.

افغانستان سے امریکی فوجوں کی روانگی

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت نے ایک عرصے سے امریکہ کی مدد سے افغانستان میں قدم جمانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا اب اس کے بارے میں خود بھارت، عوام، افغانستان میں کام کرنے والی کمپنیاں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی جانے والی حکومت تذبذب کا شکار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

2014ء کے بعد جب ایساف فوجیں افغانستان سے چلی جائیں گی تو پھر سکیورٹی کے کیا حالات ہوں گے اور بھارت کی طرف پھیلایا ہوا کاروباری جال، اس سے حاصل ہونے والی مراعات اور وہ خام مال جسے بھارت لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کا کیا حال ہو گا۔ اگر امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوجیں رکھی بھی تو ان کی تعداد اس قدر تو نہیں ہو سکتی کہ وہ بھارت کے معاملات اور کاروبار کو بھی سکیورٹی مہیا کر سکیں۔ ہاں البتہ امریکی فوجیں صرف اپنی حد تک تو اپنے مفادات کی ضرور محافظ رہیں گی۔ یہی غم اور فکر بھارت کو ہے کہ 2014ء میں امریکی فوجوں کے جانے کے بعد بھارت کا افغانستان میں کیا بنے گا۔

اس سوچ کے تحت فی الحال بھارت نے دو اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلا قدم یہ ہے کہ بھارت نے افغانستان میں خام لوہے کی پیداوار کی ترقی کے سلسلے میں 11 ارب ڈالر کا ایک منصوبہ شروع کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ فوری طر پر اسے کم کر کے 1.5 ارب ڈالر تک لایا گیا ہے تا کہ 2014ء کے بعد کی صورت حال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ بھارت نے افغانستان میں موجودہ حکومت کے علاوہ ’’دوسرے‘‘ دوستوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بھارت کو معلوم ہے کہ موجودہ حکومت کا وقت ختم ہونے کو ہے اور آئندہ حکومت اگر انتخابات شفاف ہوئے تو ان کی حمایت یافتہ حکومت بھی نہیں آپائے گی۔ اس لیے افغانستان میں ایسے گروپوں کی حمایت حاصل کی جائے جو کہ انہیں ایساف فوجوں کی واپسی اور حامد کرزئی کی حکومت کے اختتام کے بعد افغانستان میں زمینی حمایت دے سکیں۔ بھارت کے یہ دونوں اقدامات اہم ہیں اور ان کی تفصیلات میں جانے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیہ بھی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ان اقدامات کے مضمرات اور نتائج تک پہنچا جا سکے۔

بھارت کا پہلا قدم بڑا ہم ہے ۔ امریکہ کی افغانستان میں آمد کے بعد بھارت کو بڑے اہم مواقع دیے گئے تا کہ وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت نے دنیا کو دکھانے کے لیے 2 ارب ڈالر کے منصوبے شروع کیے اور انہیں دانستہ اس قدر سست رفتار کیا گیا کہ کام بھی نہ ہو اور ہوتا بھی نظر آئے۔ اس کی یہ منصوبہ بندی کامیاب رہی۔ اس پردے میں ہزاروں بھارتیوں کو افغانستان میں وارد ہونے کا موقع ملا جنہوں نے افغانستان میں کام کرنے والی دیگر غیر ملکی کمپنیوں کے ٹھیکے لیے۔ ان میں ملازمتیں لیں اور پوری دنیا سے آنے والے ڈلالر جیب میں ڈال کر چلتے بنے۔ افغانستان میں چلنے والے منصوبے زیادہ تر سکیورٹی کا بہانہ بنا کر کاغذوں تک محدود رکھے گئے۔ ان منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی جس سے براہ راست یا بالواسطہ بھارت کو مستقبل میں فائدہ پہنچ سکے۔

مثلاً بھارت نے 2006ء میں دریا ہری پر سلمہ ڈیم بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ اس منصوبے پر 200 ملکین ڈالر کی رقم خرچ ہونے تھی۔ اس منصوبے میں 75000 ہیکٹر زمین کی سیرابی کے لیے پانی اور 42 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس منصوبے کو 2010ء میں مکمل ہونا تھا۔ لیکن آج تک یہ منصوبہ نامکمل ہے۔ جنوری 2013ء میں بھارتی کیبنٹ نے اس منصوبے کی منظوری اور رقم کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ منصوبہ دسمبر 2014ء تک مکمل ہو گا۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بھارتی کمپنی واپکوس لمیٹڈ نے 1988ء میں بھی شروع کیا تھا لیکن اس کے بعد اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس وقت سے آج تک یہ منصوبہ بھارتی کمپنیوں اور حکومت کے درمیان مشکلات کا شکار ہے اور نامکمل ہے۔

بھارت نے اب تک افغانستان میں ترقیاتی منسوبوں کے دوا دوار کیے ہیں۔ جن کی کل مالیات 20 ملین ڈالر ہے۔ ان میں چھوٹے چھوٹے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ ان دونوں ادوار میں شامل چھوٹے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ تیسرے ترقیاتی منصوبوں کے مرحلے کے سلسلے میں بھارت اور افغانستان مٰں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ نومبر 2012ء میں دستخط ہونے کے باوجود ابھی تک عملی طور پر معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 100 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے جس کا دورانیہ اگلے چار سال تک ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک منصوبے کی لاگت 1 ملین ڈالر سے زائد نہیں ہو سکے گی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے مطابق افغانستان کے 34 صوبوں میں بھی ایسے منصوبے لگائے جائیں گے جن پر ہر صوبے میں 2 ملین ڈالر تک کی رقم خرچ ہو گی۔ ان منصوبوں میں غربت مکاؤ، خواتین کی ترقی، بچوں کی بہبود وغیرہ شامل ہیں لیکن یہ تمام منصوبے ابھی تک کاغذی مشکل میں ہیں اور خاص طور پر موجودہ صورت حال میں ان پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

سب سے بڑا منصوبہ جس کا شروع میں ذکر کیا گیا ہے جس کی مالیت 11 ارب ڈالر تھی۔ اس کے تحت خام لوہے کی ترقی تھی۔ افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر کے خام لوہے کے ذخائر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ افغان آئرن اینڈ سٹیل کنشوریم جو کہ ایک سرکاری کمپنی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا اس کا نام سٹیل اتھارٹی آف انڈیا ہے۔ اس میں چھ کمپنیاں شامل ہیں۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 800 میگاواٹ کا پاور پلانٹ بھی لگایا جانا تھا جس کے ساتھ بجلی کی ترسیل کے لیے لائن بھی بچھائی جانی تھی۔ مزید برآں 900 کلو میٹر لمبی ریلوے لائن بچھائی جانی تھی جو کہ افغانستان میں بامیان سے لے کر ایران کے صوبے زاہدان میں چابہار بندر گاہ تک جانی تھی۔ اس ریلوے لائن کو بچھانے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان سے خام لوہا نکال کر بذریعہ ریل چابہار بندرگاہ لے جا کر بحری جہازوں کے ذریعے اسے بھارت منتقل کیا جا سکے۔

اب اس منصوبے پر بھی چپ سادھ لی گئی ہے۔ اور اس میں صرف 1.5 ارب ڈالر تک کی رقم لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔ افغانستان کی حکومت شش و پنج کا شکار ہے اور اس مرحلے پر جب خود افغان حکومت جانے والی ہے وہ ان منصوبوں کی رفتار، عمل درآمد اور مستقبل کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہے۔ بھارتی حکومت اپنے 2014ء کے بعد کے خدشات کے سبب افغانستان میں مزید منصوبے شروع کرنے کے حق میں نہیں۔ جہاں تک بھارت کا افغانستان میں دوسرے گروپوں سے مراسم بڑھانے کی بات ہے۔ اس سلسلے میں اطلاعات ہیں کہ بھارت طالبان کے پاکستان میں سابق سفیر ملا ضعیف سے رابطہ میں ہے۔ اپریل 2014ء کے انتخابات کی غیر یقینی صورت حال کے سبب یہ رابطے کھلے طو رپر بھی ممکن نہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ملا ضعیف کو بھارت کا ویزا دیا گیا ہے اور انہیں دعوت بھی دی گئی ہے تا کہ وہ دوسرے گروپوں سے رابطوں کے سلسلے میں کام کر سکیں۔ اس سے قبل بھی بھارتی حکام نے ملاضعیف سے 2010ء میں بھی رابطے استوار کیے تھے لیکن انہیں اس سلسلے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔

ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت افغانستان میں اپنے معاملات کو 2014ء کے بعد مثبت انداز میں آگے بڑھتے نہیں دیکھ رہا۔ ترقیاتی منصوبوں میں سست روی اور رابطوں کی لائن کی تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اب نئی حکمت عملی کے بارے میں فکر مند ہے۔ بھارت نے گزشتہ دس سال میں افغانستان میں جس قسم کی سفارتی، تجارتی، ترقیاتی اور مالی پالیسیاں رکھی ہیں اور ان میں صرف ایک خاص طبقے تک محدود رہا ہے اس کو افغان عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ خاص طور پر دوسرے ملکوں سے آنے والی ترقیاتی رقوم کو بھارت نے اپنی طرف کھینچنے کی جس طرح کوشش کی ہے۔ افغان عوام کو اس امداد سے خاطر خواہ فوائد نہیں مل سکے۔ دراصل بھارت کا خواب پاکستان اور ایران کے راستے سے افغانستان کے تجارتی راستوں پر اپنا تسلط قائم کر کے وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنا تھا جو کہ ان حالات میں شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس لیے بھارتی ترقیاتی منصوبے بھی بند ہو رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.