.

جنرل راحیل شریف کو درپیش چیلنج

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شخصی اوصاف کے لحاظ سے جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ جنرل پرویزمشرف سے یکسر متضاد شخصیت کے حامل تھے۔ اول الذکر لکھنے پڑھنے کے بے حد شوقین اور ثانی الذکرکتاب سے دور بھاگنے والے‘ پرویز کیانی زیادہ سوچتے اور کم بولتے تھے جبکہ ثانی الذکر کم سوچنے اور زیادہ بولنے پہ یقین رکھتے ہیں۔ کیانی صاحب اصلاً سیاستدان تھے ‘ سیاست کو سمجھتے تھے اور سیاست پر نظر رکھتے تھے لیکن عملی سیاست سے خود کو دور رکھتے تھے اس کے برعکس پرویز مشرف خالص فوجی تھے اور سیاسی حرکیات کی انہیں مشکل سے سمجھ آتی تھی لیکن وہ عملی سیاست کی کوشش کرتے رہے ۔ تاہم اس تفاوت کے باوجود پرویز کیانی کے دور کو پرویزمشرف کے دور کا تسلسل گردانا جاتا رہا۔

انہیں پرویز مشرف نے ڈی جی آئی ایس آئی اورپھر آرمی چیف مقرر کیا ‘ اس لئے ان کے دور کو اُن کے دور کا تسلسل سمجھا جاتارہا ۔آرمی چیف بننے کے بعد اِس پرویز نے اُس پرویز سے اپنے آپ کو الگ رکھنے اور ثابت کرنے کی حتی الوسع کوشش کی لیکن شریف برادران اِس پرویز کے دور کو اُس پرویز کے گروپ کا ہی سمجھتے رہے یہی وجہ ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت آنے تک پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کرنے سے گریز کیا جاتا رہا اور اسی وجہ سے جنرل راحیل شریف کے آرمی چیف بننے کو مشرف دور کے خاتمے اور شریفوں کے حقیقی اقتدار کے آغاز سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ جنرل راحیل شریف کا فوجی کیرئیر شاندار رہا ہے ۔ کہتے ہیں کہ سنیارٹی نہیں لیکن میرٹ پر آرمی چیف کے منصب کیلئے موزوں ترین تھے۔ تاہم چونکہ شریف بھی تھے اور لاہوری بھی ‘ اس لئے یہ خصوصیات سونے پر سہاگہ بن گئیں اور وہ شریف برادران کے حسن انتخاب ٹھہرے ۔ دنیا کی اہم ترین افواج میں سے ایک کی کمانڈ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ یہ سعادت نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے لیکن اس منصب کے تقاضے بھی غیرمعمولی ہیں۔ اس منصب کا صحیح استعمال کیا گیا تو پاکستان کی اس سے بڑھ کر خدمت کوئی نہیں ہوسکتی اور اگر غلط استعمال کی غلطی دہرائی گئی تو اس سے بڑھ کر پاکستان کے ساتھ زیادتی کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس منصب کے تقاضے پورے کئے گئے تو جو عزت و تکریم حصے میں آئے گی ‘ اس کی کوئی مثال نہ ہوگی لیکن اگر تقاضوں سے انحراف یا پھر اس منصب کا غلط استعمال کیا گیا تو یحییٰ خان اور پرویز مشرف بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔ یوں اعزاز کے ساتھ ساتھ یہ منصب بڑی آزمائش بھی ہے اور ان دنوں تو خصوصیت کے ساتھ بہت بڑی آزمائش بن گئی ہے ۔ ہر طرف چیلنج ہی چیلنج ہیں جن کا جنرل راحیل شریف کو سامنا کرنا پڑے گا ۔

سب سے بڑا چیلنج اِس شریف کو اس شریف (میاں نوازشریف) کے ساتھ تعلقات کار کا درپیش ہوگا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ فوجی سربراہوں کے ساتھ میاں نوازشریف کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ۔ ماضی میں یہ اختلاف عموماً شخصی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر جنم لیتا تھا لیکن آج کے میاں نوازشریف کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے تصورات بھی فوج کے روایتی تصورات سے کافی مختلف ہیں ۔ایک فوجی سربراہ کے ہاتھوں گرفتاری اور جلاوطنی کی وجہ سے جو تلخیاں جنم لے چکی ہیں ‘ وہ پوری طرح ذہنوں سے محو نہیں ہوں گی ۔ اس تناظر میں میاں نوازشریف کی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات کار کا قیام جنرل راحیل شریف کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ دوسرا بڑا چیلنج ملک کے اندر دہشت گردی اور انتہاپسندی کا درپیش ہے ۔ کسی بھی فوج کے لئے ملکی سرحدوں کے اندر اپنے ہی شہریوں سے لڑنا مشکل ترین کام ہوا کرتا ہے اور بدقسمتی سے پچھلے گیارہ سال سے پاکستانی فوج اس ناخوشگوار ڈیوٹی کو سرانجام دے رہی ہے ۔

جو جوان قبائلی علاقوں‘ سوات ‘ کراچی اور بلوچستان وغیرہ میں مصروف عمل ہیں ‘ وہ ایک بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں ان کیلئے دوست اور دشمن کی تفریق کرنا مشکل ہے تو باقی ملک میں ان کی قربانیوں کا اس طرح اعتراف نہیں کیا جارہا جس طرح کہ وہ توقع کررہے ہیں۔ اسی طرح ان حوالوں سے اس وقت پوری قوم بدترین کنفیوژن کی شکار ہے اور سیاسی حلقے یہ الزام لگارہے ہیں کہ یہ کنفیوژن فوج کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے ۔ اس آزمائش سے افواج پاکستان کو نکالنا اوراس کنفیوژن سے قوم کو نکالناجنرل راحیل شریف کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج ہے ۔ تیسرا بڑا چیلنج ہندوستان کے ساتھ کشیدگی یا پھر امریکہ اور افغانستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات ہیں ۔ ان محاذوں پر ماضی میں روایتی حربی طریقوں سے مقابلے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں پاکستان کو کئی ابہام اور تضادات کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات فوج قربانیوں کے باوجود ان محاذوں پر کامیاب قرار نہیں پاتی۔

ان ابہاموں اور تضادات کو روایتی سوچ کے ساتھ ختم نہیں کیا جاسکتا اور ان محاذوں پر غیرروایتی اور انقلابی سوچ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تیسرا بڑا چیلنج امریکہ‘ بھارت اور افغانستان سے متعلق فوج اور سول قیادت کی سوچ میں ہم آہنگی لانے کا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حوالوں سے عسکری اور سیاسی قیادت کی سوچ میں بعدالمشرقین ہے ۔ ماضی میں صرف بائیں بازو کی سیاست قیادت کی سوچ عسکری سوچ سے ہم آہنگ نہیں تھی اور دائیں بازو کی جماعتیں ان معاملات میں کارندوں کا کردار ادا کرتی تھیں لیکن موجودہ پالیسیوں پر دائیں بازوں کی جماعتیں بھی معترض ہیں اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی ان کو نقصان دہ سمجھتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی عسکری قیادت ان حوالوں سے کس سطح پر مکالمہ کراتی اور اس کے نتیجے میں کس طرح قومی ہم آہنگی اور یکسوئی کی منزل حاصل کرتی ہے ۔ چوتھا چیلنج عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ فوج کے تعلقات کے ضمن میں ابھرنے والے نئے رجحانات کا ہے ۔ ماضی میں یہ دونوں ادارے فوج کے لئے مہروں کے طور پر استعمال ہوتے رہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے ان دونوں اداروں نے جس فعالیت کا مظاہرہ شروع کیا ہے‘ اس کی وجہ سے بعض اوقات دفاعی اداروں کے ساتھ بھی چپقلش پیدا ہوجاتی ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کا مقدمہ اور مسنگ پرسنز جیسے کیسز عدلیہ کے ساتھ تنائو کا موجب بن سکتے ہیں۔

اس تنائو کے خاتمے کے مواقع بھی موجود ہیں اور یہ ٹکرائو کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے ۔اسی طرح پارلیمنٹ بھی اپنی بالادستی کی کوشش میں عسکری اداروں کے روایتی کردار کو محدود کرنے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی عسکری قیادت باقی ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کرتے ہوئے کس طرح سول ملٹری تعلقات کو نئے اور مستحکم بنیادوں پر مستحکم کرتی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے دور میں فوج کے امیج کی بحالی کے لئے کئی مستحسن اقدامات اٹھائے اور بڑی حد تک فوج کو سیاست سے دور رکھا لیکن سول سوسائٹی اور سیاسی و صحافتی حلقوں کے ذہنوں میں کئی حوالوں سے شکوک اور اعتراضات اب بھی موجود ہیں ۔ خود میاں نوازشریف کو یقین ہے کہ پچھلے سالوں کے دوران عسکری اداروں کی طرف سے تحریک انصاف کو سپورٹ کیا گیا ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے اچانک ظہور اور سرگرمیوں کو اکثر سیاسی حلقے خفیہ اداروں کی کرامت سے تعبیر کرتے رہے ۔ ان شکوک و شبہات کو ختم کرنا ‘ فوج کو سیاست سے مکمل طور پر الگ کرنا اور تمام سیاسی ‘ مذہبی‘ لسانی‘ علمی اور صحافتی حلقوں میں فوج اور اس کے اداروں کو یکساں طور پرغیرمتنازعہ اور قابل احترام بنانا ‘ بھی نئی فوجی قیادت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.