لال حویلی کی ’’لعنت‘‘ ۔۔۔!یا نعمت!…

طیبہ ضیاء چیمہ
طیبہ ضیاء چیمہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان تحریک انصاف کا ’’ڈرون مخالف‘‘ شو دکھایا جا رہا تھا، سپیکرز کے خطابات سُننے کا موقع نہ مل سکا البتہ جب فرصت ملی تو بدنصیبی سے شیخ رشید کا خطاب سُنایا جا رہا تھا۔ شیخ رشید کی مسلم لیگ نون میں واپسی کی جدوجہد کو نامنظور کر کے نواز شریف نے شیخ رشید کو ’’تپا‘‘ دیا ہے۔

شریف خاندان کے خلاف ذاتی بُغض و حسد کے تیر نچھاور کرتے ہوئے موصوف کے منہ سے جھاگ بہنا شروع ہو جاتی ہے مگر حالیہ خطاب میں تو انہوں نے اپنے چھوٹے پن کی انتہا کر دی۔ اس قدر گھٹیا اور غیر مہذب لب و لہجہ کہ ہم نے ٹی وی بند کرنے میں عافیت سمجھی۔ تنقید اور گالی گلوچ میں تمیز برقرار رکھنی چاہئے۔ انسان کے اندر نفرت اور کینہ لفظوں سے عیاں ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا ’’آدمی اپنی زبان تلے چھپا بیٹھا ہے۔ جاہلوں کو دو ہی حالتوں میں دیکھو گے، حد اعتدال کے آگے یا پیچھے۔ زبان ایک درندہ ہے جسے کھلا چھوڑا جائے تو کاٹ کھائے۔‘‘ نواز حکومت پر دل کھول کر تنقید کی جائے مگر ’’لعنت‘‘ جیسی ملعون زبان تو مشرف حکومت کے خلاف بھی استعمال کرنا مناسب نہیں جبکہ شیخ رشید نے مبینہ و اعلانیہ طور پر شریف حکومت پر تین بار لعنت بھیجی ۔کاش! یہ لعنت اپنے دور حکومت پر بھیجتے تو آج نیٹو سپلائی بند کروانے کی ڈرامہ بازی کی ضرورت پیش نہ آتی۔ کاش! شیخ رشید نے یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی ، جس وقت جامعہ حفصہ کی بچیوں کو راکھ بنایا جا رہا تھا۔

یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت اکبر بگتی کا قتل کیا جا رہا تھا۔ یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت ڈرون حملوں کے معاہدہ پر دستخط کئے جا رہے تھے۔ یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت امریکہ کو اڈے دئیے جا رہے تھے۔ یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش بُنی جا رہی تھی۔ یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت ایک آمر کو وردی کے ساتھ صدر بنایا جا رہا تھا۔ یہ لعنت اس وقت بھیجی ہوتی جس وقت ججوں کی تذلیل کی ہو رہی تھی۔ یہ لعنت ’’اس پر‘‘ بھیجی جاتی جو مشرف کی ملک دشمن پالیسیوں کی حمایت کر رہا تھا۔ شیخ رشید کی یادداشت کمزور ہے لیکن عوام کا حافظہ ما شاء اللہ آج بھی قائم ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا دینے والے شیخ رشید اس حکومت کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ تھے جس نے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی شروعات نہ صرف اپنے ہاتھوں سے کی بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ اگر ہم ڈرون گرائیں گے تو امریکہ ہمیں پتھر کے دور میں پہنچا دے گا۔

آج ملک جو کاٹ رہا ہے، شیخ رشید حکومت کا بویا ہوا ہے۔ جب نواز شریف کا طوطی بولتا تھا ،شیخ رشید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’’مجھے مختلف پیشکشیں ہوتی ہیں مگر ان پیشکشوں کے عوض کسی کو میاں نواز شریف کی تصویر بھی نہ دوں۔‘‘ 2002ء کے الیکشن میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ یہ دونوں سیٹیں نواز شریف کے قدموں میں ڈال دوں گا اور جب موصوف جیت گئے تو مشر ف کے قدموں میں ڈال دیں۔یہاں تک یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف نے ان کی پیشکش قبول نہ کی پھر شیخ جی مشرف کے دربار میں گئے۔

2008ء کے الیکشن میںمشرف کے قدموں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ شرمناک ہزیمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آوارگانِ سیاست ۔۔۔ سیاست کی مختلف چراہ گاہوں میں منہ مارنے والے آجکل تحریک انصاف کی چراہ گاہ میں منہ ماری کر رہے ہیں۔ حنیف عباسی کی نااہلیوں اور تحریک انصاف کی ہمدردیوں کے باعث موصوف اسمبلی میں پہنچ گئے مگر لعنت کی حقیقت اس وقت کھلے گی جس وقت اس حلقے سے تحریک انصاف کا نمائندہ کھڑا کیا جائے گا۔ عمران خان ملک کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی کے قائد اور ایک صوبے کے لیڈر ہیں، انہیں کسی صورت زیب نہیں دیتا کہ جن لوگوں کے نامہ اعمال میں بدکلامی و بد زبانی کی غلاظت پائی جاتی ہے، انہیں اپنا پلیٹ فارم مہیا کریں۔

شیخ رشید انٹرٹینمنٹ پروگراموں کے لئے موزوں ہیں۔ جو زبان تھیڑمیں استعمال ہو تی ہے، اس سے زیادہ شرمناک زبان عوامی لیگ میں استعمال ہوتی ہے۔ عمران خان کو شیخ کی صورت میں لائوڈ سپیکر مل گیا مگر اس سے تحریک انصاف کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔ نہ عمران خان کا بال بچہ ان کے پاس ہے اور نہ ہی شیخ رشید کا کوئی بال بچہ ہے لہذا دونوں ’’فری ہینڈ‘‘ سیاست کر سکتے ہیں۔ نام نہاد ’’نڈر‘‘ صحافیوں کے بال بچے بھی بیرون ملک محفوظ ہیں۔ عمران خان نے سچ کہا تھاکہ ’یا اللہ! مجھے شیخ رشید جیسا ’’کامیاب‘‘ سیاستدان نہ بنانا‘ کہ منافقت کے بھی کچھ اصول ہوا کرتے ہیں۔ آج چیف جسٹس کے عہدے میں توسیع کے خواہشمند، کبھی کہا کرتے تھے کہ ’’افتخار چوھدری کو لانے کیلئے ہم لابی کرنے والے تھے۔ دو دو گھنٹے لال حویلی کے باہر کھڑا رہتا تھا۔میں نے اسے چوہدریوں کے حوالے کر دیا اور چوہدریوں نے اپنے سے بڑے سائز کے حوالے کر دیا۔ اس جگہ پر پہنچنے کے لئے اس نے بہت بڑی لابنگ کی‘‘ ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو کہنے والے، کبھی کہتے تھے کہ ’’جس خوبصورتی سے صدر مشرف نے اس ڈاکٹر قدیر کے کیس میں ملک کو بچایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ شیخ رشید کی ’’لعنت‘‘ نے لال مسجد کو بھی اپنی پلیٹ میں لے رکھا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں