.

دن گنے جاتے تھے اس دن کیلئے

ارشاد احمد عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تو کیا شیخ رشید احمد جیسے سیاسی مخالفین کا اندازہ درست تھا کہ میاں صاحب کو آرمی چیف اور چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کا انتظار ہے پھر وہ کھل کھیلیں گے۔ چیئرمین نادرا طارق ملک کو رات کے اندھیرے میں برطرف کیا گیا کوئی شوکاز نوٹس نہ فرد جرم اور نہ کوئی قانونی اخلاقی جواز، یہ مستقبل کے انداز حکمرانی کی جھلک ہے؟

11مئی کے انتخابات آج تک اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، اے این پی، جماعت اسلامی سب نے دھاندلی کا شور مچایا اور حیرت انگیز طور پر نتائج کو قبول بھی کر لیا۔ عمران خان نے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی اور نشان انگوٹھا چیک کرنے کا مطالبہ کیا تو وزیر داخلہ نثار علی خاں نے خوش دلی سے جواب دیا چار کیوں؟ چالیس کیوں نہیں مگر نوبت آج تک ایک حلقے میں جانچ پڑتال کی نہیں آئی۔ کراچی میں ایک دو حلقے چیک ہوئے تو حیرت انگیز اور ہوشربا نتائج سامنے آئے ۔83ہزار ووٹوں میں سے صرف سات ہزار درست باقی جعلی غیر تصدیق شدہ اور دس دس بارہ بارہ بیلٹ پیپرز پر ایک نشان انگوٹھا۔

پنجاب میں انتخابی عذرداریاں غیر معمولی تاخیر اور الیکشن ٹربیونلز کی بے اعتنائی کا شکار ہیں لاہور کے حلقہ 118مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے اور محفوظ نشست تحریک انصاف کے خالد زمان حلقہ سیاست میں نووارد ہیں اور عملاً انتخابی پیچیدگیوں سے نابلد مگر جب الیکشن ٹربیونل کی ہدایات پر نادرا نے اس حلقے کے ووٹوں کی دوبارہ سائنسی انداز میں گنتی اور نشان انگوٹھا چیک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو تخت لاہور اور اسلام آباد میں بھونچال آ گیا چیئرمین نادرا کو دبائو میں رکھنے کے لئے کارروائیوں کا آغاز چند ماہ پہلے کر دیا گیا تھا انہیں اقوام متحدہ کے ایک پروگرام کے تحت ایک سو اسی ممالک کے نمائندوں کو نادرا کے پروگرام اور منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دینے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت ملی نہ اپنے افسروں کو سری لنکا بھیجنے کی جہاں سے نادرا کو سات ارب روپے کی بازیافت ہوگی اور تیس ارب روپے کے مزید کنٹریکٹ ملنے کی توقع ہے۔

حلقہ 118کے ووٹوں کی جانچ پڑتال سے روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر جو کدّوکاوش ہوئی اس کی تفصیل اخبارات میں چھپ چکی، طارق ملک کو رات دو بجے برطرف کرنے کی کہانی بھی،مگر سوال یہ ہے کہ عوامی مقبولیت کے دعویدار حکمران ووٹوں کی سائنسی انداز میں جانچ پڑتال سے خوفزدہ کیوں ہیں ؟کیا اپنے مخالفین کی طرح انہیں بھی یقین ہے کہ جسٹس (ر) فخر الدین ابراہیم جیسے نیک نام شخص کی سربراہی میں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا اور 11مئی کو وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی، جس کا پول دوبارہ گنتی اور نشان انگوٹھا چیک کرنے سے کھل جائے گا اور حکومت کے قانونی جواز اور اخلاقی ساکھ پر سوالیہ نشان لگنے کا خدشہ ہے ؟ یا گربہ گشتن روز اول کے مصداق حکومت طارق ملک کی برطرفی کی صورت میں قومی اداروں کے سربراہوں اور بیورو کریسی کو دو ٹوک پیغام دینا چاہتی ہے کہ کاروبار حکمرانی اس انداز میں چلے گا۔ لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو۔

گویا طے یہ ہوا کہ وفاقی یا صوبائی حکمران ہی نہیں حکمران جماعت کا کوئی ایم این اے ،ایم پی اے بھی جو قانونی ، غیر قانونی حکم دے اس کی بلاتاخیر ،بے چوں وچرا تعمیل کی جائے اور کسی قاعدے، قانون ، اخلاقی ضابطے اور عدالتی فیصلے کے علاوہ آئینی موشگافی کو تعمیل حکم میں آڑے نہیں آنا چاہئے ۔ جس کو ایمانداری، اصول پسندی اور قانون و ضابطے کی پابندی کا ہیضہ ہے وہ چھٹی پر چلا جائے، استعفیٰ دے یا چشم پوشی کرکے حکمرانوں کی مدد کرے اور یہ بھول جائے کہ موجودہ حکمران آصف علی زرداری کے دور میں چونکہ میرٹ، انصاف، قاعدے قانون اور رول آف لاء کا وظیفہ پڑھا کرتے تھے اس لئے افسر بن کر معاملات کتاب کے مطابق چلانے کی آزادی ہو گی ۔

تو کیا حکمرانوں نے چیف آف آرمی سٹاف کے مرضی کے مطابق تقرر اور نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے ساتھ ہی کھل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور سمجھنے لگے ہیں کہ اب ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ آئین و قانون، عدلیہ نہ میڈیا، جنگل کا بادشاہ جو کریں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ورنہ طارق ملک کو برطرف کرنے سے قبل وہ ضابطے کی رسمی کارروائی ضروری کرتے۔ شائد وہ بھول رہے ہیں یہ نوے کا عشرہ نہیں جب آزاد عدلیہ تھی نہ فعال میڈیا اور نہ حکمرانوں کے نقطہ نظر سے ’’ہٹ دھرم‘‘ ضدی‘‘ اور ’’ناک کی سیدھ میں چلنے والے ‘‘ افسروں کا کوئی پرسان حال؟

اگر حکمران حلقہ 118کے نتائج سے خوفزدہ ہیں تو دیگر حلقوں کا کیا بنے گا جہاں عمران خان، جہانگیر خاں ترین اور دیگر مضبوط و مقبول امیدوار رات بارہ بجے تک جیتتے جیتتے اچانک ہارنا شروع ہو گئے اور پھر ہارتے ہی چلے گئے۔ طارق ملک کی برطرفی صرف ملک میں مضبوط ہوتی قانون و ضابطہ پسندی کے لئے شرمناک جھٹکا نہیں بلکہ حالیہ عام انتخابات میں پہلی بار پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے والے نوجوان،پڑھے لکھے، پرجوش ووٹروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بھی جو حکمرانوں ، سیاست دانوں اور الیکشن کمیشن کے دعوئوں اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ پہلی بار ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے تبدیلی کا امکان ہے اور تبدیلی اقتدار کے پرامن آئینی راستے مسدود نہیں ہوئے جو لوگ اپنے آپ کو اپنے خاندان کو خطرات میں ڈال کر گھروں سے باہر نکلے اور اپنے ووٹ کو مقدس قومی امانت سمجھ کر استعمال کیا وہ اب کیا سمجھیں؟ اس ملک میں دن دہاڑے انتخابی رہزنی ممکن ہے اور انتخابی رہزنی کی روک تھام کے لئے نادرا کے میکنزم کو بزور قوت ناکام بنانا بھی آسان، ایک حلقے میں دوبارہ گنتی حکمرانوں کو گوارا نہیں تو چالیس حلقوں میں گنتی کس طرح ممکن ہے اور ہاں الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا منصوبہ بھی کھوہ کھاتے۔

مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور دہشت گردی روکنے میں بری طرح ناکام حکومت اگر تقرر و تبادلوں میں من مانی پر اتر آئے ۔ہر بااصول افسر یہ سمجھنے لگے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے کے قابل نہیں اور صرف کاسہ لیس ، تابعدار ، اشارہ ابرو کے منتظر افسر ہی حکمرانوں کی ترجیح ہیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ر یاستی معاملات میں اصلاح احوال کی خواہش کو مایوسی میں بدلتے کتنی دیر لگے گی اور حکومت کا صرف عدلیہ میں نہیں فوج اور میڈیا کے ساتھ اٹ کھڑکا شائد دور کی بات نہ ہو۔

قوم کو امید تھی کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ ایک غیر قانونی، غیر آئینی فوجی حکومت کے زخم خوردہ حکمران اپنے وعدوں اور دعوئوں کے مطابق اس ملک میں نہ صرف شفاف احتساب کے ذریعے ماضی کی لوٹ مار کا حساب لیں گے بلکہ قاعدے قانون اور ضابطوں کی پابندی کا اہتمام کریں گے اور بااصول، ایماندار اور فرض شناس افسروں کی حوصلہ افزائی کرکے رول آف لاء کو یقینی بنائیں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، پہلی برطرفی نے ڈھول کا پول کھول دیا اگلی تقرریوں اور تبادلوں کا عالم کیا ہو گا؟ شاید عدلیہ اور میڈیا کا کام بڑھ جائے دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.