امریکہ یا نو امریکہ

ڈاکٹر منظور اعجاز
ڈاکٹر منظور اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اور کراچی میں دھرنے اور جلوسوں سے ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کو پاکستانی سیاست کے بنیادی مسئلہ کے طور پر ابھارا ہے۔میڈیا میں بھی اس مسئلے کو اس طرح سے لیا جا رہا ہے جیسے یہی پاکستان کا سب سے اہم ترین مسئلہ ہو اور مہنگائی، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ یا ملک میں پھیلتی ہوئی انارکی ثانوی مسائل ہوں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں جزوی یا کلی طور پر نکال لے گا تو کیا پاکستان کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے۔ ہمارے خیال میں پاکستان کے بنیادی مسائل وہیں کے وہیں رہیں گے بلکہ ان میں اضافہ ہی ہو گا۔

پہلے جب روس نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لی تھیں اور مجاہدین فتحیاب ہوئے تھے تو امریکہ نے پاکستان سے نہ صرف لاتعلقی اختیار کر لی تھی بلکہ اس نے معاشی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔ عنوان بتاتے ہیں کہ اب امریکہ اپنے سابقہ رویّے کو نہیں اپنائے گا، نہ ہی وہ مکمل طور پر لاتعلقی اختیار کرے گا اور نہ ہی معاشی پابندیاں عائد کرے گا لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کی مالی امداد ویسے جاری نہیں رکھے گا جیسے اب ہے۔ اس وقت صرف امریکہ پاکستان کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ امداد فراہم کرتا رہتا ہے۔ اس کے الٹ پاکستان کے چین یا سعودی عرب جیسے دوسرے اتحادی ممالک مختلف منصبوں میں حصہ لے سکتے ہیں لیکن بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لئے امداد دینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ وزیراعظم نوازشریف صاحب نے حکومت سنبھالنے کے بعد چین، سعودی عرب اور ترکی جیسے دوست ممالک کا دورہ کیا اور غالباً کوشش کی کہ ان میں سے کوئی دوست ملک پاکستان کے بنیادی بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے امداد دے اور پاکستان کو آئی ایم ایف یا امریکہ سے رجوع نہ کرنا پڑے لیکن اس میں کامیابی حاصل نہ ہونے پر پاکستان کو آئی ایم ایف اور امریکہ پر دوبارہ انحصار کرنا پڑا۔

پاکستان کیلئے بجٹ کا خسارہ مستقل نوعیت کا مسئلہ ہے کیونکہ اس کے اخراجات اس کی آمدنی سے ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں۔ ریلوے، اسٹیل مل ، پی آئی اے جیسی کارپوریشنوں میں کئی سو بلین کا گھاٹا پڑتا ہے۔ مزید برآں پاکستان کو بجلی، گیس اور کھاد وغیرہ کی فراہمی کیلئے بھی زرتلافی دینا پڑتی ہے۔ ان سب ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ریاست کی آمدنی کہیں کم رہتی ہے کیونکہ اس کا ٹیکسوں کا نظام نہایت ناقص ہے۔ نتیجتاً نوٹ چھاپ کر گھاٹا پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں رہے یا نہ رہے، وہ ڈرون حملے کرے یا نہ کرے پاکستان کا بجٹ خسارہ اپنی جگہ پر قائم رہے گا اور مہنگائی کا طوفان قابو میں نہیں آئے گا۔

پاکستان میں بجٹ خسارے سے بھی زیادہ اہم مسئلہ آبادی میں غیر معمولی اضافے کا ہے۔ اس وقت پاکستان میں آبادی کی شرح اضافہ دنیا میں بلند ترین سطح پر ہے اور وسائل میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر پاکستان کی معیشت میں تین یا چار فیصد اضافہ بھی ہو رہا ہو اور آبادی کی شرح بھی دو یا تین فیصد کے درمیان رہے تو صورت حال معاشی انحطاط کی ہی ہوگی۔ معاشی ترقی کو آبادی کا اضافہ نگلتا جائے گا۔ آبادی کے اضافے سے نہ صرف معیشت سکڑتی چلی جاتی ہے بلکہ غربت اور بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے معاشی ومعاشرتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ چین دنیا میں تیز ترین معاشی ترقی کر رہا ہے لیکن اس نے ون چائلڈ پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو چین کی ترقی کا ایک راز اس کے آبادی کے کنٹرول میں بھی ہے۔ پاکستان میں ہر سیاسی جماعت مذہبی انتہا پسندوں کے خوف کی وجہ سے اس مسئلے کے بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ امریکہ افغانستان میں رہے یا واپس چلائے، وہ ڈرون حملے کرے یا نہ کرے اس سے پاکستان میں آبادی کے اضافے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سیاسی اور سماجی سطح پر پاکستان میں فرقہ واریت ملک کو غیر مستحکم کرنے میں بہت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ فرقہ واریت کے بیج انیس سو ستر کی دہائی میں بوئے گئے تھے جو اب گھنے جنگلوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں ۔ ملک کا ہر فرقہ دوسرے کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ سانحہ راولپنڈی جیسے واقعات وقفے وقفے سے ہر وقت ہوتے رہتے ہیں۔ فرقہ واریت میں ہزاروں بے گناہ اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ سیکڑوں مزاروں کی بے حرمتی ہو چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے فرقہ پرستی کو ہوا دے رہی ہوں لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مسئلہ پاکستانی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ یہ مسئلہ بھی امریکہ کی افغان جنگ سے بہت پہلے شروع ہوا تھا اور خدانخواستہ امریکیوں کے افغانستان سے باہر نکل جانے کے بعد بھی اس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک پاکستانی ریاست اپنی بنیادی داخلی اور خارجہ پالیسیاں تبدیل نہیں کرتی۔

فرقہ واریت کی طرح بلوچستان کا مسئلہ بھی امریکیوں کی افغانستان میں دراندازی سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ پاکستان کی تخلیق سے اب تک کئی مرتبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی یورشیں ہو چکی ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بلوچ پاکستان کی معیشت کا اس طرح سے حصہ نہیں بن سکے جس طرح پشتون اور دوسری قومیتوں کے لوگ بنے ہیں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے پورا ملک فیضیاب ہو رہا ہے لیکن اس صوبے کی پسماندہ حالت میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بلوچ مستقلاً ناراض ہیں۔ غالب امکان ہے کہ بھارت اور افغانستان بلوچ علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہے ہیں لیکن اس کا تعلق بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ہے۔ امریکہ افغانستان میں رہے یا نہ رہے لیکن پاکستان اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتا لہٰذا اسے انہی کے ساتھ نباہ کرنا ہے۔ پاکستانی ریاست کے لئے بلوچ علیحدگی پسندی اہم ترین مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی پاکستان کو خود ہی نکالنا ہے۔اسے خود ہی بلوچوں کی ناراضی دور کرنا ہے اور اپنے ہمسایوں کو دخل اندازی سے روکنے کے لئے خارجہ پالیسی میں مناسب تبدیلیاں کرنا ہے۔

مندرجہ بالا چند بنیادی مسائل کے سیاق و سباق میں ہی دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر مسائل داخلی نوعیت کے ہیں اور ان کا امریکہ کی افغان پالیسی یا ڈرون حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جیسی پارٹیوں کی ناکامی یہ ہے کہ وہ ڈرون جیسے مسائل کو بنیادی قرار دیتے ہوئے اصل مسائل کا حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹیاں کبھی عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکتیں۔ قوی امکان ہے کہ تحریک انصاف بھی جماعت اسلامی کی طرح غیر مقبول پارٹی بن جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں