.

ادارہ اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اہداف اور فرائض

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلاشبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بھی اتنی تیزی سے ترقی نہیں کی ہو گی جتنی تیزی سے ہم پاکستانیوں نے اپنی غربت میں اضافہ اور وسعت پیدا کر دکھائی ہے۔ ’’یو این او‘‘ میں پاکستان کے سابق سفیر جناب منیر اکرم بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت 1947ء میں اس وقت کے مغربی پاکستان اور آج کے پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ سے زیادہ نہیں تھی جو آج بیس کروڑ ہو چکی ہے۔ پاکستان غریب ملک ہونے کے باوجود اس وقت چین، ہندوستان اور دیگر بہت سے ترقی پذیر ملکوں سے زیادہ امیر تھا مگر آج پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالرز، چین کی پانچ ہزار ڈالرز اور جنوبی کوریا کی پندرہ ہزار ڈالرز ہے پاکستان کے ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے قبضے میں ملک کی آدھی آبادی سے زیادہ دولت ہے۔

جناب منیر اکرم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے قبضے میں ملک کی ا ٓدھی آبادی سے زیادہ دولت ہے تو پھر پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی کو ایک ہزار ڈالر قرار دینا ایسے ہی ہوگا جیسے پانچ لاکھ روپے ماہوار کمانے والاافسر کا دس ہزار روپے ماہوار کا ڈرائیور یہ بتائے کہ صاحب اور میں مل کر پانچ لاکھ دس ہزار ماہوار کما لیتے ہیں۔

پاکستان کی غربت افروزی کی وجوہات بیان کرنے والے دانش وروں کی طرح جناب منیر اکرم بھی اس کی بارہ وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں آبادی میں بے پناہ اضافہ، بے روزگاری، جہالت، معاشی عدم مساوات اندرونی اور علاقائی جھگڑے، انتہا پسندی، عدم تحفظ، گلوبلائزیشن اور گورننس کی خرابیاں شامل ہیں۔

غور کرنے اور سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی یہ صداقت بھی ہوسکتی ہے کہ امیروں کو اور زیادہ امیر بنانے اور غربت کی وسعت اور انتہا میں اضافہ کرنے والے عالمی سرمایہ داری نظام کی لوٹ کھسوٹ کے ردعمل میں مختلف نوعیت کی دہشت گردیاں عالمی سطح پر سر اٹھا رہی ہیں۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس طرح پاگلوں سے زیادہ خطرناک وہ بے وقوف ہوتے ہیں جو اپنے آپ کوبے وقوف نہیں سمجھتے بلکہ اپنے علاوہ ہر کسی کو پاگل قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ان پڑھ اور جاہل لوگوں سے زیادہ خطرناک وہ گمراہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو گمراہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے علاوہ ہر کسی کو گمراہ اور بے راہ ور قرار دیتے ہیں اور ایسے بے وقوف لوگوں کے پاس جب اختیار اور ایسے گمراہ لوگوں کے ہاتھوں میں جب ہتھیار آجاتے ہیں تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں اور معاشروں، ملکوں اور معیشتوں کے لئے بھی خطرے کا سبب بن جاتے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے ہتھیار استعمال کرنے یعنی اختیاروں اور ہتھیاروں کو بروئے کار لانے کی بجائے ذمہ داریوں اور فرائض کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

تیرہ سال پہلے سال 2000ء میں ادارہ اقوام متحدہ نے پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کو دور جدید کے تقاضوں کی راہ پر چلانے کے لئے کچھ اہداف مقرر کئے تھے مگر ان اہداف کو حاصل کرنے میں پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی مدد کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح 88 فیصدی تک بڑھائی جائے گی مگر اس ہدف کی راہ میں عالمی بنک اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو ہٹانے پر توجہ دینی ضروری نہیں سمجھی گئی تھی جو پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کو قرضے دیتے وقت کچھ ایسی شرائط عائد کردیتے ہیں جو عوام کی جہالت اور ناخواندگی دور کرنے والے پروگراموں کی فوتیدگی کی ذمہ داری بن جاتی ہے چنانچہ آج ادارہ اقوام متحدہ کو پاکستان کے حکمرانوں سے یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتا کہ خواندگی کی شرح 88 فیصدی تک کیوں نہیں پہنچ سکی چھیاسٹھ فیصدی سے بھی پیچھے کیوں رہ گئی ہے؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.