.

نئی فوجی قیادت ۔۔ یہ عالم ''خوف'' کا دیکھا نہ جائے

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف محض چند گھنٹوں کے دوران بطور وزیر اعظم ملک کی نئی فوجی قیادت سامنے لانے والے ہیں۔ وہ اس سے پہلے اپنے مختلف ادوار حکومت میں مجموعی طور پر 12 فور سٹار جرنیلوں کی تقرری کر چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بظاہر چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے سے بھی بڑھ کر نہ صرف خود ایک تذبذب اور ابہام میں مبتلا ہیں بلکہ کھلے مخمصے اور تشویش کا اپنے عمل سے ایسا اظہار کر رہے ہیں کہ جیسے جنرل کیانی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ تک اپنے وزیر اعظم ہونے پر یقین نہیں کر پا رہے۔ اس لیے جھٹ منگنی پٹ بیاہ کے انداز میں جنرل ضیا ءالدین کو آرمی چیف بنا دینے والے میاں نواز شریف ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے سے انداز میں بزبان حال کہہ رہے ہیں ''اب ہم وہ پہلے والے نہیں رہے ہیں۔'' اگرچہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف آج بھی اپنے ''اسی ٹریک'' پر ہیں۔ حقیقت کیا اس کے کھلنے کا وقت قریب آ رہا ہے؟

میاں نواز شریف کو جہاں خود پاکستان کا تیسری مرتبہ منتخب وزیر اعظم بننے کا منفرد اعزاز مل چکا ہے، وہیں ان کی حیثیت اس ناطے بھی منفرد ہے کہ وہ واحد وزیر اعظم ہوں گے جو اگلے چند گھنٹوں میں ملک کو نئی فوجی قیادت دینے کی صورت میں دو فور سٹار جرنیلوں کا تقرر کر کے کل 14 فور سٹار جرنیلوں کی اپنے ہاتھوں سے تقرری کا امتیاز حاصل کر لیں گے۔ اگر انہوں نے ماضی کی طرح ہر ایک کے ساتھ ''چوں چلاکی'' نہ کی تو یہ بھی ممکن ہے کہ تین سال بعد انہیں ایک مرتبہ پھر ملک کے منظم ادارے کو فوجی قیادت دینے اور دو مزید فور سٹار جرنیلوں کی تقرری کا موقع مل جائے۔

بلاشبہ اس میں '' چوں چلاکی '' کے ساتھ ساتھ عمر، قسمت اور عوام کے ساتھ رہنے کو بھی بڑا دخل ہو گا۔ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ادھر ادھر ہو گئِی تو تاریخ نے بار ہا دیکھا ہے کہ ہمالہ روتی ہے نہ کوئی اور، بلکہ یوں تیسرا دن گذر جاتا ہے کہ جیسے زمانے گذر گئے ہوں۔ ہاں جوعوام کیلیے نہیں اپنے لیے مشکل فیصلے اور عوام کیلیے سہل راستے بنانے والے ہوں گے وہ دلوں مں بستے رہیں گے۔ بصد ادب اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ اپنے موجودہ دور حکومت میں کم از کم میاں نواز شریف اور ان کے''ٹیلنٹڈ '' بھائی نے ابھی ایسا کوئی کام شروع نہیں کیا ہے کہ وہ دلوں کو فتح کرنے میں کامیا ب ہو جاتے۔ اس لیے اس کھاتے میں ان کی آشاوں کا دلی ابھی بہت دور ہے۔ انہیں عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والا وزیر اعظم بننے میں ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس دیر کا بڑا سبب ان کا اور ان کی ٹیم کا خالصتا اشرافیہ کے نمائندوں کے سے طرز فکر اور طرز عمل کا اسیر ہونا ہے۔

غالبا ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود 29 نومبر اور 13 دسمبر 2013 تک کا وقت گزارنے کیلے کبھی اِس سے اور کبھی اٰس سے بات کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کے وزیر اطلاعات چیزوں کو چھاپنے کے بجائے چیزوں کو چھپانے کی اپنی ایجاد کردہ مہارت پر فخر کرتے ہیں اور اہم ''ایشوز'' پر حکومتی موقف اور پالیسی کی طرح خود بھی چلمن سے لگے رہنے کی حکمت عملی کو'' بیسٹ پالیسی'' سمجھے ہوئے ہیں۔

بہرحال بات ہو رہی تھی میاں نواز شریف کے عسکری قیادت کے حوالے سے تجربے کی ، یہاں جب ان کا تجربہ زیر بحث ہے تو اس میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کا ذکر کرنا ہرگز مقصود نہیں۔ ویسے بھی جو امریکی کارروائی یا کارستانی کا نشانہ بنے اس کی شہادت مشکوک ہوتی ہے۔ اس لیے بغیر کوئی''رسک'' لیے اس موڑ سے صاف اور مکمل بچنے کا ارادہ ہے کہ اگر شہادت کے فلسفے پر بحث میں الجھ گئے تو کچھ فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ شہادتوں کے معاملات پر رائے زنی سے پہلے کئی اہم شخصیات کے مشکوک حلیے اور خلیے ہی نہیں مستعار کی فکرو عمل بھی زیر بحث آنے لگیں گے ۔۔۔۔۔ اور بات دور نکل جائے گی۔ اس کا یارا ہے نہ موقع۔ اس لیے سیدھی بات میاں صاحب کے تجربے کی ہو گی، تاکہ پاکستان کی تاریخ کے اس روشن چراغ اور اس کے نیچے چھپے اندھیرے کی جانب توجہ مبذول کرائی جا سکے، بعض جملہ باز اگر اس پر ایسی بلندی ایسی پستی کا جملہ کسنے لگیں تو اپنے سامان اور انجام کی سواری خود ذمہ دار ہو گی۔

میاں نواز شریف کو اپنے تین ادوار حکومت کے دوران مجموعی طور پر 22 فور سٹار جرنیلوں کے کام کو بطور وزیر اعظم دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔ گویا اب تک وہ 22 جرنیل''ہنڈا''اور بھگتا چکے ہیں۔ یہ اعزاز ملک کے کسی دوسرے حکمران کو نہیں مل سکا ہے۔ اس سے بھی آگے دیکھا جائے تو پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر جنرل ضیاءالدین سمیت 15 آرمی چیف گزر چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے پانچ فوجی سربراہان کی تقرری میاں نواز شریف نے اپنے ہاتھوں سے کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کے 33 فیصد فوجی سربراہان تعینات کرنے کا منفرد اعزاز بھی صرف انہی کو ملا ہے لیکن اس کے باوجود اس قدر احتیاط کہ کبھی''انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو'' والا منظر نظر آتا ہے اور کبھی

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
کار گاہ ہستی کی اس شیشہ گری کا

والا ماحول دکھتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ جمہوریت کے طبع نازک پر یہ تبصرہ گراں گذرے۔ اس لیے جمہوریت کی شاخ نازک سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کی راہ اپناتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے اگر خوف دامن گیر نہیں ہے تو پھر میاں صاحب ضرور اپنی''آئی پر آئے'' ہوئے ہیں اور ماضی کی طرح ''سجی دکھا کر کھبی مارنے'' کی کوشش میں ہیں ۔ ان کے اس اسلوب کو سمجھنے والے فوج اور سول دونوں میں موجود ہیں، جو میاں صاحب کے جتنا زیادہ قریب رہا ہے یا قریب سے گذرا ہے وہ بھی ان کی اس صلاحیت اور عادت سے اتنا ہی آگاہ ہے۔ ان کے سابقہ اور موجودہ اتحادی ہی نہیں ان کی اپنی جماعت کے رہنما بھی خوب واقف ہیں۔ میاں صاحب ایک وقت میں کسی ایک کے ساتھ معاملہ نہیں طے کر رہے ہوتے بلکہ وہ بیک وقت ہر ایک کو ''منڈا'' دینے والے پیر کی طرح ڈیل کرر ہے ہوتے ہیں۔ جب وقت آتا ہے تو بارشیں کسی اور چھت پر برس جاتی ہیں۔ پارٹی کے مناصب اور حکومتی عہدوں سے لے کر ملکی صدارت کے فیصلے تک ایسی دسیوں مثالیں موجود ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ میاں نواز شریف عین آخری لمحے تک جنرل کیانی کو پوری طمانیت کے ساتھ جرنیلی کرنے کا موقع دیے ہوئے ہیں۔ اس مقصد کیلیے انہوں نے ملکی اور فوجی روایت کی پراوہ کیے بغیر جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ سے محض ایک دن پہلے نئے آرمی چیف کا اعلان کرنے کی ٹھانی ہے۔ دوسری جانب توسیع لینے سے شروع سے میں بے رغبتی رکھنے والے جنرل کیانی ہیں کہ وہ بھی تادم تحریر منگل کے روز بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں پوری طرح ''انوالو'' نظر آئے اور شہداء کے خاندانوں کی تقریب سجائے تاریخ بناتے رہے۔ گویا دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی۔

ایسے موقع پر جب جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ میں چار پانچ روز باقی تھے ان کے بھائیوں کے''کاروباروں'' کا اخباری سرخیوں کا موضوع بننا بھی تعجب انگیز ہے۔ اگر کوئی ایسا کاروبار ہے جس پر انگلی اٹھ سکتی تھی تو اس سے متعلقین کا صرف نظر کیوں رہا؟ بصورت دیگر اب آکے ایک جرنیل کے بڑھاپے اور ریٹائرمنٹ کے مرحلے پر یہ چرچا کیوں؟ معاملہ اگر اس سے قطعی مختلف ہے۔ مراد یہ کہ صفائِی ڈاکٹرائن کسی اور کی تھی تو یہ ''ایکسر سائز'' کامیاب نہیں رہی ہے۔ یار لوگوں کو اس''ایکسر سائز'' کے بعد نئے موضوع ہاتھ آ گئے ہیں۔ اس لیے یہ خدشہ بہرطور موجود رہے گا کہ کل کلاں کوئی اس کھلے مطالبے کا مرتکب ہو کہ ان موضوعات کی باقاعدہ وضاحت کی جائے۔

یادش بخیر سابق صدرآصف زرداری امارات مکانی کا بھی اسلوب تبسم خوب تھا۔ واقفان حال کے بقول جنرل کیانی ان سے ایوان صدر ملنے جاتے تو جنرل صاحب سے زیادہ زرداری صاحب جنرل صاحب کے بھائیوں کے کاروبار کا حال پوچھتے۔

تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے۔

کیا ضروری ہے منفی تصورات یا بولتے اور چلتے پھرتے حقائق کو مزے لینے کا بہانہ بنا لیا جائے۔ اس معاملے میں میاں نواز شریف بہرحال مختلف ہیں انہیں خود کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

بہر حال میاں نواز شریف جس کو بھی فوجی قیادت پر فائز کریں گے اب کی بار ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بندے اور فائدے سے اوپر اٹھیں گے۔ ملکی سلامتی، افواج کے مورال اور پیشہ ورانہ میرٹ کو سامنے رکھیں گے۔ اسی صورت ممکن ہے کہ ان کے فوجی قیادت سے تعلقات ماضی سے مختلف رہ سکیں کہ جہاں انہیں یہ فراز اور امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ کے 33 فیصد آرمی چیف اپنے ہاتھ سے مقرر کیے وہیں ان کے عمل اور حوالے میں یہ نشیب بھی موجود ہے کہ کسی جرنیل سے بھی ان کے معاملات اچھے نہ رہے۔ کیا سارے جرنیل ہی اقتدار پرست تھے ۔۔۔۔۔ کہ ''جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا۔''

ماضی کی اس الجھی تاریخ کو سلجھانے کا موقع بھی ہے۔ اس کیلیے ضروری ہے کہ تیسری بار وزیر اعظم بننے والا محض سیاست کار نہ رہے بلکہ ایک مدبر سیاستدان کے طور پر وسیع النظر اور فراخ دل ہو۔ اس کی نظر محض ذاتی وفاداروں اور اور رشتہ داروں تک محدود نہ ہو جیسا کہ آج بھی بڑی ہنر مندی سے یہ سلسلہ جا ری ہے، اب اسے بس ہونا چاہیے۔ فوج ملک کا بازوئے شمشیر زن ہے اسے اپنے ہاتھ میں رکھیے اسے اپنے مقابل لائیے نہ آنے دیجیے۔ یہ قوم کی امانت ہے اوراسے قوم کے خون کے تحفظ کیلیے ہی برتنا چاہیے کسی اور کی ضرورت کیلیے نہیں۔ لہذا ہاتھ کنگن کو آر سی کیا کے مصداق نئی فوجی قیادت کے فیصلے کو چھپ چھپ کے اور رک رک کے کرنے کے بجائے سیدھے اور صاف طریقے کیا جانا چاہیے تھا ۔ نہ تذبذب میں خود رہنا چاہیے تھا نہ قوم کو ابہام میں رکھنا چاہیے تھا۔

میاں نواز شریف سے یہ توقع اور مطالبہ اس لیے بھی جائز ہے کہ ان کے سامنے یہ چیلنج پہلی مرتبہ نہیں آیا ہے۔ انہیں اپنے دامن مشاورت کو اپنی کابینہ کی خانگی کمیٹی سے باہر پارٹی کی سطح تک وسعت دیتے ہوئے سیںئِر رہنماوں کے ویژن اور تجربے سے فائدہ اٹھانے کا پورا موقع ہے۔ ایسے اہم قومی معاملات کیلیے تو انہیں اپنی جماعت سے باہر بھی اہم سیاسی قائدین کے ساتھ مشورے میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہیے۔ مگر خوف اور مخمصے کا عالم ہے کہ الامان الحفیظ ، ناقابل دید، ناقابل یقین۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.