.

فوج کے سربراہ کی تعیناتی اور میڈیا کا رویہ

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا یہ کسی مسیحا، جس کا یہ جاں بلب قوم انتظار کر رہی تھی، کی آمد کا غوغا ہے ؟ جب نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر میڈیا میں بپا جوش و خروش پر دھیان جائے تو ایسا لگتا ہے کہ معجزانہ طور پر اس قوم کی کایا پلٹ رہی ہے۔ سنجیدہ اور فکر مند چہروں والے مبصرین اور تجزیہ کار دانائی کی چادر اُوڑھے عوام کو اپنی ماہرانہ آراء سے محظوظ کر رہے ہیں... جب تفریح کا یہ عالم ہو تو کو ن کہہ سکتا ہے کہ ہم ایک بیمار معاشرہ ہیں؟ بالکل درست، لیکن جب عوام کو روز مرّہ کی عام اشیا، جیسا کہ کھانے کو ٹماٹر، پیاز اور آلو بھی دستیاب ںہیں تو کیا اُنہیں واقعی ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ ہمارا سپہ سالار کون ہو گا؟ کیا وہ زمینی مبادیات سے بے نیاز ہو کر آفاقی معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کر چکے ہیں؟

اس وقت جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے، تاہم ایک سوچ دل میں جاگزیں ہوتی ہے کہ اگر دنیا میں واقعی کہیں انصاف ہو تو اُنہیں اس بات کی سزا ضرور ملنی چاہئے کہ اُنھوں نے پاکستانی میڈیا کو اتنی آزادی کیوں دے دی... اگرچہ میڈیا اس حقیقت کا اعتراف کرنے کی جرأت نہیں رکھتا۔ عام طور پر میڈیا پنڈت آزادی ِ اظہار کے لئے اپنی سرفروشی کی دیومالائی داستانیں سنانے بیٹھ جاتے ہیں، لیکن بہر ِ خدا، اس مقدس جگہ کی بھی نشاندہی کردیا کریں جو اس جدوجہد میں آپ کے خون سے تر ہوئی۔ وہ کون سی سنگلاخ برف پوش چوٹیاں تھیں جو آپ نے ننگے پائوں سرکیں ، کون سی حکایات ِ خونچکاں آپ کے صریر ِ خامہ سے نوائے سروش قرار پائیں اور وہ کون سا جبر ِ مسلسل تھا جس کے نتیجے میں ہر آن فروغ پاتی ہوئی الیکٹرونک صحافت قائم ہوئی؟ تاریخ کی درستی کے لئے کچھ تو فرمائیے!

آج میڈیا پر جس دیوانگی کا برملا اظہار ہوتارہتا ہے اس کے پیچھے کمرشل مسابقت کے سوا اور کوئی جذبہ کارفرما نہیں ہے۔ دنیاکے اور کون سے ملک میں متوقع آرمی چیف کے موضوع کو اس قدر اچھالا جاتا ہے یا اس پر اتنی موشگافیاں کی جاتی ہیں؟یہ مانا کہ ہمارے ہاں فوجی حکمرانوں کی طرف سے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹے جانے کی ایک تاریخ ہے لیکن ایک نئے آرمی چیف کی آمد سے ملک کے مستقبل کا کیا تعلق ہے؟جب بھٹو نے جنرل ضیاء کو آرمی چیف بنایا تو یقیناً وہ مارشل لا لگانے کے لئے پر نہیں تول رہے تھے۔ نہ ہی جنرل مشرف کے ذہن کے نہاں خانوں میں آنے والے دنوں کے حالات ہوں گے جب کچھ افراد نے نواز شریف کے کان میں ان کے نام کی سرگوشی کی۔

یقیناً ہمارے آرمی چیفس میں سے کسی کی فطرت میں بھی مارشل لا لگانے کی تحریک ودیعت نہیں کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور لمحات اچانک وارد ہونے والے حالات کی بھٹی میں ہی ٹکسال اور فعال ہوتے ہیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ کس دفاعی و عسکری حکمت ِ عملی کے تحت جنرل مشرف کارگل کی پہاڑیوں پر جا چڑھے۔ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ اس ایک جست نے... ’’طے کر دیا قصہ تمام‘‘۔ تاہم یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ جب فوج کی ہائی کمان نے اوجڑی کیمپ میں اس وقت کے وزیر ِ اعظم کو آپریشن کی جن تفاصیل سے آگاہ کیا تو وہ اُن کے سر سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے گزر گئیں جبکہ موصوف نے بعد میں نہایت سنجیدگی سے پیش کیے جانے والے سینڈوچز کی تعریف کی۔ وا و عالم، پتہ نہیں یہ بات سچ ہے یا جھوٹ لیکن شنید یہی ہے۔

یہ بات یقینی ہے کہ اُس وقت جنرل مشرف سے سخت سوال نہیں پوچھے گئے تھے ، چنانچہ اُنھوں نے بھی جتنا مناسب سمجھا ہو گا بتادیا ہوگا کہ’’ظرف ِ قدح خوار ‘‘ بھی تو دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت معاملات کی سنگینی کی تفہیم کے قابل ہوتی تو وہ وقت تھا جب آرمی چیف کو برطرف کر دیا جاتا، نہ کہ چھ ماہ بعد جب دائو الٹا پڑ گیا اور ، بقول یوسفی صاحب...’’پھونک مارنے میں گھوڑا پہل کر گیا۔‘‘ لیکن جب آپ ایک مناسب حد سے آگے سوچنے کے قابل نہ ہوں تو ہر قدم پر ہزارہا پیر ِ تسمہ پاآپ کی گھات میں رہتے ہیں، چنانچہ افتادگی کا شکوہ کس سے کریں؟1977 میں بھٹو کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔ جب انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا تواُنھوں نے کابینہ کے اجلاس میں فوجی افسران کو بلانا شروع کردیا۔ وہ سیاسی قیادت کی کمزوری کو بھانپ گئے اور ایک دوسرے کو اشارں کنایوں میں بہت کچھ سمجھانا شروع کر دیا(مولانا کوثر نیاز ی نے اپنی کتاب ’’اور لائن کٹ گئی‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے)۔ اس کے بعد بھٹو حکومت کا تختہ الٹا جانا یقینی ہوچکا تھا۔

بہرحال آج ان تلخ یادوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود جمہوریت اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ آئندہ کوئی فوجی حکمران، کسی بھی حالات میں، اس پرشبخون نہیں مارے گا۔ تاہم اس دوران میڈیا میں یہ بات بھی تواتر کے ساتھ کی جارہی ہے کہ...’’جنرل کیانی جمہوریت کے محافظ ہی نہیں چمپئن بھی ہیں۔‘‘کیا ایسا کہتے ہوئے یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ جنرل کیانی کے ماتحت کام کرنے والے خفیہ ادارے، اگر چہ وہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش نہیں کررہے تھے ، میڈیا کے ذریعے یہ بات مسلسل پھیلاتے رہے ہیں کہ آصف زرداری دبائو کی وجہ سے ملک چھوڑ کر فرار ہونے والے ہیں یا پھر اُن کا ذہن اس تنائو کی تا ب نہ لا سکے گا۔ تاہم سابقہ صدر ملک چھوڑ کر نہ گئے(گاہے بگاہے’ میڈیکل چیک اپ‘ کے لئے دوبئی جانا اور بات ہے) اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ملکی حالات اور افغانستان میں پیدا ہونے والی صورت ِ حال کی وجہ سے فوج کی طرف سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا ممکن نہ تھا۔ ان دنوں زرداری حکومت کو چلتا کرنے کے لئے میمو گیٹ کو آخری ’’سنجیدہ کوشش ‘‘ کے طور پر دیکھا گیا لیکن وہ دھماکہ خیز دکھائی دینے والی صورت ِ حال بھی چلا ہوا کارتوس ہی ثابت ہوئی اور واشنگٹن میں سفیر کے تبادلے کے علاوہ اس کا کوئی بھی انجام نہ ہوا۔

جنرل کیانی کو بہت سے عمدہ کاموں کا کریڈٹ دیا جاسکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے جنوبی وزیرستان اورسوات میں کامیاب آپریشن کرتے ہوئے فوج کا مورال بحال کیا، لیکن جمہوریت کے چمپئن ہونے کا میڈل ان کے سینے کو زیب نہیں دیتا۔ اگر کسی کے سر پر یہ تاج پہنایا جانا ضروری ہو تو وہ ’’حالات ‘‘ ہی ہیں۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ملازمت میں توسیع کے بعد جنرل کیانی تھکاوٹ کا شکار دکھائی دئیے اورملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے ان کی طرف سے کوئی نئی حکمت ِ عملی سامنے نہ آئی۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت کی مدت میں توسیع کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک ہی میدان میں خدمات سرانجام دیتے دیتے فوجی تھکاوٹ اور کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں ، اس لئے تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ اب یہ تبدیلی کا وقت تھا، چنانچہ راحیل شریف، جن کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے، بطور نئے آرمی چیف اپنی ڈیوٹی سنبھالیں گے۔ ان کے لئے نیک تمنا ہے کہ کامیابی ان کے قدم چومے۔

اس وقت ملک کو جن مشکلات نے گھیراہوا ہے ، ان سے عہدہ برا ہونے کے لئے ہمیں نہ صرف ایک باصلاحیت آرمی چیف کی ضرورت ہے بلکہ وہ ذہنی طور پر بھی اتنا قوی ہو کہ حکمرانوں کی بجائے قوم کی توقعات کو ملحوظ ِ خاطر رکھ سکے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آرمی چیف اس وسیع اسٹیج پر صرف ایک ایکٹر ہوتا ہے۔ وہ سیاسی قیادت کے سامنے آپشن رکھ سکتا ہے لیکن، جیسا کہ موجودہ صورت ِ حال ہے، وہ اسے ایکشن پر مجبور نہیں کرسکتا۔ یہ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ طالبان سے کیسے نمٹا جائے؟ان سے جنگ کی جائے یا مذاکرات کیے جائیں؟یا افغانستان سے امریکیوں کی روانگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت ِ حال سے کیسے نمٹاجائے ؟لیکن کیا سیاسی قیادت ان معاملات پر سوچ بچارکررہی ہے؟اس کے لئے ہمیں دست ِ دعا بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت وہ اہم معاملہ جو فوجی قیادت کی توجہ کا متقاضی ہے، وہ فوج کی ذہنیت میں تبدیلی کا عمل ہے۔ کیا نئے چیف فوج کے اعلیٰ افسران کے دل سے رئیل اسٹیٹ کی محبت کو قدرے کم کرپائیں گے؟ہم اپنے سیاسی نمائندوں پر شدید تنقید کرتے ہیں کہ بیرون ِ ملک اُنھوں نے دولت کے انبار جمع کررکھے ہیں لیکن کیا یہ بات کہنا گستاخی کے زمرے میں آتا ہے کہ ہمارے جنرل بھی نصف درجن پلاٹوں اور بہاولپور میں دومربع زمین کے بغیر زندگی گزارنا سیکھ لیں؟

اگر دیکھا جائے تو ہم ایک عجیب فوج رکھتے ہیں۔ ہمارے فوجی دستے دنیا کے خطرناک اورانتہائی سرد اور بلندترین محاذ جنگ پر جوش و جذبے کے ساتھ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارے فوجی جوان فاٹا کے مقتل میں سربکف ہیں ۔ یہ خدمات کسی بھی فوج کی پیشانی کا جھومر ہیں ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری فوج کے ہاتھ پراپرٹی کے کاروبار میں الجھے دکھائی دیتے ہیں۔ دنیاکی کوئی فوج، کم از کم اس پیمانے پر، ایسا نہیں کرتی ہے۔ تو پھر پاک فوج ایسا کیوں کررہی ہے؟اس وقت دنیا کی کون سی فوج پراکسی جنگ لڑنے والے گروہوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ یقیناً ماضی میں ا س کا ایک دور تھا لیکن اب یہ ایک نئی دنیا ہے۔ اب ’جہاد ‘ کے دور کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔ اس ضمن میں فوج نے زندگی کا ایک نیا باب شروع کرنا ہے۔ اب وقت آگیا ہے جب ریاست اور دفاعی اداروں کے خلاف لڑنے والوں کے لئے ’مجاہد ‘ کی اصطلاح استعمال نہ کی جائے کیونکہ یہ ان قاتلوں کی عزت افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ کیا جنرل شریف اس بات کا نوٹس لیں گے کہ کہیں ایسے ہی کچھ گروہوں کو ابھی تک ’’اثاثے ‘‘ تو نہیں سمجھا جا رہا ہے؟

جہاں تک جنرل ضیا کے فوج کے لئے ماٹو...ایمان، پرپیزگاری اور جہاد۔۔۔ کا تعلق ہے تو جنرل راحیل شریف اس کو چھیڑنا نہیں چاہیں گے کیونکہ ہمیں اپنی تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے کہ جس معاملے میں ایک مرتبہ مذہب استعمال ہوجائے ، اُس کی واپسی یا تبدیلی کی تمام راہیں مسدود ہوجاتی ہیں... یہاں تک کہ کوئی مصطفیٰ کمال جنم لے لے۔ کم ازکم جنرل شریف ایک چیز سے پرہیز فرما لیں جو جنرل کیانی کہا کرتے تھے کہ ’’پاکستان اسلام کا قلعہ ہے‘‘ تو بھی نوازش ہوگی۔ درحقیقت ہمیں اس وقت ایک پیشہ ور فوج کی ضرورت ہے ... ایک ایسی فوج جو ملک کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع کرنے کی الجھن میں نہ پڑے بلکہ اس کا مقصد صاف اور سیدھا سادہ ہو جو دنیا کی ہرفوج کا ہوتا ہے ، کہ فوج نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرنا اور اندرونی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.