ ہو کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قارئین کی رائے پڑھ کر میرے خیالات میں وسعت پیدا ہوئی ۔اس کاوش کا سب سے زیادہ فائدہ یہ ہوا کہ عوامی دانش نے مجھے عاجزی کی روش سکھا دی۔

ایک مرتبہ میں نے اپنے قارئین سے پوچھا تھا کہ کیا دولت خوش خرید سکتی ہے؟اس سوال کا جواب کچھ کہانیاں دے سکتی ہیں۔ پاکستان سے لے کر امریکہ تک، اخبار ات کی ہیڈ لائنز یہی کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں کہ وہ دولت جو حکمران اکٹھی کرتے ہیں، وہ تعفن زدہ ہو جاتی ہے۔ چاہے یہ سوئس اکاؤنٹس کے کیسز ہوں یا فوزیہ گیلانی کی لندن کے مشہور سٹور Harrods سے ’’خریداری ‘‘ کی کہانی ہو یا موسی گیلانی کا ایفی ڈرائن کا کیس ہو،کہیں سے خیر کی خبر نہیںآتی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کا ’’ایمننٹ پرسز گروپ‘‘(Eminent Persons Group) ، جسے ایک مشہور فن کارAlbrecht Muth نے نیویارک میں قائم کیا تھا، سے کوئی تعلق بنتا ہو، سب میں کوئی نہ کوئی کہانی نکلتی ہے۔ چاہے لمز اپنے کسی ڈپارٹمنٹ کو بطور برانڈ پیش کرے یا ٹیٹرا پیک کے ارب پتی مالک ہنز روزنگ (Hans Rausing) کے نام پر لاہور میں کوئی ایگزیکٹو ڈولپمنٹ سنٹر قائم کر لیا جائے، ان تمام افراد کے مالک خوشگوار زندگی بسر نہیں کرتے ہیں۔

آج اینٹی نیٹو اور اینٹی ڈرون نعروں سے سیاسی فضا کو گرمانے والے عمران خان کی دولت سے محبت کی کہانی بہت پرانی ہے۔ دراصل کرکٹر عمران کونوے کی دھائی میں زبردست شہرت حاصل تھی۔ اُس وقت Muth کی کہانی بھی خبروں میں تھی۔ اس پر اپنی بیوری ویلا ڈراتھ (Viola Drath) کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ وہ بہت بڑی جائیداد کی مالک تھی اور عمر میں اپنے شوہر سے چوالیس سال بڑی تھی۔ ان کا گھر واشنگٹن ڈی سی میں تھا جہاں عالمی شہرت یافتہ شخصیات، جیسا اسٹیٹ ڈپارمنٹ کے افسران، سپریم کورٹ کے جج حضرات، سفارت کار اوبنکوں کے سربراہان وغیرہ۔ دیگر مہمانوں میں ڈک چینی اور این پیٹرسن بھی نظر آتی تھیں۔ اپنی شہرت سے فائدہ اٹھا کر Muth نے’’ ایمننٹ پرسن گروپ‘‘ قائم کیا۔ اس میں عمران خان سمیت بہت سے ارب پتی افرا د شامل تھے۔ اس کے بعد کہانی میں ڈرامائی موڑ آتا ہے ۔ اس کے بعد Muth پر اپنی اکانوے سالہ بیوی کو قتل کرنے کا الزام لگا۔ اس کہانی میں بہت سی کہانیاں ہیں ، لیکن وہ پھر کبھی سہی۔ بات کہنے کی یہ ہے کہ اتنا امیر اورمشہور شخص کس انجام سے دوچار ہوا۔ دولت اُسے ہرگز خوش نہ کرسکی۔

پاکستان میں ٹیٹرا پیک کا نام ہر گھر میں جانا جاتا ہے۔ا س کے پیچھے سید بابر علی کی ذہانت اور کاوش کارفرما ہے۔ اسے پاکستان میں ٹیٹرا پیک فوڈ کے مالک ہنز روزنگ کے تعاون سے 1982 میں پاکستان میں متعارف کرایا گیا۔ سات سال بعد لمز میں ’’روزنگ ایگزیکٹو ڈولپمنٹ سنٹر‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس میں بہت سے طلبہ بزنس کی تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ہنز روزنگ کے بیٹے Kristian اور اس کی امریکی بیوی ایوا کی خبر گزشتہ سال میڈیا کی زینت بنی جب ایوا کی لاش کوڑا ڈالنے والے بیگ سے برآمد ہوئی۔ اگرچہ یہ جوڑا براہ راست ٹیٹرا پیک بزنس سے وابستہ نہیں تھا لیکن اس کے مالک کے خاندان تھا۔ انھوں نے منشیات کے خاتمے کے لیے کئی ملین ڈالرز عطیات بھی دیے ہیں لیکن ایوا کو منشیات کی عادت نے ہی اس انجام تک پہنچایا۔

ایفی ڈرائن کیس میں ڈاکٹر رشید جمعہ کے نام کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ اس کا نام جمعہ یاددلاتا ہے کہ وہ ایک مشہور برین سرجن کا بیٹا ہے اور ان دونوں باپ بیٹے نے ان گنت جانیں بچائیں ہیں۔ رشید جمعہ نے کوشش کی تھی کہ زرداری حکومت کے دوران وزارتِ صحت کے بگڑے ہوئے معاملات کو سدھارے لیکن اس کے بعد پھر گیلانیوں کی داستان کا حصہ بن گیا۔ اس طرح کی بہت سی کہانیاں ہیں کہ ہمارے سامنے بہت سے افراد انتہائی خوشحال ہوتے ہیں اور ہمیں ان کی زندگی پر رشک آتا ہے لیکن جب ہم ان کی زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دولت محض احساس کا نام ہے۔ ان کے بنک میں بھاری کھاتے ہوتے ہیں، ان کی زندگی پر تعیش ہوتی ہے، رہنے کو عمدہ گھر اور چلانے کے لیے مہنگی ترین گاڑیں ہوتی ہیں لیکن یہ لوگ خوش نہیں ہوتے ہیں۔

دراصل جب دولت جائزذرائع سے کمائی جائے تو اس سے خوشی کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن مسلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جائز ذرائع سے کمائی گئی دولت کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ وہ مزید دولت اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں وہ خوشی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ایک خاص حد سے زیادہ دولت کی فراوانی ہو تو زندگی جوش و جذبے سے تہی داماں ہوجاتی ہے۔ دراصل احتیاج کا تازیانہ انسان کو آمادۂ عمل کرتا ہے اور جب احتیاج نہ رہے تو پھرانسان کی زندگی جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں کراچی میں تھی تو سڑک کے کنارے ایک بوڑھا آدمی خربوزے بیچ رہاتھا۔ اس کے پاس پانچ کا سات کلو خربوزے بچے ہوں گے۔ میں نے پوچھا کہ ان سب خربوزوں کے کتنے پیسے لوگے تو اُس نے تمام خربوزے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔

وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ پھر وہ شام تک کیا کرے گا۔اس کا مطلب ہے کہ خربوزے بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے زیادہ اس کو کام کرنا خوشی دیتا تھا۔ سر فرانسس بیکن کا کہنا ہے …’’معجزات صرف غربت میں ہی ممکن ہیں۔‘‘ یعنی حیران کن کام کرنے والے افراد مالی طور پر غریب ہی ہوتے ہیں۔ چناچہ دنیا کے انسانوں کی اس بنیادپر گروہ بندی نہیں کی جاسکتی کہ وہ دولت میں یا غریب… بلکہ کیا وہ خوش ہیں یا نہیں۔ اگر زندگی کسی مقصد سے خالی ہے تو آپ غریب ہیں، اگر کسی مقصد ک لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے لیے دولت کو اپنا معاون پاتے ہیں تو پھر دولت آپ کو خوشی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ عیش و عشرت میں بسر ہونے والی زندگی خوشی سے خالی ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.