.

آسیہ اندرابی کا انداز فکر

فاروق عادل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اللہ آسیہ اندرابی پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، کیسا انکشاف انھوں نے کردیا ہے۔کہا کہ انھیں پاکستان میں جہاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ اس جال سے بچ نکلیں۔آسیہ اندرابی مقبوضہ کشمیر کی دختران ملت نامی تنظیم کی سربراہ ہیں۔ گزشتہ دو اڑھائی دہائیوں سے ان کی شناخت بھی یہی جماعت ہے۔

اسی جماعت کی سربراہ کی حیثیت سے ان کا جیل آنا جانا بھی لگا رہا ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ کہولت کی عمر کو پہنچتی ہوئی اس دختر حریت کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے ہے ، جو ،تیس پینتیس برس قبل جب انقلاب ایران نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کررکھی تھی،متحرک نہ ہوتا تو مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کا وہ دور بھی کبھی شروع نہ ہوتا جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔بتانا یہ ہے کہ آسیہ اندرابی اس خانوادے کی چشم و چراغ ہیں،جس کے بچے جدوجہد اور قربانیوں کی گھٹی لے کر پیدا ہوتے ہیں اور اسی راستے پر چلتے چلتے جان عزیز لٹا دیتے ہیں اور انھیں کوئی ملال بھی نہیں ہوتا۔اس ناتے اگر القاعدہ یاجس کسی بھی عسکری گروہ نے آسیہ اندرابی سے رابطہ کیا تو ایک اعتبار سے یہ درست تھا کہ اتنا تو یہ گروہ جانتا تھا کہ یہ خاتون ایک ایسے گھرانے کی چشم و چراغ ہے،جہاں سے تحریکیں جنم لیتی ہیں لیکن ایک معاملے میں اس گروہ سے چوک بھی ہوگئی۔غلطی اس گروہ سے یہ ہوئی کہ غیر مسلح اور معروف معنوں میں جمہوری طور طریقوں سے جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو انھوں نے ایک ایسی راہ پر لگانے کی کوشش کی جس کے وہ اہلیت اور وسائل رکھنے کے باوجود قائل نہیں۔زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

اتنا ذکر ہی کافی ہے کہ ایران میں انقلاب آیا تو مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی یہ برصغیر کا یہ گوشہ گوشۂ گم نامی سے نکل کر یکایک دنیا کے سامنے آگیا۔یہ عین وہی دن ہیں جب شیخ تجمل نامی ایک نوجوان کا نام اخبارات کی شہ سرخیوں کی زنیت بنا۔اس نوجوان نے نوجوانوں کی ایک کثیر تعدادکو اپنے گرد جمع کیا اور اعلان کیا کہ کشمیر کی قسمت پاکستان کے ساتھ الحاق ہے اور دونوں کی مشترکہ قسمت اسلامی انقلاب ہے۔مقبوضہ کشمیر کے یہ نوجوان چند روز خبروں اور وادی کی سڑکوں پر رہے پھر ان پر جیلوں کے دروازے کھل گئے ۔ یوں اگریہ کہا جائے کہ یہ خانوادہ گزشتہ قریباً نصف صدی سے ہی جدوجہد میں مصروف ہے تو کچھ ایسا غلط بھی نہ ہوگا۔ اتنے برسوں سے نہ ختم ہو نے والی جدجہد میں شریک خاندان کے کسی فرد کے شاید کسی ایک فرد نے بھی مایوس ہو کر تشدد کی راہ اختیار کی اور نہ بندوق اٹھا کر مرنے یا مار دینے کی ٹھانی۔جدوجہد کے اس طویل سفر کے دوران اس خاندان پر کئی مشکل وقت آئے۔یہاں تک کہ اس سے وابستہ افراد کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا لیکن اس کے باوجود مایوسی ان لوگوں پر غالب نہیں آئی اور انھوں نے سوچ سمجھ کر جو راستہ اختیار کیا تھا، اسی پر گامزن رہے۔حیرت ہوتی ہے کہ پرامن جدوجہد کی ایسی تابندہ تاریخ رکھنے والے خاندان کی قابل فخر بیٹی کو جانے کیا سوچ کر تشدد کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا اور وہ بھی پاکستان میں ،اس ملک میں جسے مضبوط اور مکمل کرنے کے لیے وہ جدوجہد کررہی ہے ناکہ کمزور اور ناتواں۔

تاریخ کے اس مرحلے میں محترمہ آسیہ اندرابی کا یہ انکشاف غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری پرتشدد صورت حال کے بعد آج پاکستان کی وہ سیاسی اور دینی قوتیں بھی افراط و تفریط کا شکار نظر آتی ہیں جن کی جدوجہد کی بنیاد ہی پر امن اور جمہوری طور طریقوں سے رکھی گئی۔ ایک ایسے وقت میں جب سب کچھ ہی گڑ بڑ ہوتا نظر آرہا ہے اور بڑے بڑے صاحبان عزیمت و بصیرت گڑبڑاتے بلکہ لڑکھڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں، آسیہ اندرابی کا انکشاف اوران کا انداز فکر بہت سوں کے لیے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔

محترمہ آسیہ اندرابی کے تازہ انکشاف کا ایک پہلو تو یہی ہے جس میں انھوں نے پاکستان میں عسکری جدوجہد کو ناجائز قرار دیا ہے لیکن اس سے زیادہ اہم پاکستان کی دینی تحریکوں کا فکری انتشار ہے۔مولانا فضل الرحمان آج بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں کہ ان کی جماعت مسلح جدجہد کرنے والوں اور مغرب کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ جماعت اسلامی کی بنیاد ہی عدم تشدد سے اٹھی تھی لیکن وقت کے الٹ پھیر کے بعد لگتا ہے کہ پاکستان کی ان دونوں دینی قوتوں کے متعلقین اپنی جدوجہد کے نتائج کے بارے میں مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں یا کچھ جلدی میں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان ہی قوتوں میں عسکری جدوجہد کی حمایت کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے۔اس طرح کا انداز فکر رکھنے والے افراد کی دو سطحیں ہوسکتی ہیں۔ ایک سطح تو ہم وہاں دیکھ سکتے ہیں، جہاں سے شہید اور غیر شہید کی بحث شروع ہوئی دوسری سطح انتہائی نچلی سطح پر کارکن کی ہے جو پاکستان میں خونریزی پھیلا دینے والے افراد کو اسلام کا اصل مجاہد سمجھتے ہیں اور ان کی کارروائیوں کو حقیقی جہاد اور یہ خیالات اس کے باوجود ہیں کہ القاعدہ اور طالبان وغیرہ کے چند ایک لوگوں کے سوا ابھی تک پاکستان کی کسی معروف دینی تحریک اور کسی غیر متنازع عالم نے پاکستان کو دار الحرب قرار نہیں دیا۔اگر پاکستان دار الحرب نہیں ہے تو یہاں عسکری سرگرمیوں کا کیا مطلب ہے اور اگر یہاں عسکری سرگرمیوں کا کوئی جواز نہیں ہے تو عسکری طریقہ کار اختیار کرکے مارنے اور مرنے والوں کو کس طرح درست قرار دیا جاسکتا ہے۔ اللہ محترمہ آسیہ اندرابی پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے جنھوں نے اس مشکل وقت میں درست انداز فکر اختیار کر کے ہم اہل پاکستان کے لیے غور و فکر کا دروازہ کھول دیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.