.

ایک ہاتھ سے تالی بجانے کی مشق

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیسری بار وزیراعظم بننے سے قبل میاں نوازشریف ایک سردار جی کا قصہ سنایا کرتے تھے جو اپنی عمر پچاس سال بتاتے اور پانچ سال دس سال ملنے پر بھی پچاس سال پر اصرار کرتے بالآخر کسی نے پوچھ ہی لیا سردار جی اتنے سال گزرنے کے بعد بھی اب پچاس سال کے ہیں حیرت ہے ’’اوئے سنگھ کی زبان ایک ہوتی ہے جب کہہ دیا پچاس سال تو پھر پچاس سال ہی سمجھو۔ مرد بار بار زبان نہیں بدلتے‘‘ سردار بولا۔

گزشتہ روز لاہور کی ادبی کانفرنس میں وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی مندوبین کو سامنے دیکھ کر وہی باتیں دھرائیں جو 1999ء میں کرتے کرتے وہ اقتدار سے محروم ہوئے اور دو ماہ قبل ڈاکٹر من موہن سنگھ کا ’’حسن سلوک‘‘ دیکھ کر بھی نہیں بھولے۔ حتی کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ، فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت، بلوچستان سے لے کر فاٹا تک بھارتی مداخلت اور جموں کو پاکستان سے ملانے والی 198 کلومیٹر طویل سرحد پر گیارہ میٹر اونچی دیوار کی تعمیر (جسے کشمیری عوام دیوار برلن کا نام دے رہے ہیں) نے بھی بھارت کے بارے میں اپنے خوش فہمی پر مبنی موقف پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ مرد کی زبان واقعی ایک ہوتی ہے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ ویزہ فری تعلقات بہرصورت قائم ہونے چاہئیں۔

پاک بھارت خوشگوار تعلقات ہر پاکستانی شہری کی دلی اور دیرینہ خواہش ہیں۔ بھارت میں جگہ جگہ پاکستانیوں کے لیے پرکشش اور عقیدت و محبت کے مرکز و مقامات ہیں۔ قائداعظمؒ کو دونوں ممالک کے تعلقات امریکہ و کینیڈا کے طرز پر استوار کرنے کی آرزو تھی۔ مگر کشمیر پر غاصبانہ قبضے، 1965ء کی جنگ اور 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ذریعے بھارت نے ہمیشہ پاکستانی عوام کی خواہش کو ماپال کیا اور مستقل دشمنی کی بنیاد ڈالی۔ پاکستان میں 1970ء کے سوا کبھی کوئی انتخابی مہم بھارت دشمنی کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی۔ 1970ء میں ہزار سال جنگ کا نعرہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا اور پنجاب کو مسخرکرلیا۔ پرویز رشید کے خیال میں یہ نقصان دہ تھا مگر بھٹو کے مداح اور عام پاکستانی اسے ایک قوم پرست رہنما کے جذبہ حب الوطنی کا مظہر سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت میں حالیہ انتخابی مہم پاکستان دشمن نعروں پر چل رہی ہے اور عوام کے علاوہ لبرل سیکولر میڈیا میں خوب پذیرائی حاصل کررہی ہے کیونکہ پاکستان دشمنی بھارتی صحافت، سیاست اور عوامی زندگی کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایک ہو جانے اور مشترکہ تہذیب و ثقافت کے نعرے ہمیں لبھانے اور بے وقوف بنانے کے لئے لگتے ہیں اور ہم میں سے بعض واقعی بے وقوف بنتے ہیں۔ آجکل کے حکمران بھی۔

کیا میاں صاحب کو زمینی حقائق اور بھارتی عزائم کا ادراک نہیں؟ یا وہ بلوچستان، فاٹا اور دیگر پاکستانی علاقوں میں بھارتی مداخلت سے بے خبر ہیں؟ میری ناقص الرائے میں وہ امریکہ کو راضی اور مطمئن کرنے کی راہ پر گامزن ہیں اور نئی دہلی کی خوشنودی کو امریکی اشیرباد کی شرط اول سمجھنے لگے ہیں مگر اردو کا محاورہ ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ادبی کانفرنس میں بھی ان کی تقریر پر بھارتی مندوبین دونوں ہاتھوں سے ہی تالیاں بجا رہے تھے تو کیا میاں صاحب ایک ہاتھ سے تالی بجانے پر قادر ہیں؟ شیر ان کا انتخابی نشان ہے اور جنگل کے بادشاہ کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہ جو چاہے کرے اس کی مرضی۔ کیا پتہ کسی نہ کسی دن ایک ہاتھ سے تالی بجنے ہی لگے۔ دنیا بر امید قائم۔

پاکستان میں ان دنوں ایوان اقتدار چڑیا گھر کا منظر پیش کررہا ہے جس میں ہر جانور اپنی اپنی بولی بول کر عوام کو بظاہر خوش مگر درحقیقت کنفیوژ کرنے میں مصروف ہے ایک ہاتھ کو علم نہیں دوسرا ہاتھ کیا کررہا ہے۔ مثلاً ڈرون حملوں کا معاملہ ہی لے لیجئے وزیراعظم ادبی کانفرنس میں کچھ کہہ رہے تھے، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس معاملے میں عمران خان سے متفق ہیں اور برملا کہہ چکے ہیں کہ ہمیں ڈالر اور عزت نفس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑیگا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف کے احتجاج اور دھرنے کو حکومت کی مدد کے مترادف قرار دیکر درست سمجھتے ہیں مگر وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید عمران خان کا مذاق اڑا کر عملاً ڈرون حملوںسے متاثر نہیں اور امریکہ سے نفرت کرنے والے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔

لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ڈرون حملوں پر مسلم لیگ (ن) اور حکومت کی حقیقی پالیسی کیا ہے؟ اے پی سی کی قرارداد کے مطابق ڈرون حملوں کی ہر قیمت پر بندش اور نیٹو سپلائی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی آئینہ دار یا پرویز مشرف اور آصف علی زرداری دور کا تسلسل نیمے درون، نیمے برون بامسلمان اللہ اللہ با برہمن رام رام۔ عمران خان اور ان کے حلیفوں کے بارے میں کوئی یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ منافقت سے کام لے رہے ہیں۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے مظلوم، بے کس اور بے آسرا عوام کے جذبات کی ترجمانی اور اپنے دائرہ کار میں احتجاج کے جمہوری حق کا استعمال ایک جرات مندانہ قدم ہے جس کی توفیق حکمرانوں کو اب نصیب ہوئی ہے نہ اپوزیشن کے دنوں میں۔ زبانی کلامی جمع خرچ البتہ ہمیشہ ہوتا ہے۔

یہ احتجاج اور دھرنا بالآخر قومی حمیت کے برملا اظہاراور عزت نفس کے پائیدار تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے اور عزت و وقار پر مبنی قومی پالیسی کی تشکیل میں مددگار مگر حکمران یہ تاثر دے کر اپنی اور قوم کی منزل کھوٹی کررہے ہیں کہ طاقتور امریکہ کی من مانی کو ٹھنڈے دلوں برداشت کرنے کی پالیسی ہی پاکستان کے مفاد میں ہے اور عزت، عزت نفس اور خودمختاری کی باتیں امریکہ کے عتاب کو دعوت دینے کے مترادف۔ وہی جنرل پرویز مشرف کا طرز استدلال اور منطق۔ اقبالؒ نے کہا تھا ؎

غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا

مگر ہماری اشرافیہ کا خیال ہے کہ غیرت کے بجائے خود سپردگی، زر اندوزی اور ذلت و رسوائی ہی ترقی و خوشحالی کی اور سرفرازی کی سند اور نسخہ کیمیا ہے۔ شاید امریکہ بھی ہماری اشرافیہ کی اس سوچ سے واقفیت کی بناء پر نہ تو ہمارے کسی احتجاج کو اہمیت دیتا ہے نہ کسی مطالبے کی پذیرائی کرتا ہے۔

ڈر یہ ہے کہ اس مرحلہ پر اگر قوم نے انگڑائی نہ لی۔ امریکہ کے سامنے سیاسی قیادت کی طرح سپرانداز رہی تو مطالبات کی فہرست میں مزید اضافہ ہوگا۔ صرف تحریک طالبان حقانی نیٹ ورک نہیں فوجی آپریشن کا دائرہ لشکر طیبہ تک وسیع کرنے کے لیے دبائو پڑیگا اور پاکستان ہمہ گیر فساد کی زد میں آکر مزید مشکلات و مصائب سے دوچار ہوگا۔ حکمران اور فیصلہ ساز کیا سوچتے ہیں۔ یہ ان کا درد سر ہے۔ ہمیں تو خوشی ہے کہ میاں صاحب پاکستان اور بھارت کے مابین ویزہ کی پابندیاں ختم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں اور ہمیں اس دن کا انتظار ہے جب بھارتی سفارت خانے میں حاضری اور ویزہ کی ذلت اٹھائے بغیر ہم اجمیر شریف، دہلی، نظام آباد، آگرہ اور فتح پورسیکری جا کر زیارتیںکرسکیں گے بلاروک ٹوک، کسی قسم کی پوچھ گچھ کے بغیر مگر اس صورت میں کہ تالی ایک ہاتھ سے بجنے لگے وگر نہ ؎

تیرے وعدے پر جئے تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.