.

طیب اردوان کا سیاسی مستقبل

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے ہاں آج کل ترکی کا بہت چرچا ہے۔ حتیٰ کہ ایک غیر سرکاری تنظیم نے پچھلے دنوں پاکستان کے چوٹی کے پارلیمینٹرینز کے ایک وفد کو ترکی بھیجا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ ترکی میں کیسے جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے اور ریاست کیسے فلاحی ہوتی جا رہی ہے۔

میرے لیے ترکی کی معاشی ترقی کوئی خبر نہیں کیوں کہ پچھلی دو دہائیوں سے دو باتیں ترکی کے سیاسی ایجنڈے پر تھیں، اوّل More Democracy اور دوسری بات کہ ہم (ترکی) اگلے پندرہ برسوں میں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوں گے۔ ترکی کی جمہوریت، جدیدیت اور معاشی ترقی کا سفر پچھلی نودہائیوں سے جاری ہے، اس دوران اس سفر میں متعدد بار رکاوٹیں بھی کھڑی ہوئیں لیکن ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد آئینی حکومت، سیکولر سماج اور فلاحی ریاست ہونے پر رکھی گئی تھی۔

اس سفر میں ترک قوم نے ایسی رکاوٹوں کو جذبات کی بجائے تدبر سے پار کیا، جس میں علاقائی تنازعات میں الجھنے سے حتی الوسع بچنے کی کامیاب کوششیں کی گئیں۔ ترک قوم نے جمہوریت اور انسانی آزادیوں کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ جب ہمارے ہاں فوجی آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی داستانیں بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ہم نے آمریتوں کے خلاف ایسی جدوجہد کی ہے کہ جس کی کہیں کوئی مثال ہی نہیں ملتی تو میں اکثر ترکی کے دوسرے اور تیسرے مارشل لاء کے خلاف وہاں کے عوام کی جدوجہد کا ذکر کرتا چلا آیا ہوں۔معاشی ترقی ترکی کے قومی سفر کا ایک حصہ ہے، انہوں نے اس دوران جمہوری، عوامی فلاح، ریاست کے فلاحی ہونے اور تہذیبی ترقی کا بھی ایک شان دار سفر کیا ہے۔ ترک قوم میں ایک نمایاں رحجان پایا جاتا ہے کہ وہ قومی مفادات میں کسی عسکری قیادت، سیاسی قیادت حتیٰ کہ مذہبی قیادت کی آمرانہ پالیسیوں کا لحاظ نہیں کرتے۔

اگر وہاں آج ایک سیاسی رہنما مقبولیت کی بلندیوں پر ہے تو اگلے انتخابات میں اس کی پارٹی ایک فیصد سے بھی کم ووٹ لے سکتی ہے، یہی ترک جمہوریت کا حسن ہے۔ وہاں پر سیاسی موروثیت سلیمان ڈیمرل کا خاندان، عدنان میندرس کا خاندان، جلال بیار کا خاندان، بلند ایجوت کا خاندان، ترگت اوزال کا خاندان، تانسو چلر کا خاندان، کنعان ایورن کا خاندان، جیسے سیاسی خانوادے نظر نہیں آئیں گے جیسے کہ ہمارے ہاں یہ سیاسی مرض ہماری قومی جڑوں میں سرایت کر چکا ہے۔ وہاں یہ خاندان تو کجا سیاسی بت (Political Cults)وقتی طور پر ابھرتے اور وقت آنے پر ختم ہوجاتے یا اپنا کردار کرنے کے بعد صرف سیاسی کہانیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا کہ جدید ترک ریاست کی بنیاد ایک نئی قوم کے تصور پر رکھی گئی، بالکل جیسے ان کے پڑوس یورپ نے ترقی کی منازل طے کیں تو سیاسی بت (Political Cults) ان کی سیاسی ثقافت کا حصہ نہ بن پائے اور یوں جمہوریت، فلاح، جدیدیت، ٹیکنالوجی، تعلیم ان معاشروں کی ترقی کا سبب بنیں، یہی کچھ ترکی میں نمو پا رہا ہے۔ وہاں پر جب بھی کبھی آمرانہ رحجانات ابھرے، عوام نے جمہوری انداز میں اس کو مسترد کر دیا۔

اسی لیے میں ہمیشہ عرض کرتا چلا آیا ہوں کہ ترک ریاست، سیاست اور سماج تینوں اپنی سطح پر Democratized ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں ترکی کے بارے میں جو تصورات قائم کیے جارہے ہیں ،وہ حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ خواہشات، جذبات اور اپنے تعصب میں گندھے تصورات ہیں، یعنی مبالغے اور مغالطے۔ گزشتہ ہفتے، میں پھر ترکی کے دس روزہ سفر پر تھا۔ وہاں پر خدمت تحریک کے ایک ایسے رہنما سے تفصیلی ملاقات ہوئی جو خدمت تحریک کے بانی جناب فتح اللہ گلین کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈنر پر تین گھنٹوں پر مشتمل اس ملاقات میں انہوں نے جوکچھ میرے ساتھ Share کیا، اگر صفحات پر منتقل کر دوں تو ہمارے ان لوگوں کا دل ٹوٹ جائے گا جو ترکی کی موجودہ قیادت کو شخصیت پرستی کے سانچوں میں دیکھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ خدمت تحریک یا گلین تحریک (فتح اللہ گلین) کے اراکین ہی وہ لوگ تھے، جو نجم الدین اربکان مرحوم کی سعادت پارٹی سے علیحدہ ہونے والے رجب طیب اردوان کی نئی پارٹی (AKP) کی کامیابی کا سبب بنے۔ فتح اللہ گلین کے ان قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ اردوان کو قدرت نے شان دار موقع دیا کہ وہ ترکی میں معاشی ترقی کے بیشتر منصوبوں کے افتتاحی فیتے کاٹ رہے ہیں۔

ترکی جو ہمیشہ ہی علاقائی تنازعات سے اجتناب برتتا آیا اور موجودہ حکومت کے وزیر خارجہ اور میرے ذاتی دوست احمت دعوت اولو نے تو Zero Conflict کتاب بھی لکھی اور اپنی خارجہ پالیسی کو Zero Conflict کے شان دار اصول پر کھڑا کرتے ہوئے ایران، آرمینیا، روس، بلغاریہ، یونان، عراق، شام اور دیگر علاقائی ممالک سے دوستی کا آغاز کیا لیکن وقت آنے پر اردوان حکومت شام پر حملے کے لیے اپنے اتحادی امریکہ سے بھی زیادہ بے چین نظر آئی اور شام حکومت مخالف گروہوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر مسلح کرنا شروع کر دیا تو اسے خطرے کی گھنٹیاں قرار دیا گیا اور یہ سوال اٹھا کہ جرمنی اپنے وقت کی برطانیہ اور امریکہ سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست تھی لیکن جنگ مسلط کرنے کی پالیسی نے اس جرمن ریاست کو ملیا میٹ کر دیا۔ فتح اللہ گلین جیسے مذہبی اور سماجی سکالر نے اردوان حکومت کی اس پالیسی کی مخالفت کی بلکہ فتح اللہ گلین موجودہ وزیراعظم کی لیبیا سے متعلق پالیسی پر بھی خوش نہیں اور نہ ہی مصر میں ان کی مداخلت پر۔ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت جو معاشی ترقی کا سہرا اپنے سر سجاتے ہوئے دنیا بھر سے داد وصول کررہی ہے، اگر ہم ترکی کے اندر دیکھیں تو حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

وزیراعظم جناب طیب اردوان، ترکی کی تاریخ میں ایسے واحد مقبول رہنما ہیں جو تسلسل سے تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔ وزارت عظمیٰ کے تیسرے دور میں ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ Authoritative انداز میں حکومت کر رہے ہیں، اسی لیے وہاں کے سوشل ڈیمو کریٹک اور بائیں بازو کی جماعتیں اور دانشور ہی ان پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ دائیں بازو اور اسلامی رحجان رکھنے والے اہل فکر بھی۔ گیزی پارک سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو حکومت نے چن چن کر اُن طلبا، اساتذہ، فنکاروں، اداکاروں، لکھاریوں اور صحافیوں پر مقدمات بنانے شروع کر دیئے جن پر ان مظاہروں میں شامل ہونے یا انہیں منظم کرنے کا الزام تھا۔ حتیٰ کہ اس امام مسجد کو بھی دھر لیاگیا جس نے آنسو گیس کے شکار مظاہرین کو مسجد میں پناہ دی اور وہ امام مسجد اب ترکی میں ہیرو کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ وہ اپنے موقف پر مضبوط ہیں کہ مسجد خدا کا گھر ہے ،مجھے یہ نہیں دیکھنا کہ جن کو پناہ دی وہ اچھے مسلمان ہیں یا نہیں۔ جناب طیب اردوان اپنی پارٹی کے آئین کے مطابق چوتھی بار وزیراعظم منتخب نہیں ہو سکتے، امکان ہے کہ وہ آئندہ اگست میں صدارت کے امیدوار ہوں گے۔ لیکن ان کے سیاسی قیادت کے اختیارات میں اس وقت شدید شگاف پڑنا شروع ہو گئے جب گزشتہ ہفتے انہوں نے دو اہم اعلانات فرمائے ایک یہ کہ خواتین اور مرد طلبارہائشی حوالے سے ایک چھت تلے نہیں رہ پائیں گے اور دوسرا یہ کہ ہائی سکولز اور یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے موجودہ چارہزار پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند کر دیئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ ایسے 25 فیصد پرائیویٹ تعلیمی ادارے گلین تحریک کی ملکیت ہیں۔

ان احکامات کے بعد جہاں فتح اللہ گلین جیسے دھیمے مزاج کے سکالر کا احتجاج محفلوں میں زیر بحث ہے، وہاں پر حکومتی پارٹی (AKP) کے منتخب اراکین بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق پچاس سے زائد حکومتی اراکین اسمبلی اپنی حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف ہیں اور اس طرح میڈیا نے بھی جس پر دائیں بازو اور حکومت دوست ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے، وزیراعظم طیب اردوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ حکومت کے ترجمان اور نائب وزیراعظم بلند آرنجی بھی ان میں شامل ہیں۔ مارچ 2014ء میں ترکی میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں اور حکومت کے کرتا دھرتا اپنے قائد طیب اردوان کے ان احکامات اور پالیسیوں کو حکومتی پارٹی (AKP) کی مقبولیت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ اعلیٰ سیاسی محفلوں میں صدر عبداللہ گل کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ان واقعات سے مطمئن نہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ مارچ 2014ء میں بلدیاتی انتخابات موجودہ وزیراعظم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اہم ثابت ہوں گے کہ کیا AKP موجودہ قیادت کی بجائے نئی قیادت کو سامنے لے آئے یا پھر اپوزیشن پارٹی (CHP) اس خلا کو پورا کرے گی۔ بس اتناعرض ہے کہ ترکی ایک متحرک جمہوری سماج ہے, وہاں پر حالات اور سماج تیزی سے بدلتے ہیں اور مزید جمہوریت کی جانب سفر جاری رہتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.