.

پاکستان کا واٹرگیٹ سکینڈل

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نادرا کے چیئرمین طارق ملک کے خلاف کارروائی کے لئے رات گئے پرائم منسٹر ہاﺅس کو کھولا گیا۔ اس سے قبل طاقتور حکومتی عہدیدار وںنے انہیں خبردار کیا کہ وہ لاہور کے ایک حلقہ میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق سے باز رہیں۔طارق ملک نے حرف انکار بلند کیا، وہی حرف انکار جو مشرف اور اس کی طاقتور فوجی ٹیم کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے سننا پڑا۔

نادرا سربراہ کا حرف انکار اور اس کے خلاف حکومتی شب خوں، پاکستانی تاریخ کا ایک سنگین واٹر گیٹ اسکینڈل ہے۔ امریکی صدر نکسن نے اپنی مخالف پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میںنقب لگائی، واشنگٹن پوسٹ نے اس کا بھانڈا پھوڑا ، نکسن اور اس کی حکومتی ٹیم نے پردہ پوشی کی کوشش کی مگر گرہیں کھلتی چلی گئی اور آخر نکسن کو ذلت سے مستعفی ہونا پڑا۔

طارق ملک سے کہا گیا کہ وہ ن لیگ کے ایک رکن اسمبلی کے حلقے میں انگوٹھوں کی تصدیق سے باز رہیں تاکہ الیکشن دھاندلی کا راز نہ کھل سکے،اس معاملے کو جس قدر دبایا جائے گا، سول سوسائٹی اتنا ہی کھل کر مطالبہ کرے گی کہ ایک حلقے پر کیا موقوف، تمام انتخابی حلقوں کے انگوٹھوںکی تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے حالیہ الیکشن کا کچا چٹھا کھل سکتاہے جس میں ہارنے اور جیتنے والے ہر فریق نے الزام عائد کیا کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ، دھاندلا ہوا ہے ۔

اگر حکومت ایسی ہی نیک پروین ہے اور دودھوںنہائی ہوئی ہے تو وہ انتخابی عمل کی جانچ پڑتال کے عمل پر اس قدر سیخ پا کیوں ہے کہ ڈاکٹر فتح محمد ملک جیسے نیک نام پاکستانی، ممتاز دانشور، محقق اور نوائے وقت کے کالم نگار کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر ہٹا کر ایک بڑے آدمی کے رشتے دار کو چیئر مین نادرا لگا دیا گیا،عدالت نے اگلی صبح ہی انصاف کر دیا۔

میںیہاں بتاتا چلوں کہ نادرا، پاکستان ہی کا نہیں، ایک عالمی سطح کی شہرت اور مہارت کا حامل ادارہ ہے۔ ایسے ادارے راتوں رات تباہ تو کئے جا سکتے ہیں ، کھڑے نہیں کئے جا سکتے۔نادرا کی کامیابیوں کا تذکرہ کسی ضخیم باب اور کتاب کا متقاضی ہے۔

میری نسل کے لوگوں کو پی آئی اے کا وہ اشتھار نہیں بھولتا جس میں یہ سلوگن نمایاں کیا گیا تھا کہ ہم نے دنیا کو اڑنا سکھایا۔اس اشتھار میں جن فضائی کمپنیوں کے نشان شامل کئے گئے تھے، وہ آج مانی ہوئی اور کامیاب تریں ایئر لائنیں ہیں جبکہ پی آئی اے سسکیاں لے رہی ہے۔آج پاکستان میں نادرا ہی واحد ادارہ ہے جس پر ہم مان کر سکتے ہیں اور جس کی مہارت کا لوہا ایک دنیا مانتی ہے۔حکومت کے دیگر ادارے نقصانات کی وجہ سے فروخت کیئے جا رہے ہیں ، ہسپتالوںمیںموت بانٹی جا رہی ہے، اسکولوں میں جہالت کو فروغ دیا جارہا ہے،سیکورٹی ادارے بد امنی کے سامنے لرزہ بر اندام ہیں، اس ماحول میں اگر ایک ادارہ کامیابی کی منزلیں پھلانگ رہا ہے تو کیا ضروری ہے کہ اس کو بھی مفلوج بنا دیا جائے۔

ملک میں اس سال الیکشن ہوئے، یہ اچھی بات تھی، حکومت کی تبدیلی لوگوںکے ووٹوں سے ہونی چاہئے لیکن اس الیکشن پر بھی اسی قسم کے شکوک و شبھات کا اظہار کیا گیا جیسا پہلے الیکشنوں پر انگلی اٹھائی جاتی تھی۔الیکشن سے پہلے شیخ الاسلام کینیڈا سے ا ٓئے اور انہوںنے انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کیا ، ہم نے ان کو غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار کہہ کر بھگا دیا اور ان کی بات نہ سنی۔ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے ، یہ دیکھوکہ کیا کہہ رہا ہے۔ ہم نے بڑی ڈھٹائی سے انتخابات کے دوران آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کا مذاق اڑایا ، ایساہی مذاق آئین کے آرٹیکل چھ کا کچھ فوجی سربراہ اڑاتے رہے تھے جنہوںنے مارشل لا نافذ کیا ، انہوںنے آرٹیکل چھ کو رونداا ور ہم نے ایک نہیں ،آئین کے دو آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ کے پرخچے اڑا دیئے اور انہیںتمسخر کی نذر کر دیا۔آئین کا اگر ایک آرٹیکل اتنامحترم ہے کہ اس کے تحت مشرف پر غداری کا مقدمہ بن سکتا ہے تو دوسرے آرٹیکلز سے انحراف کرنے والوں کو مقدس گائے کا رتبہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ہمیںنہیں بھولنا چاہئے کہ بھٹو نے ستتر کے الیکشن میں دھاندلی کی اور قوم اس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی۔اس سے قبل ستر کے الیکشن کے نتائج کو قبول نہ کر کے ہم نے ملک دو لخت کروا لیا۔اٹھاسی کے بعد نوے تک جتنے الیکشن ہوئے، ان پر انجینیئرڈ اور کمپیوٹرائزڈ نتائج کی پھبتی کسی گئی۔ملک میں دو پارٹیا ں تھیں ، دونوں نے ایک دوسرے کی کامیابی کو تسلیم نہ کیا اور دونوں کو ہی اپنی اپنی ٹرم پوری کرنے کی توفیق نہ ہوسکی۔مشرف دور میں الیکشن ہوئے، ان کے نتائج تیار کرنے کا الزام جس ہستی پر ہے، آج کل ایک اخبار ان کے کالم چھاپ رہا ہے، وہ خود ہی بہتر طور پربتا سکتے ہیں کہ انہوںنے کیا واردات کی یا نہ کی۔ مگران کی تیار کردہ ق لیگ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔

انتخابی نتائج پر ملک میں کبھی اعتماد کا اظہار نہیں کیا گیا تو کیوں نہ آج ہم پوری طرح چھان بین ہونے دیں، اس سے کوئی قیامت تو نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ زیادہ سے زیادہ کئی حلقوںمیں نئے سرے سے الیکشن ہو جائیں گے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میںمک مکا ہے تو نتیجے میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا، صرف پنجاب کی چند نشستیں تحریک انصاف کو چلی جائیں گی۔ سندھ کے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ، ہاں ، حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد میں کمی واقع ہو جائے گی، مگر یہ حقیقت بھی کھل جائے گی کہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف اکثریت کیسے لے گئی۔

اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ملک کی نئی تعلیم یافتہ ، رشن خیال نسل کسی کی دھونس کو ماننے کے لئے تیار نہیں، سوشل میڈیا بے حدفعال ہے،ملکی میڈیا باشعور ہے اور وہ جنگل کے قانون کی فرمانروائی کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر عدلیہ چوکس ہے، اس کے ہوتے ہوئے لا قانونیت کا تصور بھی نہیںکیا جا سکتا۔ میں داد دیتا ہوں کہ لا پتہ افراد کے نازک اور حساس مسئلے پر عدلیہ کس دھیرج مگر پر عزم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ آج کے عالمی ماحول میں جمہوری، پارلیمانی، قانونی اور مہذب روایات کا احترام ضروری ہے۔ملک کے معاملات کو جاگیر دارانہ، وڈیرہ شاہی،کارخانے دارانہ سوچ یا مارشل لا کے ڈیڑھ فٹ لمبے ڈنڈے سے نہیں چلایا جا سکتا۔

واٹر گیٹ اسکینڈل پر امریکی حکومت کو سر جھکانا پڑا تھا، پاکستان میں بھی ایسی غیر قانونی حرکت کو کسی نے پذیرائی نہیں بخشی، نادرا کے سربراہ طارق ملک کی کسی بہانے چھٹی بھی کرا دی جائے، تب بھی ملک کا ہر ذی شعور شہری طارق ملک کا کردار ادا کرے گا، وہ اس واٹر گیٹ اسکینڈل کے تارو پود بکھیر کر رکھ دے گا۔پاکستان ایک جمہوری اسلامی ریاست کانمونہ بنانے کے لئے حاصل کیا گیا تھا، قائد اور اقبال کے افکار بڑے واضح ہیں ، ان میں لا قانونیت اور من مانی کی قطعی گنجائش نہیں۔اب عوام کو پتہ چلنا چاہئے کہ کیا ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور اگر چوری ہوا تو کس کے ہاتھوں۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.