.

امریکہ، ایران معاہدہ: پاکستان غور کرے

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس دوران پاکستان جماعت ِ اسلامی کے چیف منور حسن، پی ٹی آئی کے چیف عمران خان اور پی ایم ایل (ن) کے چوہدری نثار کے افعال و اقوال کے گرداب میں الجھا ہوا ہے، دنیا قدم آگے بڑھا رہی ہے تاہم ہماری سیاسی الف لیلیٰ کے یہ کردار اپنے آئینہ خانے سے باہر جھانکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یوں تو یہ ہمیشہ ہی چراغ پا رہتے ہیں لیکن ان کا موجودہ غصہ امریکی ڈرون حملے، جس میں ہنگو کے ایک دور افتادہ گائوں میں حقانی نیٹ ورک کے کچھ سرکردہ کمانڈر ہلاک ہوگئے، پر ہے۔ طالبان کا کیا ہلاک ہونا تھا، ہمارے مجاہدین کو غصے کا دورہ پڑگیا اور وہ دیوانہ وار چلّانے لگے کہ ہماری قومی خود مختاری مجروح ہوگئی ہے.... حالانکہ اس سخت جان عفیفہ کا شمالی علاقوں میں غیر ملکی جنگجوئوں کی بلاروک ٹوک آمدو رفت سے بال بیکابھی نہیں ہوتا ہے۔ ان شعلہ فگن خطیبوں سے پوچھا جائے کہ کیا ان علاقوں میں ریاست ِ پاکستان کی کوئی ہلکی سی بھی عملداری ہے جس کے مجروح ہونے کا دھڑکا ان کو دن کو چین لینے دیتا ہے نہ رات کو آرام۔

حب الوطنی کے جذبات سے بوجھل، چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’’عزت اور ڈالروں‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیا جائے۔ یقیناً عزت اور حماقت کے درمیان بھی بال برابر کا فرق ہوتا ہے۔ کیا کوئی چوہدری صاحب کو یہ بتائے گا کہ جہاد اور پراکسی جنگیں شروع کر کے عرصہ ٔ دراز سے ہم اپنی ترجیحات طے کر چکے ہیں۔ یہ حماقتیں اور غیرت ہی ہماری جمع پونجی ہیں اور ہم ان میں ماشااﷲ خود کفیل ہیں تاہم ہمیں ڈالروں کی ضرورت ہے اور اس احتیاج کی وجہ سے عرصہ ٔ دراز سے پاکستان کی پہچان کاسہ ٔ گدائی کے سوا اور کیاہے... چنانچہ،’’دل میں غیرت کا ہے قلزم ،ہاتھ میں کشکول ہے‘‘۔

یہ انتہائی مضحکہ خیز صورتحال ہے کیونکہ چاہے ڈرون ہوں یا ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات، وزیراعظم نواز شریف کچھ عملی اور معقول رویہ اپنانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم جب وہ ملک میں عوامی سطح پر بیانات دیتے ہیں تو کسی بھی سیاست دان کی طرح اُنہیں بھی عوامی حمایت درکار ہوتی ہے لیکن جب وہ غیر ملکی رہنمائوں سے بات کرتے ہیں تو ان کا موقف کچھ اور ہوتا ہے تاہم جب وہ بیرون ملک کچھ معقول رویہ اپناتے دکھائی دیتے ہیں تو وزیرداخلہ جو وزیرخارجہ کے فرائض بھی سرانجام دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے، ٹھیک اس وقت بالکل متضاد خیالات کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ حکومتی حلقوں کی انتہائی چالاکی کا اظہار ہے کہ شریف برادران نے چوہدری نثار کو داخلی طور پر پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے؟ کیا اس سے پھیلی ہوئی کنفیوژن میں اضافہ نہیں ہورہاہے؟اس سے غیر ملکی سفارت کاروں کو کیا پیغام جاتا ہے؟حال یہ ہے کہ جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکومت کی کوئی سمت ہی نہیں ہے تو مایوس ہو جاتے ہیں۔

وہ سوچتے ہیں کہ یہ ریاست ایک ایسی نائو کی طرح ہے جس کا کوئی ناخدا نہیں ہے۔اس وقت نیٹو سپلائی روکتے ہوئے عمران خان سیاسی نادانشمندوں کی صفوں کے غیر متنازع بلکہ دائمی، لیڈر بن چکے ہیں۔ اگر دیکھنا ہو کہ کوئی کس طرح اپنی نائو میں سوراخ کرتے ہوئے اپنی غرقابی کا اہتمام کرتا ہے تو عمران خان کو دیکھیں...یکے بعد دیگرے حماقتوں پر حماقتیں۔ اصحاب ِ غیرت و خودمختاری نے فی الحال ایک سادہ سے سوال کا جواب نہیں دیا کہ حقانی گروہ کے جنگجو ہنگو کے اُس مدرسے میں کیا کررہے تھے؟بالکل اسی طرح یہ جواب بھی کسی حلقے کی طرف سے نہیں آیا کہ جلال الدین حقانی کا بیٹا نصیرالدین حقانی اسلام آباد، جہاں اُسے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا، میں کیا کررہا تھا؟اگر پاکستان میں اس طرح کے غیر ملکی جنگجو دندناتے پھرتے ہیں تو پھر ہم امریکیوں سے کس بات کا احتجاج کرتے ہیں اور کس منہ سے کرتے ہیں؟عزت پر حملے پر شور مچانے کا حق وہی رکھتی ہے جس کے پاس ایسی کوئی چیز ہو لیکن کچے مکان کی دیوار گرنے کے بعد جب صحن میں سے لوگ رستہ بنا لیں تو کسی ایک سے لڑنا یا احتجاج کرنا چہ معنی دارد؟اﷲ کے بندو، جب ایبٹ آباد میں بن لادن پایا جائے اور حقانی کے جنگجو ہر جگہ، تو پھر خود مختاری کس چڑیا کا نام ہے؟

اس بات پر نواز شریف کوکریڈٹ ملنا چاہیے کہ وہ صورتحال کا فہم رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوری جذباتی بیان کے علاوہ وہ ڈرون حملوں پر سنجیدہ رویّے کا مظاہرہ کرتے ہیں تاہم شہباز شریف کی سوچ کا دھارا دوسری طرف بہتا ہے۔ بظاہر وہ عمران خان کے مخالف ہیں لیکن ڈرون، انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے معاملات پر ان کی سوچ میں ’’عمرانی پہلو‘‘ نمایاں ہے۔ جہاں تک نثار علی خان کا تعلق ہے تو وہ بھی بنیادی طور پر قدامت پسندانہ سوچ رکھتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ حکومت اس معاملے پر یکسو ہوتے ہوئے بھی یکسو نہیں ہے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کی منتشر فعالیت آشکار ہوتی جارہی ہے۔ ہنگو میں ہونے والے میزائل حملے سے ٹھیک ایک دن پہلے سرتاج عزیز نے بیان دیا کہ امریکہ نے یقین دہانی کرادی ہے کہ جب طالبان سے بات چیت ہو گی تو ڈرون حملے نہیں ہوں گے تاہم اُس حملے نے مشیر برائے خارجہ امور کو شرمندہ کردیا اور تو اور، کابینہ کے ایک وزیر نے بھی کھلے عام اُن کامذاق اُڑایا۔ یہ ہے وہ گرداب جس میں قوم کی نائو ہچکولے کھارہی ہے۔ اس دوران ،جب سیاسی جماعتیں حماقتوں کے دفتر رقم کررہی ہیں، ٹی وی کے بعض مبصرین اوران کی تعداد کم نہیں ہے، اس کنفیوژن کو بڑھانے میں رات دن ایک کئے ہوئے ہیں۔ اس دوران جب ہم سراسیمگی کا شکار ہیں، دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔

اگرچہ ایران اور امریکہ کا معاہدہ اٹھایا جانے والا صرف پہلا قدم ہی ہے لیکن اس نے خطے میں اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔ اسرائیل مشتعل ہے جبکہ خلیجی حکمرانوں کے رنگ زرد ہو چکے ہیں۔ اس پیشرفت کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ بات یہ ہے کہ ایران حقیقت کی تفہیم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ یواین کی طرف سے عائد کردہ معاشی پابندیاں اس کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی تھیں کیونکہ ان کی وجہ سے ایرانی تیل کی فروخت نصف سے بھی کم ہو چکی تھی اور اس کی کرنسی گراوٹ کا شکار تھی۔ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے مکمل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے بلکہ اس نے کچھ وعدے کئے ہیں کہ اگلے چھ ماہ تک وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے پروگرام کو بند کردے گا۔ ان کے درمیان ہونے والا معاہدہ یہ باور کراتا ہے کہ حقیقت پسندانہ ممالک ایسا رویہ ہی اپناتے ہیں لیکن جس دنیا میں ہمارے نظریاتی مجاہد رہتے ہیں وہ من پسند التباسات کی دنیا ہے۔ اگر ان کی تجاویز پر من و عن عمل کیا گیاہوتا تو ہم اس سے کہیں مشکل حالات کا شکار ہوتے جہاں ہم آج ہیں۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو معاشی پابندیوں کے بعد وہ کافی دیر تک عالمی تنہائی کا شکار رہا ہے۔ اس کے عراق میں بھی کچھ مفادات ہیں، یہ حزب اﷲ، جس سے امریکہ اور اسرائیل نفرت کرتے ہیں، کی حمایت بھی کرتا ہے اور شام میں بشار الاسد کی پشت پناہی بھی۔ اس کے باوجود وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے میں شریک ہو گیا۔ ایساکرنا یقیناً قومی غیرت کا سودا کرنے کے مترادف نہیں ہے بلکہ ایک حوالے سے اس نے قومی مفاد کا خیال رکھا ہے۔ اگر ہمارے ہاں یہ صورتحال ہوتی تو ہمارے جہادی گروہ اسے غداری کے مترادف قرار دیتے۔

ہمارا مسئلۂ یہ ہے کہ ہم کشکول توڑنا تو کجا، اسے گرد آلود بھی نہیں ہونے دیتے ہیں لیکن ہمارے رہنمائوں کے نعرے سنیں تو لگتا ہے کہ عالمی افق پر معاشی اور عسکری لحاظ سے ہمارا کوئی حریف نہیں ہے۔ ایران کودیگر مسائل ہوں گے لیکن کم از کم وہاں قیادت کا بحران نہیں ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب وہاں ایٹمی ایشو پر، خاص طور پر سابق صدر کے دور میں، بہت سخت موقف پایا جاتا تھا لیکن نئے صدر کی سمجھداری اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مہربانی کی وجہ سے ایرانی قوم نے نئی سوچ اپنالی ہے تاہم ایک بات قابل ِ تعریف ہے کہ چاہے وہ ماضی کا سخت گیر رویہ تھا یا موجودہ تبدیل شدہ سوچ ہے، تمام قوم اور ان کی سیاسی قیادت بیک زبان ہوکر بولتی ہے۔ وہاں، جیسے ہمارے ہاں ہوتا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں سنائی نہیں دیتیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں نسبتاً بہتر جمہوری اور سیاسی نظام ہے لیکن ہمارے ہاں ایران جیسی قومی قیادت کا فقدان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نواز شریف ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور’’جہاد‘‘ اور ’’غیرت ‘‘ کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے خارجہ پالیسی پر مثبت موقف رکھتے ہیں لیکن مخالفین کہتے ہیں کہ اُن میں قائدانہ صلاحیتوں کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان انقلاب ِ ایران کے مرحلے سے بھی نہیں گزرسکا ہے۔ درحقیقت ایران کو انقلاب اور عراق کے ساتھ طویل جنگ نے بہت سخت جان بنا دیا ہے اور اب وہ غیر جذباتی ہوکر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم اور میزائل ہیں لیکن ہمارے سامنے کوئی قومی منزل ہی نہیں ہے۔ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ہمارے اسلحہ خانے میں ہتھیاروں کے انبار میں اضافہ ہوتاجارہا ہے لیکن اگر کوئی چیز تقویت پارہی ہے تو وہ صرف اورصرف کشکول ہی ہے۔

درحقیقت امریکہ کی طرف سے افغانستان میں مداخلت ایک بہت بڑی غلطی تھی لیکن اس کی ذمہ داری امریکی قیادت کی بے بصری پرعائدہوتی ہے لیکن ہم نے کسی دوسرے ملک کے بجائے خود اپنے وطن کو ہی برباد کرنے پر کمر باندھ رکھی ہے۔اتنی خونریزی کے باوجود ہم انتہا پسندی کے خطرے کا تدارک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہماراخیال ہے کہ جب امریکی افغانستان سے چلے جائیں گے تو ہمارے ہاں جاری دہشت گردی کی لہر تھم جائے گی۔ یہ ہماری خام خیالی ہے کیونکہ جس فرقہ ورانہ کشیدگی اور انتہا پسندی کا ہم شکار ہیں اس کا امریکی موجودگی یا ڈرون حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس وقت قومی سوچ کو ان دقیانوسی نظریات رکھنے والے جہادی رہنمائوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ حکومت اور دفاعی ادارے بے بسی سے سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.