پاکستان جنگ کے دھانے پر

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کی تین مجبوریاں تھیں‘ افغانستان‘ ایران اور پاکستان کا ایٹم بم‘ یہ تینوں مجبوریاں پاکستان کی کل خارجہ پالیسی تھیں‘ ہم جانتے تھے افغانستان امریکا کے گلے میں پھنسی ہڈی ہے‘ امریکا ہمارے بغیر یہ ہڈی نگل سکے گا اور نہ ہی اگل‘ یہ ہماری مدد کے بغیر 1980ء کی افغان وار لڑ سکتا تھا‘ یہ 2001ء میں افغانستان آ سکتا تھا اور نہ ہی یہ اب ہماری مدد کے بغیر افغانستان سے نکل سکے گا‘ افغانستان میں نیٹو کے بھاری فوجی دستے موجود ہیں‘ یہ فوجی 28 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اکثریت کا تعلق امریکا سے ہے‘ نیٹو فوج کو روزانہ خوراک‘ پانی‘ ادویات‘ اسلحہ‘ بارود اور طالبان سے تحفظ چاہیے‘ دنیا میں صرف پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو انھیں یہ تمام سہولتیں فراہم کر سکتا تھا‘ ہم اگر نیٹو کنٹینرز کو چمن اور طورخم سے گزرنے کی اجازت نہ دیں تو امریکا شدید مسائل کا شکار ہو جائے‘ امریکا کے پاس افغانستان پہنچنے کے صرف تین راستے ہیں‘ پہلا راستہ ایران ہے۔

امریکی کنٹینرز بحری جہازوں کے ذریعے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پہنچیں‘ یہ کنٹینرز اور فوجی اس کے بعد وہاں سے سڑک کے ذریعے افغانستان کے علاقے ہرات میں داخل ہو جائیں‘ امریکا یہ روٹ استعمال نہیں کر سکتا تھا‘ ایران کے ساتھ اس کی 1979ء سے سرد جنگ چلی آ رہی تھی‘ ایرانی امریکا کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے‘ امریکا نے ایران پر 1979ء سے پابندیاں بھی لگوا رکھی تھیں اور ایران اکثر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کرنے کا اعلان بھی کرتا رہتا تھا چنانچہ امریکا کے لیے یہ روٹ بند تھا‘ دوسرا روٹ لٹویا کی بندر گاہ تھا‘ نیٹو کنٹینرز ریگا آئیں‘ وہاں سے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے قازقستان اور ازبکستان آئیں اور وہاں سے افغانستان آ جائیں‘ یہ روٹ طویل بھی تھا اور اس پر چار گنا اخراجات بھی آتے تھے‘ پاکستان تیسرا روٹ تھا‘ نیٹو سپلائی بحری جہازوں کے ذریعے کراچی پہنچے اور وہاں سے آدھا سامان چمن کے ذریعے قندھار پہنچ جائے اور آدھا طورخم کے ذریعے جلال آباد اور کابل‘ یہ روٹ آسان بھی تھا اور سستا بھی‘ پاکستان امریکا کی اس مجبوری سے واقف تھا۔

یہ جانتا تھا امریکی ہماری مدد کے بغیر افغانستان پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی نکل سکتے ہیں چنانچہ ہم 1980ء سے امریکا کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے رہے اور آج بھی اٹھا رہے ہیں‘ امریکا کی دوسری مجبوری ایران تھا‘ امریکا نے 1979ء کے انقلاب ایران کے بعد ایران پر حملے کا منصوبہ بنایا‘ امریکا کے پاس اس حملے کے لیے دو روٹ تھے‘ ترکی اور پاکستان‘ ترکی نے اس جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا‘ ترکی کے انکار کے بعد امریکا کے پاس صرف ایک آپشن بچا اور یہ آپشن پاکستان تھا‘ پاکستان امریکا کی اس مجبوری سے بھی واقف تھا چنانچہ اس نے امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھا لیے جب کہ یہ ایران سے فاصلے پر چلا گیا اور ایران ہماری اس پالیسی سے آگاہ تھا‘ یہ جانتا تھا پاکستان ایران پر حملے کے لیے امریکیوں کو مدد دے گا‘ پاکستان نے اس ’’مدد‘‘ کے سلسلے میں بلوچستان میں فوجی چھائونیاں بنانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا‘ ہم نے امریکی امداد سے سڑکیں بھی بنائیں اور پاک ایران سرحد پر ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی جہاں سے امریکی فوجی بڑی آسانی سے تہران تک جا سکتے تھے۔

ایران ہماری امریکا نواز پالیسی کی وجہ سے ہم سے ناراض ہو گیا اور اس نے ہمارے دشمن بھارت کے ساتھ دوستی بھی لگا لی اور اسے اپنی سرزمین کے ذریعے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کا موقع بھی دے دیا‘ انڈیا اور ایران پچھلے 20 برسوں میں ایک دوسرے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں‘ پاکستان میں اہل تشیع پر حملوں کی وجہ سے بھی پاک ایران تعلقات انتہائی خراب ہیں لیکن ہم ممکنہ ایران جنگ کی بنیاد پر امریکی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہے‘ پاکستان کا ایٹم بم امریکا کی تیسری مجبوری تھا‘ امریکا کو خطرہ تھا پاکستان امریکا کے ہر دشمن کو ایٹمی طاقت بنا دے گا‘ یہ عراق کو بھی جوہری راز دے گا‘ لیبیا کو بھی اور شمالی کوریا کو بھی اور پاکستان کا یہ قدم امریکا کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا‘ ہم امریکا کی اس مجبوری سے بھی واقف تھے چنانچہ ہم جان بوجھ کر کبھی ایران کی جوہری مدد شروع کر دیتے‘ کبھی عراق اور لیبیا کی اور کبھی شمالی کوریا کی جوہری حوصلہ افزائی شروع کر دیتے اور یوں امریکی گھبرا کر ہماری ’’مدد‘‘ پر مجبور ہو جاتے لیکن اب ایسا نہیں ہو سکے گا‘ کیوں؟ اس کیوں میں ہمارا مستقبل پوشیدہ ہے۔

امریکا پچھلے دس برسوں میں بتدریج ان مجبوریوں سے آزاد ہوتا چلا گیا‘ یہ 2001ء میں ہماری مدد سے افغانستان آیا لیکن شاید اب اسے افغانستان سے نکلنے کے لیے ہماری مدد کی ضرورت نہ رہے‘ امریکا نے 2002ء سے افغانستان کے چار بڑے روٹس پر سڑکوں کا جال بچھا دیا‘ یہ سڑکیں ایران کی سرحد تک جاتی ہیں‘ یہ سڑکیں جب بن رہی تھیں تو دنیا کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس غلط فہمی کا شکار تھے‘ امریکا ایک طویل اور بڑی ایرانی جنگ کے انتظام میں مصروف ہے‘ امریکا افغانستان اور پاکستان دونوں طرف سے ایران کو گھیر رہا ہے لیکن 24 نومبر2013ء کو جب امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوا تو ہم پر اچانک آشکار ہوا امریکا جنگ نہیں بلکہ ایران کے راستے افغانستان سے نکلنے کی تیاری کر رہا تھا‘ ایران کی سڑکیں اور ریل سسٹم ہم سے ہزار گنا بہتر اور سبک رفتار ہے‘ امریکا اب اپنے کنٹینرز افغانستان سے ایران لائے گا اور ایرانی بندر گاہ چاہ بہار سے یہ کنٹینرز واپس لے جائے گا اور یوں اسے افغانستان سے نکلنے کے لیے ہماری ضرورت نہیں رہے گی‘ ایران نے اپنا جوہری پروگرام سرینڈر کر کے بھی امریکا ایران جنگ کا امکان ختم کر دیا‘ امریکا اور ایران کے درمیان اب جنگ نہیں ہوگی چنانچہ امریکا کو اب اس جنگی محاذ کے لیے بھی ہماری ضرورت نہیں رہی‘ امریکا کی یہ مجبوری بھی ختم ہو چکی ہے‘ ہمارا جوہری پروگرام امریکا کی تیسری مجبوری تھا مگر امریکا نہایت دانشمندی سے اس مجبوری سے بھی آزاد ہو گیا۔

اس نے دکان بند کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ گاہک ختم کر دیے‘ صدام حسین اور کرنل قذافی ہمارے جوہری پروگرام کے سب سے بڑے خریدار تھے‘ امریکا نے یہ دونوں گاہک قتل کر دیے‘ ایران ہمارا تیسرا گاہک تھا‘ ایران اور امریکا کے تازہ ترین معاہدے کے بعد یہ گاہک بھی ختم ہو گیا اور شمالی کوریا ہمارا چوتھا گاہک تھا‘ امریکا اور شمالی کوریا کے سفارتی تعلقات بھی تیزی سے ٹھیک ہو رہے ہیں‘ آپ عنقریب امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بھی ایران امریکا جیسا معاہدہ دیکھیں گے چنانچہ دنیا میںاب ہمارے بانس کے خریدار ختم ہو چکے ہیں‘ امریکا نے گاہکوں کے خاتمے سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے سائنس دانوں اور پاکستانی ریاست کے درمیان اختلافات پیدا کرا دیے اور ان اختلافات کی وجہ سے پاکستانی ریاست نے وہ تمام اہم لوگ سائیڈ لائن کر دیے جو دنیا کو جوہری خواب بیچ سکتے تھے اور ہماری ریاست ان بکتے ہوئے خوابوں کی بنیاد پر امریکا کو بلیک میل کر سکتی تھی چنانچہ امریکا اس تیسری مجبوری سے بھی آزاد ہو گیا اور پیچھے ہم رہ گئے‘ ہم تنہا‘ مایوس اور پریشان حال لوگ۔

آپ اب ان حالات کو سامنے رکھ کر پاکستان کی داخلی اور خارجی صورتحال کا جائزہ لیجیے‘ ہماری معیشت پوری طرح امریکی امداد پر منحصر ہے‘ امریکا آج ہمیں کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم نہ دے‘ یہ آئی ایم ایف کی قسط روک لے اور یہ ہمارا ایکسپورٹ کوٹہ کم کر دے تو ہم معاشی خودکشی تک پہنچ جائیں گے‘ امریکا نے 2004ء سے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان پر جنگ مسلط کر رکھی ہے‘ ہم اس جنگ پر خاموش رہنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے‘ ہم جس دن ڈرون گرائیں گے‘ امریکا اسی دن ہم سے سفارتی ناتا توڑ دے گا اور ہم معاشی مسائل کا شکار ہو جائیںگے اور ہم اگر ڈرون حملوں پر خاموش رہتے ہیں تو طالبان کے زور میں اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ ایک دن ملک کو ’’ٹیک اوور‘‘ کر لیں گے‘ دنیا کی خفیہ طاقتیں پانچ سال سے ہمارے عسکری اداروں کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہیں‘ جی ایچ کیو پر حملے‘ مہران بیس‘ کامرہ بیس‘ دو مئی کے ایبٹ آباد آپریشن اور فوجی جوانوں کے اغواء اور ہلاکت کے ذریعے ہمارے عوام کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی گئی ہماری فوج اتنی مضبوط نہیں جتنا ہم گمان کرتے ہیں۔

یہ تاثر بھارت اور افغانستان کو بھی دے دیا گیا چنانچہ یہ دونوں ملک ہماری فوج کے نفسیاتی خوف سے نکل گئے اور آج بھارت ایل او سی پر کھلی فائرنگ کرتا ہے‘ الٹا ہم پر فائرنگ کا الزام لگاتا ہے اور ہم جواب تک نہیں دے پاتے‘ پاکستان کے اندر ایک خاص اور متواتر عمل کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلائی گئی‘ اس کے نتیجے میں آج ملک میں شیعہ محفوظ ہیں اور نہ ہی سنی‘مسجدیں اور امام بارگاہیںقربان گاہیں بنتی جا رہی ہیں‘ ایک مسلسل عمل کے ذریعے صوبوں کے درمیان اختلافات کو بھی انتہا تک پہنچا دیا گیا‘ آج صوبوں کے اندر لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری ہو رہی ہے‘ پاکستان میں جمہوریت آگئی مگر پچھلے چھ برسوں میں یہ ثابت کر دیا گیا ہماری سیاسی قیادت نااہل بھی ہے اور بے ایمان بھی۔ یہ ملک کو مسائل سے نہیں نکال سکتی‘ پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا گیا‘ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے چنانچہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار سرمائے سمیت غائب ہو گئے۔

یہ بھی ثابت کر دیا گیا حکومت کے پاس بجلی‘ گیس اور دہشت گردی کا کوئی حل نہیں اور ملک میں ان سب سے بڑھ کر طالبان کی شکل میں ایک ایسی خوفناک طاقت پروان چڑھا دی گئی جس کی وجہ سے فوج کے اعلیٰ عہدے داروں سے لے کر ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کو جانوں کے لالے پڑ گئے‘ امریکا ان حالات میں 2014ء میں خطے سے نکل جائے گا۔ امریکا کے جانے کے بعد ہماری فوج کو بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان اور ایران کی سرحدوں پر بھی بیٹھنا ہوگاجب کہ ہمارے ملک کے اندر طالبان‘ صوبائیت‘ شیعہ سنی فسادات اور حکومتی نااہلی چار محاذ کھل جائیں گے اور ان چاروں محاذوں پر خوفناک جنگ شروع ہو جائے گی‘ یہ جنگ یقینا خوفناک ہو گی مگر اس سے زیادہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اس جنگ کے لیے تیار ہی نہیں ہیں‘ ہم آج بھی بے وقوفوں کی جنت میں پودینے کے باغ کاشت کر رہے ہیں اور ان باغوں پر پینگ لگا کر جھولے لینے کے منصوبے بنا رہے ہیں‘ کاش کوئی آج اس سوئے ہوئے معاشرے اور بے حس لیڈر شپ کو جگا دے، کوئی ان کے کان میں پھونک مار کر کہہ دے اٹھ جائو‘ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے والو‘ اٹھ جائو‘ شہادت کا وقت آ چکا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں